Loading
آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر ملک شہزاد اعوان نے کہا ہے کہ کسی نوٹیفکیشن کے بغیر وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کی یقین دہانی میں نہیں آئیں گے تاہم امید ہے حکومتی نمائندوں سے ملاقات میں مسائل حل ہوں گے۔
صدر آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد ملک شہزاد اعوان نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ اتوار کو وفاقی حکومت، حکومت پنجاب اور حکومت سندھ کے نمائندوں سے گورنر ہاؤس میں مذاکرات ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان، وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر مذاکرات کے لیےکراچی پہنچیں گے، مذاکرات میں گورنرسندھ، وزیرمواصلات، وزیرٹرانسپورٹ پنجاب، وزیر ٹرانسپورٹ سندھ اور دیگرحکومتی نمائندے شامل ہوں گے۔
ملک شہزاد اعوان نے کہا کہ امید کرتا ہوں بہت جلد ہمارے مسائل حل ہوں گے اور ٹرانسپورٹ کا پہیہ چلنا شروع ہو جائے گا، بغیر کسی نوٹیفکیشن کے وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کی یقین دہانی میں نہیں آئیں گے۔
گڈز ٹرانسپورٹرز کے مطابق ملک بھر میں اشیا کی ترسیل برآمدات درامدات کے کنٹینرز رک گئے، یومیہ 10 ہزار کنٹینرز پورٹ سے نکلتے ہیں، 8 روزسے جاری ہڑتال کی وجہ سے ملک کی معیشت 50 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوچکا ہے۔
ملک شہزاداعوان کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر بحری امور سے مذاکرات کامیاب رہے تھے، وفاقی حکومت، وزارت مواصلات، فنانس، پیٹرولیم سے متعلقہ مطالبات پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، باقی ہمارے تمام مطالبات وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں سےجو ہمارے مطالبات ہیں اس پر ڈیڈ لاک برقرارہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک گیر ہڑتال مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گی، واضح رہےکہ لوڈ ایکسل کے نفاذ، کسٹم ایس آراو، ود ہولڈنگ ٹیکس، یومیہ بنیاد پر ایندھن کی قیمتوں کے تعین سمیت دیگر مطالبات کےلیےکی جانے والے ہڑتال کے سبب باعث تمام ترسیل معطل ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل