Loading
وفاقی حکومت کی جانب سے بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانے اور ملک میں گندم کے ذخائر برقرار رکھنے کیلیے 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کے فیصلے کے چند روز بعد پنجاب اور سندھ نے درآمدی گندم خریدنے سے گریز شروع کردیا ہے جس کے باعث وفاقی حکومت مشکل صورتحال سے دوچار ہوگئی ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق دونوں بڑے گندم کی قلت کا سامنا کرنیوالے صوبوں نے درآمدی گندم کی خریداری کے حوالے سے اپنامؤقف تبدیل کیاہے اور مجوزہ سہ فریقی معاہدے پر بھی تاحال اپنی رائے وفاق کو نہیں دی،حکومت کو اب یہ فیصلہ کرناہے کہ درآمدی گندم کا بوجھ وفاقی وسائل سے اٹھایاجائے یا درآمد کا منصوبہ ترک کیاجائے،جس سے مستقبل میں گندم کی قلت اور قیمتوں میں مزید اضافے کاخطرہ پیداہوسکتاہے۔
وفاقی کابینہ رکن کے مطابق صوبوں سے آخری بار کہاگیاکہ وہ گندم کی اپنی ضروریات واضح کریں اور تحریری طور پر بتائیں کہ انہیں درآمدی گندم درکار ہے یانہیں؟ وفاقی حکومت کے پاس موجودذخائرصوبوں کی تمام ضروریات پوری کرنے کیلیے کافی نہیں، اس لیے گندم درآمدکرناناگزیر ہے۔
ذرائع کے مطابق 9 اگست اور بدھ کو ہونیوالے دونوں اجلاسوں میں صوبائی نمائندوں نے مؤقف اختیارکیاکہ انہیں درآمدی گندم نہیں بلکہ وفاقی ذخائرسے مقامی گندم فراہم کی جائے۔وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے زراعت احمد امیرکے مطابق وفاقی گندم ذخائر میں سے صوبوں کوگندم فراہم کرنے کااختیاروفاقی حکومت کے پاس ہے،فیصلہ کیاگیاکہ مقامی اور درآمدی گندم تمام صوبوں کو متناسب بنیادوں پر فراہم کی جائیگی۔
پنجاب نے ابتدائی طور پر 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم خریدنے کاعندیہ دیاتھا، تاہم بعد ازاں اپنی طلب کم کرکے 8 لاکھ ٹن کردی۔ 9 اگست کے اجلاس میں پنجاب کے نمائندے نے واضح کیاکہ صوبے کو درآمدی گندم کی ضرورت نہیں۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں وفاقی وزیر راناتنویر حسین نے پنجاب کے نمائندے کے بیان کوریکارڈ پر لینے کی ہدایت کی اورکہاکہ مستقبل میں صوبائی حکومت گندم کی قلت یا قیمتوں میں اضافے کاذمہ دار وفاق کو نہ ٹھہرائے۔پنجاب کاکہنا ہے کہ اسے وفاقی ذخائر سے 8 لاکھ میٹرک ٹن گندم فراہم کی جاچکی،جس میں سے 5 لاکھ 33 ہزار ٹن گندم پاکستان ایگریکلچر اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) کے گوداموں سے ابھی اٹھائی جانی ہے۔
پنجاب نے کسانوں سے بھی تقریباً 5 لاکھ ٹن گندم خریدی ہے،جبکہ اس کاسرکاری ہدف 30 لاکھ ٹن تھا۔دوسری جانب سندھ حکومت نے بھی اجلاس میں درآمدی گندم لینے سے ہچکچاہٹ کااظہارکیا۔ سندھ نے اس سے قبل مجموعی طور پر 7 لاکھ 20 ہزار ٹن گندم کی طلب کی تھی، جس میں 5 لاکھ ٹن درآمدی گندم شامل تھی۔اس کے باوجود نائب وزیراعظم اسحاق ڈارکی زیرصدارت اجلاس کے بعدجاری اعلامیے میں کہاگیاکہ کمیٹی نے ملکی ضروریات پوری کرنے، قیمتوں پر دباؤکم کرنے اور عوام کو ریلیف دینے کیلیے 10 لاکھ ٹن گندم درآمدکرنے کے فیصلے کااعادہ کیاہے۔
پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق ملک میں آٹے کی اوسط قیمت ایک سال کے دوران 77۔5 فیصد بڑھ چکی ہے،رواں ہفتے ایک کلوآٹے کی اوسط قیمت 132۔50 روپے رہی، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 75 روپے تھی۔
سرکاری حکام کے مطابق صوبے درآمدی گندم نہ بھی خریدیں اوروفاقی ذخائرسے مقامی گندم لینے پر اصرارکریں،تب بھی وفاق کو اپنے اسٹریٹجک ذخائر برقراررکھنے کیلیے گندم درآمدکرنا پڑسکتی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل