Saturday, August 22, 2026
 

ابراہیمی معاہدات سے مسلم معاہدات تک

 



مکہ میں ہونے والا نیا دفاعی معاہدہ ایک پہلے پیش کیے گئے تصور کو نئی معنویت دیتا ہے ،بعض خیالات سوال کی صورت میں جنم لیتے ہیں، بعض سوالات وقت کے ساتھ تحریک بن جاتے ہیں اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بظاہر ایک نظریاتی یا بلند نظر خیال عملی دنیا میں رونما ہونے والے واقعات کے ذریعے حقیقت کا روپ دھارنے لگتا ہے۔ چند ماہ قبل میں نے ’’ابراہیمی معاہدات بمقابلہ مسلم معاہدات‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون تحریر کیا تھا جس میں ایک سادہ مگر بنیادی سوال اٹھایا گیا تھا کہ اگر مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے ممالک امن، سلامتی، معاشی تعاون اور بقائے باہمی کے لیے معاہدے کر سکتے ہیں تو مسلمان ممالک، اپنے مسلکی اور سیاسی اختلافات کے باوجود، باہمی تعاون کا کوئی ایسا نظام کیوں قائم نہیں کر سکتے جسے ’’مسلم معاہدات‘‘ کہا جا سکے؟ اس تجویز کا مقصد نہ کوئی نیا مذہبی نظام قائم کرنا تھا اور نہ مسلمانوں کے مختلف مکاتب فکر اور فقہی اختلافات کو ختم کرنا۔ مقصد صرف عملی اتحاد تھا،دفاع، معیشت، تجارت، ٹیکنالوجی، تعلیم، سفارت کاری اور انسانی بہبود کے شعبوں میں باہمی تعاون۔ اب مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والا حالیہ دفاعی معاہدہ اس تصور کو ایک نئی معنویت عطا کرتا ہے۔یہ معاہدہ اپنی جگہ ایک اہم پیش رفت ہے، لیکن شاید اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسلم ممالک کے درمیان اجتماعی سلامتی اور تعاون کا تصور محض ایک نظریاتی بحث یا خواب نہیں رہنا چاہیے۔ اس کا آغاز چند ممالک سے ہو سکتا ہے اور پھر یہ ایک بڑے نظام کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔بالکل اسی طرح جیسے ’’مسلم معاہدات‘‘ کا تصور آگے بڑھ سکتا ہے۔ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ موجودہ دفاعی انتظام ہی مکمل ’’مسلم معاہدات‘‘ کی عملی شکل ہے، ایسا کہنا درست نہیں ہوگا۔البتہ اسے اس بڑے تصور کی جانب ایک ممکنہ ابتدائی قدم ضرور قرار دیا جا سکتا ہے۔دنیا کی بڑی بین الاقوامی تنظیموں اور اداروں کی تاریخ بتاتی ہے کہ وہ عموماً ایک ہی دن میں تمام ممالک کی شمولیت سے وجود میں نہیں آتے۔ ابتدا چند ممالک سے ہوتی ہے، جو مشترکہ مفادات کی بنیاد پر تعاون کا آغاز کرتے ہیں اور وقت کے ساتھ دوسرے ممالک بھی اس نظام کا حصہ بنتے جاتے ہیں،لہٰذا مسلم ممالک کے درمیان تعاون کا آغاز بھی ضروری نہیں کہ بیک وقت پچاس سے زائد مسلم ممالک سے ہو۔ یہ تین ممالک سے شروع ہو سکتا ہے،پھر چار،پھر پانچ۔اور آخرکار شاید ایک وسیع تر مسلم تعاون کا نظام وجود میں آ جائے۔اصل اہمیت اس بات کی نہیں کہ پہلے معاہدے پر کتنے ممالک دستخط کرتے ہیں، بلکہ اس بات کی ہے کہ کیا وہ اجتماعی ذمے داری کے ایک نئے تصور کو جنم دیتے ہیں۔ اگر کسی ایک رکن کو بیرونی جارحیت کا سامنا ہو تو دوسرے ممالک سفارتی اور طے شدہ اصولوں کے مطابق دفاعی تعاون کے ذریعے اس کے ساتھ کھڑے ہوں، اگر کسی ملک میں قدرتی آفت آئے تو دوسرے ممالک امداد پہنچائیں۔ اگر ایک ملک کے پاس ٹیکنالوجی ہے اور دوسرے کے پاس قدرتی وسائل، تو دونوں باہمی مفاد کے لیے مشترکہ منصوبے شروع کریں۔اس طرح مسلم اخوت کا ایک جذباتی تصور عملی ادارہ جاتی تعاون میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ دفاعی تعاون میں شامل تینوں ممالک بھی مسلم دنیا کے مختلف اہم پہلوؤں کی نمائندگی کرتے ہیں۔پاکستان جنوبی ایشیا کا ایک اہم مسلم ملک ہے، جس کے پاس بڑی آبادی، وسیع انسانی وسائل، اہم جغرافیائی محلِ وقوع، صنعتی صلاحیت اور نمایاں دفاعی استعداد موجود ہے۔ سعودی عرب مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کا میزبان ہے اور عرب اور مسلم دنیا میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے پاس وسیع مالی وسائل، توانائی کے ذخائر اور ترقی کے بڑے منصوبے موجود ہیں۔ترکیہ یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان ایک منفرد جغرافیائی پل ہے اور اس نے صنعت، دفاعی ٹیکنالوجی اور سفارت کاری کے میدان میں نمایاں صلاحیت پیدا کی ہے۔ ان تینوں ممالک کی مجموعی صلاحیت بہت اہم ہے۔اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ تعاون مسلم دنیا کے لیے وسیع تر تعاون کا نمونہ بن سکتا ہے؟ دفاع صرف آغاز ہونا چاہیے،دفاعی تعاون یقیناً اہم ہے، لیکن اسے آخری منزل نہیں ہونا چاہیے۔ایک حقیقی مسلم معاہدے کے کم از کم کئی بنیادی ستون ہونے چاہئیں۔پہلا ستون اجتماعی سلامتی ہونا چاہیے۔ مسلم ممالک بیرونی جارحیت، دہشت گردی اور دیگر مشترکہ سلامتی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے باہمی مشاورت اور تعاون کا نظام قائم کر سکتے ہیں، جب کہ ہر ملک کی خودمختاری کا مکمل احترام برقرار رہے۔ دوسرا ستون معاشی تعاون ہونا چاہیے۔ مسلم دنیا وسیع قدرتی وسائل، بڑی منڈیوں اور نوجوان آبادی پر مشتمل ہے، لیکن مسلم ممالک کے درمیان باہمی تجارت اور معاشی انضمام اب بھی اپنی حقیقی صلاحیت سے بہت کم ہے۔مسلم ممالک آپس میں تجارت کیوں نہیں بڑھا سکتے؟ مشترکہ سرمایہ کاری فنڈز، ترجیحی تجارتی معاہدے، صنعتی شراکت داری اور علاقائی بنیادی ڈھانچے کے منصوبے کیوں نہیں بن سکتے؟ تیسرا ستون سائنس اور ٹیکنالوجی ہونا چاہیے۔ دنیا مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، جدید طب، خلائی ٹیکنالوجی، قابلِ تجدید توانائی اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے ذریعے تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔مسلم ممالک صرف دوسروں کی تیار کردہ ٹیکنالوجی کے صارف بن کر نہیں رہ سکتے۔مشترکہ تحقیقی ادارے قائم کیے جا سکتے ہیں۔ جامعات ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر سکتی ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل