Loading
ایران کے خلاف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ نئی جنگی منطق کا اظہار ہے۔ واشنگٹن نے تہران کو تنہا کرنے کا ارادہ ظاہر کرتے ہوئے صرف ایران کو نہیں بلکہ ان تمام ممالک کو بھی نشانے پر لینے کی دھمکی دی ہے جو اس کے ساتھ تجارت یا مالی تعاون جاری رکھیں گے، یوں ایک علاقائی تنازع عالمی معیشت کے لیے بھی امتحان بن گیا ہے۔
ٹرمپ کی دھمکی کو محض ایک سیاسی بیان سمجھنا غلط ہوگا۔ امریکی خارجہ پالیسی میں اقتصادی طاقت پہلے بھی ایک اہم ہتھیار رہی ہے، مگر اب اس کے استعمال کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔ ایران کی تیل کی برآمدات، کرنسی کے تبادلے، نقد رقوم کی منتقلی، ایکسچینج ہاؤسز، بحری جہازوں اور فرنٹ کمپنیوں تک رسائی محدود کرنے کی کوشش دراصل تہران کے لیے مالیاتی سانس کی ہر ممکن نالی بند کرنے کی حکمت عملی ہے۔ اس کے ساتھ واشنگٹن یہ پیغام بھی دے رہا ہے کہ ایران کے ساتھ تعلق رکھنے والا کوئی تیسرا ملک بھی امریکی طاقت سے محفوظ نہیں رہے گا۔
یہیں سے مسئلہ پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ کسی ایک ملک پر پابندی لگانا اور پوری دنیا کو اس پابندی کا پابند بنانا دو مختلف کام ہیں۔ امریکا کے پاس عالمی مالیاتی نظام میں غیر معمولی اثر و رسوخ ضرور ہے، لیکن عالمی معیشت اس قدر پھیل چکی ہے کہ ہر تجارت کو ایک ہی مرکز سے کنٹرول کرنا آسان نہیں رہا۔ ایران نے طویل پابندیوں کے دوران متبادل تجارتی راستے تلاش کیے ہیں اور اب چین، روس اور برکس جیسے پلیٹ فارم اس کی حکمت عملی میں مزید اہمیت اختیار کر رہے ہیں۔
اس لیے واشنگٹن کے سامنے سوال صرف یہ نہیں کہ ایران کو کیسے دبایا جائے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس دباؤ کی قیمت عالمی نظام کو کتنی ادا کرنا پڑے گی۔ چین اس حکمت عملی کی سب سے بڑی آزمائش ہے۔ ایران سے سمندری راستے برآمد ہونے والے تیل کا بڑا حصہ چینی خریداروں تک پہنچتا ہے، اگر امریکا چینی بینکوں یا ریفائنریوں کو ایرانی لین دین پر سزا دینے کی کوشش کرتا ہے تو تنازع تہران سے نکل کر بیجنگ تک پہنچ جائے گا۔ چین کی بہت سی آزاد ریفائنریاں امریکی مالیاتی نظام پر اس قدر منحصر نہیں کہ ہر امریکی پابندی انھیں فوراً ایرانی تیل سے دستبردار کر دے۔ مزید یہ کہ چین اور امریکا پہلے ہی تجارت، ٹیکنالوجی اور صنعتی مسابقت کے باعث ایک حساس معاشی مرحلے میں ہیں۔ ایسے ماحول میں ایران کے معاملے پر اضافی دباؤ دونوں بڑی معیشتوں کے تعلقات کو مزید پیچیدہ کر سکتا ہے۔
چین کے لیے بھی یہ فیصلہ آسان نہیں ہوگا، وہ امریکا سے براہِ راست تصادم نہیں چاہتا، لیکن اپنی توانائی کی ضروریات، تجارتی مفادات اور خارجہ پالیسی کی خودمختاری کو بھی کسی تیسرے ملک کے فیصلے کے حوالے نہیں کر سکتا، اگر بیجنگ یہ محسوس کرے کہ امریکی پابندیاں اس کے جائز معاشی مفادات تک پہنچ رہی ہیں تو وہ متبادل ادائیگی کے نظام، مقامی کرنسیوں میں تجارت اور غیر مغربی مالیاتی راستوں کو مزید فروغ دے سکتا ہے۔ اس طرح ایک پابندی وقتی طور پر ایران کے لیے مشکلات پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی مالیاتی نظام میں طویل المدت تقسیم کو بھی تیز کر سکتی ہے۔
روس کا کردار اس سے مختلف مگر کم اہم نہیں۔ ماسکو خود مغربی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے، اس لیے اسے امریکی مالیاتی دباؤ سے نمٹنے کے تجربات حاصل ہو چکے ہیں۔ ایران اور روس نے طویل مدتی شراکت داری کے معاہدوں اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے ذریعے ایسے راستے بنائے ہیں جو مغربی نظام سے نسبتاً کم وابستہ ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا بڑھنا اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ پابندیاں ہر مرتبہ معاشی تعلقات کو ختم نہیں کرتیں، بعض اوقات وہ انھیں دوسرے راستوں پر منتقل کر دیتی ہیں۔ یوں واشنگٹن جس اقتصادی تنہائی کو ایران کی کمزوری سمجھتا ہے، وہی تہران اور ماسکو کے درمیان مزید قربت کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
پابندیوں کو برداشت کر لینا معاشی کامیابی نہیں۔ ایک ملک بیرونی دباؤ کے باوجود اپنی بنیادی تجارت جاری رکھ سکتا ہے، مگر اس کے نتیجے میں سرمایہ کاری کے مواقع محدود، مالیاتی اخراجات بلند اور عوام کے لیے اشیائے ضروریہ مہنگی ہو سکتی ہیں۔ غیر رسمی تجارت اور متبادل ادائیگی کے راستے کسی معیشت کو زندہ رکھ سکتے ہیں، لیکن پائیدار ترقی کے لیے کھلی منڈیاں، سرمایہ، ٹیکنالوجی اور قابلِ اعتماد مالیاتی نظام بھی درکار ہوتے ہیں۔ ایران کی اصل آزمائش یہی ہے کہ وہ مزاحمت کے ساتھ اقتصادی اصلاح کی صلاحیت بھی پیدا کرے۔
امریکی حکمت عملی کا سب سے بڑا سوال اس کے سیاسی نتیجے سے متعلق ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ معاشی دباؤ ہمیشہ سیاسی اطاعت میں تبدیل نہیں ہوتا۔ پابندیاں عوام کو مشکلات میں مبتلا کر سکتی ہیں، مگر حکومتوں کو لازماً اپنی خارجہ یا دفاعی پالیسی بدلنے پر مجبور نہیں کرتیں۔ بعض اوقات بیرونی دباؤ قومی خودمختاری کے احساس کو مضبوط کرتا ہے اور حکومت کو داخلی حمایت کے لیے نیا جواز فراہم کرتا ہے۔
ایران کے معاملے میں یہ پہلو خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ تہران طویل عرصے سے امریکی دباؤ کو اپنے سیاسی بیانیے کا مرکزی حصہ بناتا آیا ہے۔یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ’’ثانوی پابندیوں‘‘ کا بڑھتا ہوا استعمال عالمی خودمختاری کے تصور کو کہاں لے جاتا ہے۔ واشنگٹن کا مؤقف یہ ہے کہ ایران کے خلاف پابندیاں اس کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے مقاصد کا جائز ذریعہ ہیں۔ لیکن جب ان پابندیوں کی زد میں ایسے ممالک بھی آنے لگیں جو امریکا کی پالیسی سے متفق نہیں، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ عالمی تجارت میں فیصلے قومی خودمختاری کا خیال کریں گے یا ایک طاقتور مالیاتی مرکز کا؟ اگر بڑی معیشتیں یہ سمجھنے لگیں کہ امریکی مالیاتی نظام پر انحصار ان کی آزادانہ خارجہ پالیسی کو محدود کر سکتا ہے تو وہ متبادل نظام بنانے کی کوشش کیوں نہیں کریں گی؟
ایران کے گرد بڑھتی کشیدگی کو لبنان کے حالات سے الگ بھی نہیں کیا جا سکتا۔ جنوبی لبنان میں جنگلات اور زرعی زمینوں کو مبینہ طور پر آگ لگانے، ڈرون حملوں اور سفید فاسفورس جیسے آتش گیر مواد کے استعمال کے الزامات ایک ایسے انسانی اور ماحولیاتی بحران کی طرف اشارہ کرتے ہیں جسے جنگی اعدادوشمار عموماً چھپا دیتے ہیں۔ اگر سرحدی علاقوں میں 30 سے 40 فیصد زمین آگ سے متاثر ہوئی ہے تو اس کا مطلب صرف درختوں کا جلنا نہیں؛ اس میں فصلیں، زیتون کے باغات، مقامی روزگار اور آنے والے برسوں کی زرعی پیداوار بھی شامل ہے۔
پاکستان کے لیے یہ صورت حال خاص طور پر حساس ہے۔ ایران ہمارا ہمسایہ ہے، خلیجی خطہ ہماری توانائی کی ضروریات سے براہِ راست جڑا ہے اور عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہماری درآمدی لاگت، زرمبادلہ اور مہنگائی پر اثر انداز ہو سکتا ہے، اگر کشیدگی مزید بڑھی تو پاکستان کو سرحدی سلامتی کے ساتھ اقتصادی دباؤ کا بھی سامنا ہوگا۔ اس لیے اسلام آباد کے لیے کسی ایک فریق کی جذباتی حمایت سے زیادہ ضروری متوازن سفارت کاری، سرحدی استحکام اور توانائی کے متبادل انتظامات ہیں۔ عالمی طاقتوں کی کشمکش میں کمزور معیشتیں ہمیشہ زیادہ قیمت ادا کرتی ہیں۔
امریکی طاقت کو کم سمجھنا بھی غلطی ہوگی اور اسے لامحدود سمجھنا بھی۔ واشنگٹن کے پاس مالیاتی نظام پر غیر معمولی اثر ہے، مگر ہر ہتھیار کی طرح پابندیوں کی طاقت بھی مسلسل استعمال سے اپنی حدود ظاہر کرتی ہے۔ اگر ہر بحران میں تجارت اور بینکاری کو سیاسی ہتھیار بنایا گیا تو متاثرہ ممالک متبادل راستوں کی طرف جائیں گے۔ نتیجتاً دنیا شاید ایک متحد عالمی منڈی کے بجائے مختلف مالیاتی اور تجارتی حلقوں میں تقسیم ہونے لگے۔ یہ عمل کسی ایک فریق کی مکمل فتح نہیں ہوگا؛ اس کا نقصان پوری عالمی معیشت کو اٹھانا پڑ سکتا ہے۔مشرقِ وسطیٰ کو آج مزید معاشی ناکہ بندی، نئی پابندیوں اور پھیلتے عسکری محاذوں سے زیادہ ایک قابلِ عمل سیاسی راستے کی ضرورت ہے۔
طاقت کسی فریق کو وقتی برتری دے سکتی ہے، مگر پائیدار امن نہیں۔ معاشی جنگ اگر سفارت کاری کا متبادل بن گئی تو اس کے شعلے صرف تہران یا بیروت تک محدود نہیں رہیں گے،وہ عالمی منڈیوں، توانائی کے نرخوں اور عام انسان کے گھر تک پہنچیں گے۔اصل کامیابی اس میں نہیں کہ امریکا ایران کو کتنی تکلیف پہنچا سکتا ہے یا ایران کتنی پابندیاں برداشت کر سکتا ہے۔ کامیابی تب ہوگی جب دنیا یہ سمجھنے پر آمادہ ہو کہ اقتصادی طاقت کو مذاکرات کی میز تک پہنچنے کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے، مگر ہمیشہ کے لیے میز کو ہی جنگ کا میدان نہیں بنایا جا سکتا۔ ورنہ آج کا ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ کل ایک ایسے عالمی نظام کی بنیاد رکھ سکتا ہے جہاں تجارت اعتماد کے بجائے خوف سے چلے، معیشت سفارت کاری کے بجائے دھمکی کا تابع ہو اور جنگ ختم ہونے کے باوجود اس کے اثرات نسلوں تک زندہ رہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل