Loading
مسجد اقصیٰ جس کو 1969میں 21 اگست کے دن غاصب صیہونیوں نے ایک حملے میں نذر آتش کیا تھا۔ یہ کالم خاص طور پر اسی مناسبت سے تحریر کیا جا رہاہے تا کہ 2026ء میں ہم اپنی نئی نسلوں اور عوام تک شعور اور آگہی کے سفر کو جاری رکھتے ہوئے، یہ بتائیں کہ مسجد اقصیٰ و القدس کو آج بھی خطرات لاحق ہیں اور ان حالات میں ہماری ذمے داری کیا ہے؟
مسجد اقصیٰ، امت مسلمہ کا قبلہ اول اور دنیا کے مقدس ترین مقامات میں شمار ہوتی ہے۔ قرآنی نص کے مطابق یہ وہ مبارک مقام ہے جہاں سے نبی کریم ﷺ کو معراج کی شب آسمانوں کی طرف لے جایا گیا۔ تاہم، 1948ء میں فلسطین پر غاصبانہ صیہونی قبضے کے بعد سے یہ مقدس مقام اور بالخصوص القدس کے مسلمان و عیسائی دونوں طبقے، مسلسل سازشوں، مظالم اور تخریب کاری کا نشانہ بن رہے ہیں۔
21 اگست 1969 کو ایک آسٹریلوی صیہونی متشدد ڈینس مائیکل روہن نے مسجد اقصیٰ کے قبلائی مصلیٰ میں آگ لگا دی۔ اس آتشزدگی کے نتیجے میں بہت بڑے پیمانے پر مسجد کو نقصان پہنچا۔ غاصب صیہونی حکومت اسرائیل نے اس سانحے سے اپنی جان چھڑانے کے لیے یہ کہہ دیا کہ ڈینس مائیکل ایک پاگل اور مجنوں شخص ہے۔حیرت کی بات ہے کہ ایک مجنوں کو یہ معلوم ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ کو نذر آتش کر دے، آخر یہ کس طرح کا پاگل اور مجنوں ہے؟ یقینا اس سانحہ کے پیچھے غاصب صیہونیوں کی مکمل ایک سازش کارفرما تھی۔غاصب صیہونیوں کی جانب سے مسجد اقصیٰ پر اس دہشت گردانہ حملے کے نتیجے میں مسجد کے کئی تاریخی مقامات کو نقصان پہنچا جن میں سلطان صلاح الدین ایوبی کا تاریخی اور شاہکار لکڑی کا منبر جل کر راکھ ہو گیا۔
مسجد کا مشرقی حصہ، چھت اور تاریخی محراب شدید متاثر ہوئے۔واقعے کے وقت مقامی فلسطینیوں نے آگ بجھانے کی کوشش کی، لیکن غاصب اسرائیلی حکام نے پانی کی فراہمی منقطع کر کے آگ بجھانے کے عمل میں شدید رکاوٹیں ڈالیں۔غاصب صیہونی حکومت کے آلہ کاروں کے اس عمل سے ثابت ہو گیا کہ در حقیقت القدس شریف کو ناپاک منصوبہ بندی کے تحت نذر آتش کیا گیا ہے۔مسجد اقصیٰ پر اس صیہونی دہشت گردانہ حملہ کا نتیجہ یہ نکلا کہ پوری مسلم دنیا میں بھی آگ بھڑک اٹھی اور مسلم دنیا بے چین ہو گئی اور یہ تاثر ابھرا کہ اب قبلہ اول کا دفاع مسلمان حکومتوں پر واجب ہے اور پھر شدید عالمی ردِعمل کے نتیجے میں ستمبر 1969ء میں اسلامی تعاون تنظیم یعنیOICکا قیام عمل میں آیا۔
او آئی سی کے قیام کا ایک نقاطی ایجنڈا یہی تھا کہ قبلہ اول کا دفاع اور تحفظ کیا جائے گا لیکن افسوس کے ساتھ آج کہنا پڑتا ہے کہ او آئی سی بھی آج مغربی استعماری حکومتوں بالخصوص امریکا کی لونڈی کا کردار ادا کرتی نظر آتی ہے۔مسجد اقصیٰ قبلہ اول غاصب صیہونیوں کے فلسطین پر ناجائز تسلط کے بعد سے ہمیشہ ہی سازشوں اور خطرات کا شکار رہی ہے۔ غاصب صیہونیوں کی ہمیشہ سے یہ ناپاک کوشش ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ کو منہدم کریں اور یہاں پر ہیکل سلیمانی کی تعمیر کریں۔اسرائیلی آثار قدیمہ کے نام پر مسجد اقصیٰ اور جامع القبلی کی بنیادوں کے نیچے مسلسل سرنگیں کھودی جا رہی ہیں، جس سے عمارت کی بنیادیں شدید کمزور ہو چکی ہیں۔آج القدس خطرے میں ہے، مسجد اقصیٰ خطرے میں ہے۔الخلیل کی ابراہیمی مسجد کی طرز پر مسجد اقصیٰ کو بھی تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاکہ غاصب صیہونیوں کے لیے مخصوص اوقات اور جگہ مقرر کی جا سکے۔
غاصب صیہونی فورسز کی سرپرستی میں انتہا پسند یہودی آبادکار روزانہ کی بنیاد پر مسجد کے صحنوں میں داخل ہو کر اشتعال انگیز مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں۔یہاں تک کہ بن غفیر نامی صیہونی غاصب ریاست کا وزیر مسلسل مسجد اقصیٰ کی توہین کرنے کا ارتکاب کرچکا ہے۔فلسطین پر غاصب صیہونیوں کے قبضہ اور ناجائز ریاست اسرائیل کے قیام کے بعد سے فلسطین کے مسلمان ہی نہیں بلکہ مسیحی بھی ان غاصبوں کے ظلم اور دہشت گردی کا شکار رہے ہیں۔ جہاں مساجد اور مسلمانوں کے مقدس مقامات کو نقصان پہنچانے کی باقاعدہ صیہونی مہم جوئی جاری ہے وہاں ساتھ ساتھ مسیحی مقدس مقامات کو بھی ان صیہونیوں کی جانب سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا گیا تھا کہ غاصب صیہونی آباد کار مغربی کنارے میں موجود بیت اللحم کے علاقے میں ایک مسیحی عبادت گاہ کے دروازے پر تھوک پھینک کر توہین کر رہے تھے اور اس شیطانی فعل کی باقاعدہ ویڈیوز بنا کر نشر کر رہے تھے جیسے ان کے لیے مسیحی مقدسات کی توہین کرنا ایک عبادت ہے۔
مقبوضہ فلسطین میں غاصب صیہونی آبادکاروں کے مظالم صرف مسلمانوں تک محدود نہیں بلکہ فلسطین کی عیسائی اقلیت اور ان کے مقدس مقامات کو بھی مسلسل نشانہ بنائے جانے کی اور بھی چند ایک واقعات موجود ہیں۔یروشلم میں واقع کنیسۃ القیامۃ (Church of the Holy Sepulchre) اور بیت لحم کی کنیسۃ المہد (Church of the Nativity) پر حملے، مالیاتی پابندیاں اور عیسائی زائرین پر تشدد کا سلسلہ عام ہو چکا ہے۔غاصب صیہونی انتہا پسندوں کی جانب سے عیسائی راہبوں اور زائرین پر تھوکنے اور ان پر جسمانی حملے کرنے کے واقعات میں روز اضافہ ہوا ہے۔القدس میں زمینوں پر ناجائز قبضہ کر کے دونوں مذاہب کی آبادیاتی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی منظم کوشش کی جا رہی ہے۔
مقبوضہ فلسطین جل رہا ہے، غزہ کو تباہ و برباد کر دیا گیا ہے۔ مغربی کنارے میں بسنے والے فلسطینیوں کی زندگی بھی غاصب صیہونیوں کے شر سے محفوظ نہیں ہے۔ ایسے حالات میں ضرورت ہے کہ فلسطین کا دفاع اور فلسطین میں موجود مقدسات اسلامی کا دفاع یقینی بنایا جائے۔ آج مسجد اقصیٰ قبلہ اول کا دفاع کیوں ضروری ہے؟اس کے لیے ہمیں خود بھی یاد رکھنا ہو گا اور اپنی نسلوں کو بھی بتانا ہو گا کہ مسجد اقصیٰ صرف ایک جغرافیائی خطہ یا اینٹ پتھر کی عمارت نہیں، بلکہ یہ شعائر اللہ ہے۔یہ مسلمانوں کا قبلہ اول اور ثالث الحرمین الشریفین ہے۔قبلہ اول کی حفاظت امت مسلمہ کی اجتماعی غیرت اور وجود سے جڑی ہے۔یہ مسئلہ بین الاقوامی قوانین اور انسان دوستی کے معیار کا سب سے بڑا امتحان ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج ہم کہتے ہیں کہ مسئلہ فلسطین صرف عالم اسلام ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔
قبلہ اول کے دفاع اور فلسطینیوں کو صیہونی تسلط سے نجات دلانے کے لیے فوری اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مسلم امہ کا نظریہ دم توڑ چکا ہے۔ خطے کے حالات اور واقعات کو دیکھا جائے اور خاص طور پر جو کچھ غزہ میں گزشتہ تین سال تک ہوتا رہا اور مسلم امہ کی بے حسی اور خاموشی رہی تو ایسا لگتا ہے کہ مسلم امہ کا نظریہ فوت ہو چکا ہے۔ آج ضرور ت اس امر کی ہے کہ غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کی تطبیقی یعنیِ تعلقات (Normalization) کا فوری خاتمہ کیا جائے اور بین الاقوامی فورمز پر موثر آواز اٹھائی جائے۔اب یہ کام ان تمام عرب حکومتوں کو کرنا ہے کہ جو غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے ہیں اور خاص طور پر ابراھیمی معاہدوں میں شامل عرب اور مسلمان حکومتیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ فلسطین و القدس کے دفاع کے لیے ضروری ہے کہ اسرائیلی مصنوعات اور اس کی معاون کمپنیوں پر مکمل اقتصادی پابندیاں عائد کی جائیں۔عالمی عدالت ِ انصاف (ICJ) اور بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) میں صیہونی جنگی جرائم کے خلاف قانونی جنگ لڑی جائے۔سوشل میڈیا اور تعلیمی اداروں کے ذریعے مسئلہ فلسطین اور 1969جیسے صیہونی جرائم کے حقائق کو زندہ رکھا جائے۔محصورین غزہ اور القدس کے مرابطین (محافظین) کی مالی اور طبی معاونت یقینی بنائی جائے۔صیہونی معیشت کو سہارا دینے والے عالمی برانڈز کا مکمل اور طویل المدتی بائیکاٹ کیا جائے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل