Friday, August 21, 2026
 

اے آئی کی پیاس کون بجھائے؟

 



ہم سب جانتے ہیں کہ اکہتر فیصد کرہِ ارض پانی پر مشتمل ہے۔مگر اس میں سے صرف ڈھائی فیصد پانی میٹھا ہے۔اس میٹھے پانی میں سے بھی ایک اعشاریہ چوہتر فیصد پانی گلیشیرز اور قطبینِ شمالی و جنوبی کی برفیلی شکل میں ہے۔ایک اعشاریہ انہتر فیصد زیرزمین پایا جاتا ہے اور محض صفر اعشاریہ صفر دو فی صد میٹھا پانی دریاؤں ، جھیلوں ، دلدلوں اور بادلوں کی شکل میں دستیاب ہے۔پانی اس قدر قلیل اور دنیا کی آبادی اس وقت آٹھ ارب سے زائد۔اس کے باوجود ’’ اشرف المخلوقات ’’ جتنا پانی استعمال کر رہی ہے کم و بیش اتنی ہی مقدار میں ضایع بھی کر رہی ہے یا اپنے ہی ہم نسلوں کو پیاس کا یرغمال بنا کے ذخیرہ کر رہی ہے۔ اس پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے اب یو این یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ فار واٹر انوائرنمنٹ اینڈ ہیلتھ کی تازہ رپورٹ پر دھیان دیجیے۔اس کے مطابق دو ہزار تیس تک اے آئی ڈیٹا سینٹرز ایک اعشاریہ تین ارب انسانوں کی سال بھر کی بنیادی ضروریات کے لیے کافی دو اعشاریہ تین ٹریلین لیٹر پانی خود کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے استعمال کرلیں گے۔ ان ڈیٹا سینٹرز کے لیے دو ہزار تیس تک بجلی کی کھپت نو سو پینتالیس ٹیرا واٹ ہاور سالانہ تک پہنچ جائے گی یعنی کل عالمی برقی پیداوار کا تین فیصد۔آسان الفاظ میں یہ ڈیٹا سینٹرز پاکستان ، بنگلہ دیش اور نائجیریا کی مجموعی سالانہ برقی کھپت سے بھی تین گنا زائد بجلی استعمال کر رہے ہوں گے۔ گذشتہ برس اے آئی ڈیٹا سینٹرز نے مجموعی طور پر چار سو اڑتالیس ٹیرا واٹ بجلی استعمال کی۔اگر ان ڈیٹا سینٹرز کو ایک ریاست تصور کر لیا جائے تو اے آئی اس وقت بجلی استعمال کرنے والی گیارہویں بڑی عالمی ریاست ہے۔یعنی سعودی عرب کی سالانہ بجلی کھپت سے کچھ زیادہ اور فرانس کی کھپت سے کچھ کم۔ دو ہزار تئیس میں آئرلینڈ میں قائم ڈیٹا سینٹرز بجلی کی اکیس فیصد پیداوار کھا گئے یعنی آئرش گھریلو صارفین کی ضرورت سے بھی زیادہ۔چنانچہ آئرلینڈ کی نیشنل گرڈ آپریٹنگ کمپنی نے دو ہزار اٹھائیسں تک گریٹر ڈبلن کے علاقے میں کوئی نیا ڈیٹا سینٹر بنانے پر پابندی لگا دی۔ ایک اے آئی امیج جنریٹ کرنے میں جتنی توانائی لگتی ہے وہ دس واٹ کے ایک ایل ای ڈی بلب کو سترہ منٹ روشن رکھ سکتی ہے۔لگ بھگ ایک منٹ کی اے آئی وڈیو جنریٹ کرنے والی توانائی اس بلب کو بیالیس گھنٹے روشن رکھ سکتی ہے۔ اس وڈیو کو جنریٹ کرنے میں ڈیٹا سینٹر کم ازکم چار لیٹر پانی خود کو ٹھنڈا رکھنے میں استعمال کر لیتا ہے۔پانی کی یہ مقدار کسی صحارا پار افریقی ملک کے ایک شخص کی دو دن کی بنیادی ضروریات پورا کرنے کے لیے کافی ہے۔ دس سے پچاس سوالات پوچھنے پر اے آئی ڈیٹا سینٹر اوسطاً پانچ سو ملی لیٹر تک تازہ پانی استعمال کرتا ہے۔زیادہ تر پانی ڈیٹا سینٹر کی کولنگ کے عمل میں بخارات بن کر اڑ جاتا ہے۔ چیٹ جی پی ٹی تھری کی تربیت میں ایک اعشاریہ تین گیگاواٹ ہاور اور چیٹ جی پی ٹی فور کی تربیت کے لیے پچاس تا ستر گیگاواٹ ہاور بجلی استعمال ہوتی ہے۔ چیٹ جی پی ٹی روزانہ ڈھائی ارب جواب دے سکتا ہے۔اس صلاحیت کو پوری طرح استعمال کرنے کے لیے اسے سالانہ تین سو تراسی گیگا واٹ ہاور بجلی درکار ہے۔اگر ٹیکسٹ کے بجائے وڈیو جنریٹ کرنی ہو تو پھر پانی اور توانائی کی ضرورت ساڑھے چودہ سو گنا بڑھ جاتی ہے۔  کہا جاتا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ اے آئی کم وسائل میں زیادہ ایفیشنٹ ہونا سیکھ لے گی اور پانی و توانائی کا صرفہ کم ہوگا۔مگر جس رفتار سے لگ بھگ ہر شعبے میں اے آئی کا استعمال بے تحاشا بڑھتا جا رہا ہے۔ایفیشنسی کے باوجود مانگ پوری کرنے کے لیے پانی و بجلی کے وسائل کے استعمال میں بھی اسی تناسب سے اضافہ کرنا پڑے گا۔ اے آئی ڈیٹا سینٹر خود کو مسلسل ٹھنڈا رکھنے کے لیے بیس فیصد پانی استعمال کرتے ہیں مگر ان ڈیٹا سینٹرز کو چوبیس گھنٹے رواں رکھنے کے لیے جو بجلی استعمال ہو رہی ہے اس کی تیاری میں پانی کی کھپت اسی فیصد ہے۔یہ بجلی پانی کے علاوہ فوسل فیول اور شمسی توانائی سے بنتی ہے اور یہ محدود وسائل پر مزید بوجھ ہے۔ اس وقت دنیا کے صرف بتیس ممالک میں اے آئی سپیشلائزڈ ڈیٹا سینٹرز ہیں۔نوے فیصد ڈیٹا کیپیسٹی دو ممالک امریکا اور چین کے پاس ہے۔ چالیس فیصد اے آئی ڈیٹا سینٹرز امریکا میں ہیں۔ ان میں سے بہتر فیصد ڈیٹا سینٹر ان پانچ ریاستوں میں ہیں جہاں پانی قلیل ہے ( کیلیفورنیا ، ایریزونا ، ٹیکساس ، الی نوائے ، ورجینیا )۔ امریکی ڈیٹا سینٹرز نے دو ہزار تئیس میں ساڑھے سترہ ارب گیلن پانی کولنگ کے لیے استعمال کیا۔دو ہزار اٹھائیس تک یہ کھپت باون ارب گیلن تک پہنچ سکتی ہے۔گرمیوں میں جیسے انسانوں کی پانی کی ضرورت دوگنی ہو جاتی ہے ویسے ہی درجہ حرارت بڑھنے سے ڈیٹا سینٹرز کو بھی زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی نکتہ چینی کے سبب اب مائکروسافٹ ، سیمسنگ ، ہائی کلاؤڈ اور پینتھالاسا جیسی کمپنیاں سمندر میں اے آئی ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کے ابتدائی تجربات کر رہی ہیں۔ان ڈیٹا سینٹرز کے لیے لہروں سے توانائی پیدا کی جا سکتی ہے۔تاہم ماحولیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سمندر میں ڈیٹا سینٹر بنانے سے میٹھے زمینی پانی کا ضیاع تو کسی حد تک رک جائے گا مگر یہ ڈیٹا سینٹرز جو بے پناہ گرمی جنریٹ کرتے ہیں وہ سمندری حیاتیات و نباتات کے بقائی خطرات میں اور اضافہ کرے گی۔گویا نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن۔  ڈیڑھ سو ممالک کے پاس بہت کم یا نیم آزاد اے آئی کمپیوٹ رسائی ہے۔ان میں سے بہت سے ممالک اے آئی ہارڈویر کے لیے نایاب دھاتوں کی کانکنی اور اے آئی فضلے کی ڈمپنگ کے لیے استعمال ہو رہے ہیں جب کہ امیر ممالک فوائد سمیٹ رہے ہیں۔یعنی دنیا میں ڈیجیٹل تقسیم کے بعد اب اے آئی تک رسائی کا بھی غیر مساویانہ نظام وجود میں آ گیا ہے۔  دو ہزار تیس تک اے آئی کا عالمی انفراسٹرکچر ڈھائی ملین ٹن سالانہ الیکٹرونک کچرہ پیدا کرے گا۔یہ کچرہ بھی ترقی یافتہ دنیا کے صنعتی و زرعی فضلے کی طرح ان ترقی پذیر ممالک میں ڈمپ کیا جائے گا جہاں ماحولیاتی و حفاظتی قوانین پر عمل درآمد کرپشن کے سبب انتہائی کمزور یا غیر معیاری ہے۔ اگلے پانچ برس میں اے آئی ڈیٹا سینٹرز  مجموعی طور پر ساڑھے چودہ ہزار مربع کیلومیٹر تک جگہ گھیرلیں گے یعنی انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ کے رقبے سے بھی دوگنی جگہ۔ دو ہزار تیس تک یہ ڈیٹا سینٹرز چار سو ملین سالانہ کاربن فٹ پرنٹ چھوڑیں گے۔ اس کے اثرات زائل کرنے کے لیے دس برس میں کم ازکم سڑسٹھ ارب درخت لگانے پڑیں گے جو کہ ناممکنات میں سے ہے۔ یعنی انسان تیز رفتار سکھ کی تلاش میں سرپٹ دوڑتا دوڑتا دراصل اپنے بقائی دکھ بڑھا رہا ہے اور اس نادانی پر شاداں بھی ہے۔ (وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل