Friday, August 14, 2026
 

ایران کی بحری ناکہ بندی کی امریکی دھمکی، تیل کی قیمتیں پھر اوپر چلی گئیں

 



امریکا کی جانب سے ایران کی بحری ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک جاری رکھنے کی دھمکی کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ہوگیا ہے۔ ایران سے خام تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات نے گزشتہ روز قیمتوں میں آنے والی کمی کے بعد دوبارہ مارکیٹ پر دباؤ بڑھا دیا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 9 سینٹ یعنی 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ 87.16 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت میں بھی 4 سینٹ کا اضافہ ہوا اور یہ 81.29 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی۔ اس سے ایک روز قبل دونوں اہم عالمی بینچ مارکس کی قیمتوں میں 2 فیصد سے زیادہ کمی ہوئی تھی۔ برینٹ کی قیمت میں مسلسل 6 سیشنز اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت میں مسلسل 5 سیشنز تک اضافے کے بعد یہ کمی سامنے آئی تھی۔ تاہم تازہ اضافے کے باوجود دونوں اقسام کے خام تیل کی قیمتیں رواں ہفتے مجموعی طور پر تقریباً 4 فیصد اضافے کی جانب گامزن ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں حالیہ اتار چڑھاؤ کی ایک بڑی وجہ ایران کے خلاف امریکی اقدامات اور آبنائے ہرمز کی صورتحال ہے۔ اگر ایران کی بحری تجارت اور تیل کی برآمدات طویل عرصے تک متاثر ہوتی ہیں تو عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی دستیابی پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ امریکی بحری ناکہ بندی سے متعلق دھمکی نے سرمایہ کاروں میں یہ خدشات دوبارہ پیدا کیے ہیں کہ مشرق وسطیٰ سے عالمی منڈیوں تک تیل کی سپلائی میں مزید رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے۔ دوسری جانب عالمی سطح پر تیل کی طلب میں کمزوری کے خدشات نے گزشتہ سیشن میں قیمتوں کو نیچے لانے میں کردار ادا کیا تھا۔ تاہم ایران سے متعلق تازہ صورتحال نے سپلائی کے خدشات کو دوبارہ نمایاں کردیا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل