Friday, August 21, 2026
 

قرضوں کے بوجھ میں اضافہ

 



تازہ خبر یہ آئی ہے کہ پچھلے 28 مہینوں کے قلیل عرصے میں وفاقی حکومت کے قرضوں میں 18,832 ارب روپے کا ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ قرضوں کے رقوم کے اعداد و شمار صرف حساب کتاب کی کتابوں میں ہی درج نہیں ہوتے بلکہ عوام کی سانسوں میں سرائیت کرکے خاموش سسکیوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ قرضوں کے حجم کی یہ خبر محض ایک مالیاتی خبر نہیں بلکہ ہماری معاشی زوال پذیری اور قومی وجود کی بقا کا ایک لرزہ خیز مرتبہ ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں روزانہ اربوں روپے سے زائد کا نیا قرضہ اس کے کندھوں پر لاد دیا جائے تو پھر سیاست کے ڈرامے، تقاریر کا جادو، اقتدار کے ایوانوں کی چمک دمک دھوکے سے زیادہ کچھ نظر نہیں آتا۔ یہ قرض وہ ناقابل دید زنجیر ہے جو نسل در نسل ہمارے پیروں میں ڈالی جا رہی ہے۔ جس کا بوجھ اب صرف موجودہ طبقوں کو نہیں بلکہ ان کے بچوں کو بھی اٹھانا ہے، جو جلد یا بدیر پاکستان کی سرزمین میں آنکھ کھولیں گے۔معاشی لحاظ سے بات کی جائے تو مقامی بینکوں سے لیے گئے اور بیرونی قرضوں کے یہ اعداد و شمار ایک دائرے کی مانند نظر آتے ہیں جہاں ہر راستہ تباہی کے صحرا پر ختم ہوتا ہے۔ زیادہ تر قرضہ مقامی تجارتی بینکوں سے لے لیا جاتا ہے تو ان کے پاس صنعتکار کے لیے سرمایہ ختم ہو جاتا ہے۔ نئے کارخانے لگنا بند ہو جاتے ہیں اور روزگار کی شمعیں ایک ایک کرکے بجھنے لگتی ہیں جس ملک کی 98 فی صد آبادی سود کی ادائیگی، بجٹ خسارے کے نزلے کی صورت میں مہنگائی اور ٹیکسوں کی بھٹی میں جل رہی ہو، وہاں ترقیاتی منصوبوں کا نام لینا بھی ایک تلخ مذاق معلوم دیتا ہے۔ دستاویزات کے مطابق فروری 2024 تک حکومت کے مجموعی قرضے 64 ہزار 810 ارب روپے تھے۔ قرضوں میں مسلسل اضافے کے باعث ملکی مالیات، قرضوں کی ادائی اور اس سے متعلق اخراجات کا دباؤ بھی برقرار ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق حکومتی قرضوں میں مسلسل اضافے کے رجحان کو قابو کرنے کے لیے مالیاتی نظم و ضبط، آمدن میں اضافے، غیر ضروری اخراجات میں کمی اور قرضوں کے موثر انتظام کی ضرورت ہے تاکہ ملکی معیشت پر قرضوں کا بوجھ مزید نہ بڑھے جوکہ 83 ہزار 642 ارب تک پہنچ گئے ہیں۔ قرض لینے کی روایت جب کسی قوم کی ثقافت اور پالیسی کا بنیادی ستون بن جائے تو پھر اس قوم سے خودداری اور آزادی کا احساس بھی چھن جاتا ہے۔ اب ہم بین الاقوامی اور مقامی مالیاتی اداروں کی شطرنج کے وہ پیادے بن چکے ہیں جنھیں اپنی مرضی کی چال چلنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ یاد کریں وہ دن جب حکومت چاہ رہی تھی کہ عوام کو پٹرولیم لیوی پر کچھ مراعات دی جائیں، کس طرح جھٹ سے پیغام آیا کہ قرضوں کی شرائط کے تحت ایسا نہیں کیا جاسکتا۔  وفاقی بجٹ کا نصف سے کم حصہ ان قرضوں کی سود دینے کی نذر ہو جاتا ہے یعنی ہم جو ٹیکس دیتے ہیں۔ اس کا بڑا حصہ کسی اسکول کی تعمیر، اسپتال کی تعمیر یا سڑک بنانے پر خرچ نہیں ہوتا، ملک بھر کی لاکھوں میل سڑکیں اکثر و بیشتر مقامات سے ٹوٹی ہوئی ہیں خاص طور پر کراچی شہر کی سڑکیں زیادہ تر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور ملک بھر کے دیہاتوں قصبوں اور شہروں کے شہری عرصہ دراز سے مطالبہ کرتے چلے آ رہے ہیں کہ ان علاقوں میں نئی سڑکیں تعمیر کی جائیں اسی طرح ہزاروں اسکول جوکہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان اسکولوں کی حالت خستہ ہو چکی ہے، لہٰذا ان کی دوبارہ تعمیر کی جائے۔ اب ہم اس موڑ پر پہنچ چکے ہیں یا اس بند گلی میں کھڑے ہیں جہاں اب یہ سوچنا حماقت ہے کہ معیشت جوکہ خستہ حال ہو چکی ہے اس میں بہتری کے آثار پیدا ہو جائیں گے لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ اشرافیہ کی مراعات کا مکمل خاتمہ، غیر پیداواری اخراجات میں ممکنہ کمی اور ٹیکس کے نظام میں انقلابی اصلاحات نافذ کی جائیں ورنہ یہ بڑھتے ہوئے قرض ہمیں کہیں کا نہ چھوڑے گا اور قرضوں کا حجم بڑھتا ہی چلا جائے گا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل