Sunday, August 23, 2026
 

سعودی عرب میں ہزاروں برس قدیم نخلستان کے شواہد دریافت

 



شمال مغربی عرب میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے ایک ایسے قدیم نخلستان کے شواہد دریافت کیے ہیں جو تقریباً 3200 برس قبل مختلف اقسام کے مقبول اور منفرد مٹی کے برتنوں کی تیاری اور تجارت کا اہم مرکز تھا۔ محققین کے مطابق قریہ کے نخلستان میں دو رنگوں سے پینٹ کیے گئے برتنوں کے شواہد ملے ہیں۔ یہ قدیم برتن سیاہ اور سرخ رنگ کے منفرد جیومیٹریکل نقش و نگار، جانوروں کی علامتی تصاویر اور انسانی اشکال سے سجائے گئے تھے۔ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ برتن محض گھریلو استعمال تک محدود نہیں تھے بلکہ اپنی مخصوص بناوٹ اور ڈیزائن کی وجہ سے ایک طرح کی قدیم ’برانڈنگ‘ رکھتے تھے اور ممکنہ طور پر دوسرے علاقوں میں بھی فروخت یا برآمد کیے جاتے تھے۔ تحقیق کی مرکزی مصنفہ اور ماہرِ آثارِ قدیمہ ڈاکٹر مارتا لوسیانی کے مطابق یہ دریافت ظاہر کرتی ہے کہ صحرائی نخلستانوں میں رہنے والی برادریاں کانسی کے دور میں بھی پسماندہ یا وسائل سے محروم نہیں تھیں بلکہ دستیاب محدود وسائل کو استعمال کرتے ہوئے جدید اور تخلیقی طریقوں سے کام کرتی تھیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ مٹی، پانی اور ایندھن جیسے ضروری وسائل کی کمی کے باوجود قریہ کے رہائشیوں نے اپنی منفرد سیرامک روایت تشکیل دی۔ نئی تحقیق جرنل پی ایل او ایس ون میں شائع ہوئی ہے اور اس سے قدیم عرب معاشروں کی تجارت، ہنرمندی اور ثقافتی روابط کے بارے میں اہم معلومات سامنے آئی ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل