Saturday, August 15, 2026
 

میر رضا قتل کیس؛ بزنس پارٹنر سے لوگوں نے قرض کی واپسی کیلئے رابطہ کیا گیا ہے، رکن تفتیشی ٹیم

 



کراچی میں قتل ہونے والے نوجوان تاجر میر رضا کیس کی تفتیشی کے لیے تشکیل دی گئی نئی ٹیم میں مزید دو ارکان کا اضافہ کردیا گیا ہے، جس کے بعد تفتیشی ٹیم کی مجموعی تعداد 9 ہوگئی اور نئی رکن انسپکٹر غلام نبی آفریدی نے کہا ہے کہ مقتول کے بزنس پارٹنر سے متعدد لوگوں نے قرض کی واپسی کے لیے رابطہ کیا ہے۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق ایس ایچ او شاہ لطیف انسپکٹر غلام نبی آفریدی بھی اب میر رضا قتل کیس کی تفتیشی ٹیم کا حصہ ہوں گے، ڈی ایس پی آئی ٹی ٹیکنیکل حنیف کو بھی تفتیشی ٹیم میں شامل کر لیا گیا ہے۔ ایکسپریس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے تفتیشی ٹیم میں شامل ہونے والے نئی رکن انسپکٹر غلام نبی آفریدی نے بتایا کہ مقتول میر رضا کی اسمارٹ واچ اور موبائل فون این سی سی آئی اے سے واپس لے لیا گیا ہے کیونکہ مقتول کے والد اور وکیل کی خواہش ہے کہ اسمارٹ واچ اور موبائل فون کے حوالے سے تفتیش لاہور سے کرائی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ 14 اگست کو انہوں نے جائے وقوع کا دورہ کیا تھا، جائے وقوع سے اب تک کوئی نئے شواہد نہیں ملے۔ ان کا کہنا تھا کہ افسران بالا سے مزید سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنے کی درخواست کی ہے، مقتول جب گھر سے چلا تھا وہاں سے جائے وقوع تک پہنچنے کی فوٹیجز مانگی ہیں تاکہ معلوم ہوسکے کہ رضا آیا راستے میں کہیں رکا یا کس سے ملا تھا۔ غلام نبی آفریدی نے بتایا کہ مقتول کے بزنس پارٹنر محمد احمد کو بلا کر اس سے تین گھنٹے تک تفتیش کی اور انہوں نے انکشاف کیا کہ میر رضا سے قرض واپس لینے کے لیے تین سے چار لوگوں نے ان سے رابطہ کیا ہے، جس میں کوئی 50 تو کوئی 25 لاکھ روپے مانگتا ہے، ممکن ہے کہ مزید لوگ رقم کے لیے رابطہ کریں لیکن ابھی وہ خوف زدہ ہیں کہ کہیں انہیں بھی تفتیش میں شامل نہ کر لیا جائے۔ پولیس افسر نے بتایا کہ تفتیش کا دائرہ کار بڑھانے کے لیے مزید اہم لوگوں کو شامل تفتیش کیا جا سکتا ہے تاہم اس کے لیے افسران بالا کی اجازت ضروری ہے کیونکہ جب ان اہم لوگوں کو تفتیش کے لیے بلایا جائے تو اعتراضات ہوسکتے ہیں، معاملہ ابھی تک جائے وقوع پر اٹکا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نرسری والوں کا بیان ہے کہ انہوں نے فائر کی آواز نہیں سنی، جس مقام سے میر رضا کی لاش ملی وہ اتنا تنگ ہے کہ وہاں اکیلے آدمی کا جانا مشکل ہے، اگر میر رضا کو وہاں زبردستی لے جایا جاتا تو وہ مزاحمت کرتا جس کے شواہد نہیں ملے، مقتول کو اگر مار کر وہاں لے جایا گیا ہوتا تو اس کے شواہد بھی ملنے چاہیئے تھے وہ بھی نہیں ہیں۔ انسپکر نے بتایا کہ اس کیس پر ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، تفتیش میں اہم لوگوں کو شامل کرنے سے مشکلات آسکتی ہیں تاہم اگر مقتول کے ورثا شفاف تفتیش جاہتے ہیں تو انہیں پولیس کا ساتھ دینا پڑے گا کیونکہ پولیس کی تفتیش پہلے قریبی لوگوں سے شروع ہوتی ہے اسی طرح حقیقی مجرم تک پہنچا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ تفتیشی ٹیم پورے کیس کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے تاکہ تفتیش میں کہیں بھی جھول نہ رہے جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ تفتیشی ٹیم کے سربراہ ڈی آئی جی عامر فاروقی کو کسی سے ایمانداری کا سرٹیفکٹ لینے کی ضرورت نہیں ہے، ان کا نام ہی کافی ہے، ان کی سربراہی میں کام کرنے والی ٹیم جو بھی تفیتیش کرے گی ان کی مشاورت سے کرے گی اور حتمی رپورٹ وہی تیار کریں گے۔ یاد رہے کہ میر رضا قتل کیس کی تفتیش کے لیے تشکیل دی گئی ابتدائی ٹیم پر شبہات کے بعد قبرکشائی کی گئی اور پوسٹ مارٹم کی نئی رپورٹ کی روشنی میں آئی جی سندھ نے 9 اگست 2026 کو ڈی آئی جی کرائم اینڈ انویسٹی گیشن سندھ کراچی عامر فاروقی کی سربراہی میں نئی تفتیش ٹیم تشکیل دی تھی۔ نئی تفتیشی ٹیم کے سیکریٹری ایس ایس پی آر آر ایف الفلاح سید محمد علی رضا کو مقرر کیا گیا،  ٹیم کے اراکین میں ایس پی انویسٹی گیشن کورنگی قاسم خان، ایس پی انویسٹی گیشن ڈسٹرکٹ سینٹرل انعم تجمل اور ایس آئی او زمان ٹاؤن انسپکٹر چوہدری غضنفر شامل تھے،  10 اگست کو تفتیشی ٹیم میں ڈی ایس پی آر آر ایف حیدرآباد ڈی ایس پی سراج الدین لاشاری اور ڈی آئی جی آفس ساؤتھ زون میں تعینات انویسٹی گیشن افسر انسپکٹر محمد علی کو شامل کیا گیا تھا، یوں تعداد 7 ہوگئی تھی تاہم 14 اگست کو مزید دو افسران ایس ایچ او شاہ لطیف انسپکٹر غلام نبی آفریدی اور ڈی ایس پی آئی ٹی ٹیکنیکل حنیف کو بھی تفتیشی ٹیم میں شامل کر لیا گیا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل