Wednesday, August 19, 2026
 

چاول کا پانی بالوں اور جلد کےلیے مفید، پھینکنے کے بجائے محفوظ کریں

 



چاول پکانے کے بعد بچ جانے والا پانی عموماً ضائع کردیا جاتا ہے، تاہم مختلف تحقیقات کے مطابق یہی پانی بالوں، جلد اور نظامِ ہاضمہ کے لیے ممکنہ فوائد رکھتا ہے۔ چاول دنیا بھر میں پسند کی جانے والی غذاؤں میں شامل ہیں، لیکن انہیں پکانے کے بعد بچنے والے پانی کو اکثر غیر ضروری سمجھ کر پھینک دیا جاتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق چاول کا پانی مختلف غذائی اجزا اور مرکبات اپنے اندر رکھتا ہے، جس کی وجہ سے اسے روزمرہ نگہداشت میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ نظامِ ہاضمہ کےلیے معاون چاول پکانے کے دوران پانی میں نشاستہ اور دیگر مرکبات شامل ہوجاتے ہیں، جو نظامِ ہاضمہ کے لیے مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔ 2021 میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق میں بھی چاول کے پانی کے ہاضمے سے متعلق ممکنہ فوائد کی نشاندہی کی گئی تھی۔ بالوں کو مضبوط بنانے میں مددگار چاول کا پانی بالوں کی نگہداشت کے لیے بھی روایتی طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔ جاپان میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق خواتین لمبے اور صحت مند بال برقرار رکھنے کے لیے چاول کے پانی سے فائدہ اٹھاتی رہی ہیں۔ 2010 کی ایک تحقیق میں بھی اس جانب اشارہ کیا گیا کہ چاول کا پانی بالوں کو زیادہ مضبوط اور لچکدار بنانے میں مدد دے سکتا ہے، جس کے باعث بالوں کی دیکھ بھال کے لیے اسے ایک روایتی طریقے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ جلد کی صحت کےلیے بھی کارآمد چاول کا پانی صرف بالوں تک محدود نہیں بلکہ جلد کی نگہداشت میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ 2013 میں ہونے والی ایک تحقیق میں جلد کے لیے اس کے ممکنہ فوائد کا جائزہ لیا گیا، جس کے مطابق یہ سورج سے جلد کو پہنچنے والے نقصان سے تحفظ، کولیجن کی پیداوار میں بہتری اور عمر بڑھنے کی ظاہری علامات کم کرنے میں معاون ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ چاول کے پانی کو جسم کے مختلف حصوں میں ہونے والی خشکی اور جلد کی جلن میں کمی کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ چاول کا پانی محفوظ کرنے کا طریقہ اگر آپ چاول کا پانی استعمال کرنا چاہتے ہیں تو چاول معمول کے مطابق پکائیں، تاہم پکانے کا دورانیہ تقریباً 5 سے 7 منٹ رکھیں۔ اس کے بعد پانی کو اچھی طرح چھان کر الگ کرلیں اور ایک صاف، بند کنٹینر میں ڈال کر فریج میں رکھ دیں۔ چاول کا پانی فریج میں تقریباً ایک ہفتے تک محفوظ کیا جاسکتا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل