Thursday, August 13, 2026
 

ایران امریکا جنگ بندی میں توسیع کا امکان؛ عالمی منڈی میں خام تیل مزید سستا ہوگیا

 



ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کا امکان روشن ہونے کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ اور امریکی خام تیل دونوں کی قیمتوں کمی دیکھی گئی ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق تجارتی اعداد و شمار کے تحت برینٹ خام تیل کے اکتوبر ڈلیوری کے سودوں میں 1.29 ڈالر یعنی تقریباً 1.5 فیصد کمی ہوئی جس کے بعد قیمت 87.69 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل بھی 1.30 ڈالر یا 1.6 فیصد سستا ہوکر 81.97 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔ عالمی منڈی میں اس کمی کی بڑی وجہ 2026 میں عالمی سطح پر تیل کی طلب کے کمزور رہنے کی توقع اور امریکا میں خام تیل کے ذخائر میں اضافے کی اطلاعات کو قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم ایران جنگ اور آبنائے ہرمز سے متعلق خطرات نے قیمتوں میں مزید بڑی گراوٹ کو محدود رکھا ہے۔ عالمی تجارت میں قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ بھی دیکھا گیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کار مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، تیل کی طلب اور امریکی ذخائر سے متعلق نئی اطلاعات کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق سرمایہ کاروں کی توجہ اس وقت 2026 میں عالمی سطح پر تیل کی طلب کے کمزور امکانات پر مرکوز ہے۔ اوپیک سمیت عالمی توانائی کے اداروں کی جانب سے طلب کے تخمینوں میں کمی نے مارکیٹ میں یہ خدشہ پیدا کیا ہے کہ آئندہ مہینوں میں خام تیل کی کھپت توقع سے کم رہ سکتی ہے۔ تیل کی قیمتوں پر امریکا میں خام تیل کے ذخائر میں اضافے نے بھی دباؤ ڈالا ہے۔ زیادہ ذخائر عام طور پر مارکیٹ میں رسد کی دستیابی کا اشارہ دیتے ہیں جس کے نتیجے میں قیمتوں میں کمی کا رجحان پیدا ہوسکتا ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود ایران کے ساتھ جاری جنگ اور خلیج میں تیل کی ترسیل سے متعلق خدشات نے قیمتوں کو مکمل طور پر نیچے جانے سے روک رکھا ہے۔ خصوصاً آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی توانائی مارکیٹ کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ خلیج فارس سے تیل کی عالمی ترسیل کا ایک بڑا حصہ اسی سمندری راستے سے گزرتا ہے۔ تنازع کے باعث اگر اس راستے سے تیل کی ترسیل متاثر ہوتی ہے تو عالمی رسد میں اچانک کمی قیمتوں کو دوبارہ تیزی سے اوپر لے جاسکتی ہے۔ ماہرین کے بقول آنے والے دنوں میں عالمی تیل مارکیٹ میں طلب کے اعدادوشمار، امریکی ذخائر، ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی صورتحال قیمتوں کی سمت متعین کرنے والے بڑے عوامل رہیں گے۔ موجودہ کمی کو اس بات کا حتمی اشارہ نہیں سمجھا جارہا کہ تیل مسلسل سستا ہوتا رہے گا، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں سپلائی کے خطرات بدستور موجود ہیں۔ دوسری جانب اگر عالمی طلب کے تخمینے مزید کم ہوئے اور جنگ کے باعث اقتصادی سرگرمیاں متاثر ہوئیں تو خام تیل کی قیمتوں پر مزید اتار چڑھاؤ آسکتا ہے۔     

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل