Loading
شمالی عراق کے شہر اربیل میں جمعہ کی صبح متعدد ڈرونز کو فضا میں روک کر تباہ کیے جانے کی اطلاع ہے جبکہ ڈرونز کا ملبہ اربیل انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ایک رہائشی کمپلیکس پر جاگرا۔ واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
الجزیرہ کے مطابق عراقی سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ ڈرونز کو اربیل کے اوپر فضا میں روکا گیا۔ کارروائی کے بعد ان کا ملبہ ایئرپورٹ کے قریب رہائشی علاقے میں جاگرا، تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق کوئی شخص ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔
اربيل انٹرنیشنل ایئرپورٹ شمالی عراق کے کردستان ریجن کے دارالحکومت اربیل کا اہم ہوائی اڈہ ہے۔ واقعہ ایئرپورٹ کے اطراف پیش آنے کے باعث علاقے میں سکیورٹی صورتحال پر فوری توجہ مرکوز ہوگئی۔
مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ڈرون حملے کا ممکنہ ہدف اربیل ایئرپورٹ کے قریب موجود ایک امریکی فوجی اڈہ تھا۔ تاہم حملے کے مقصد اور ڈرونز کی شناخت کے حوالے سے مزید تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق ڈرونز کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی روک لیا گیا، جس کے نتیجے میں ان کا ملبہ مختلف مقامات پر گرا۔ ملبے کے رہائشی کمپلیکس کے قریب گرنے کے باوجود کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عراق میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کی سکیورٹی بھی اہم معاملہ بن چکی ہے۔
Drones reportedly intercepted over Erbil in northern Iraq, with wreckage falling on a residential complex near Erbil International Airport, though no casualties were confirmed https://t.co/RUm3mTFxAl pic.twitter.com/yJuK6hPrda
— Anadolu English (@anadoluagency) August 14, 2026
عراق میں ماضی میں بھی امریکی فوجی تنصیبات کو ڈرون اور راکٹ حملوں کا سامنا رہا ہے، تاہم تازہ واقعے کے حوالے سے فی الحال کسی فریق کی جانب سے باضابطہ طور پر ذمہ داری قبول کرنے کی اطلاع نہیں ہے۔
اربيل اور اس کے اطراف میں امریکی فوجی موجودگی کے باعث یہ علاقہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران اہم سکیورٹی پوائنٹ سمجھا جاتا ہے۔ واقعے کے بعد ممکنہ طور پر علاقے میں سکیورٹی انتظامات مزید سخت کیے جانے کا امکان ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل