Monday, August 24, 2026
 

زیتون کے کاشتکاروں کو سپورٹ کر کے سالانہ 400 ملین ڈالر کی بچت کرسکتے ہیں، وزیر اعظم

 



وزیراعظم شہباز شریف نے برآمدات میں اضافے کیلیے پاکستان کی پہلی نییشنل اولیو ویلیو چین پالیسی کا اجرا کردیا اور کہا کہ اب وفاق اور صوبائی حکومتیں کسانوں کو سہولیات فراہم کریں گی جس سے ہم 400 ملین ڈالر تک سالانہ بچا سکتے ہیں۔ اسلام آباد میں نیشنل اولیو ویلیو چین کی پالیسی کے اجرا کے حوالے سے تقریب ہوئی جس میں وزیر اعظم نے خصوصی شرکت کی اور اسٹالز کا دورہ جبکہ کاشتکاروں سے گفتگو کرتے ہوئے زیتون کی کاشت اور برآمدات پر خوشی کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج میرے لیے خوشی کی بات ہے کہ ملک کے مایہ ناز، کسان، ماہرین زراعت اور محققین کے ساتھ گفتگو کررہا ہوں جنہوں نے زیتون کی کاشت میں اضافے کیلیے شاندار کارنامہ انجام دیا۔ انہوں نے کہا کہ نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے کسانوں کا میں ذاتی طور پر مشکور ہوں جنہوں نے شاندار کردار ادا کیا، لورا لائی کے کسان، ڈاکٹر قرۃ العین اور ایک ڈاکٹر نے کاشت میں شاندار کردار ادا کیا، یہ شبانہ روز محنت کا ثمر ہے۔ وزیراعظم نے زیتون کی کاشت بڑھنے پر صوبائی حکومتوں کو مبارک باد پیش کی اور کہا کہ حکومتوں نے کسان بھائیوں کو سہارا دیا اور ہاتھ پکڑا مگر اس کام کا آغاز کسانوں نے کیا اور آج 60 ہزار ایکڑ پر زیتون کی کاشت کی جارہی ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ کسانوں نے بتایا کہ زیتون کی کاشت کی بچوں کی طرح نگہداشت کرنے والوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں، یقین محکم اور دل میں تڑپ ہو تو اس طرح کے انقلاب لائے جاسکتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں زرعی انقلاب لانے کیلیے عملی میدان میں کام کرنا اور کسانوں کو سہولت فراہم کرنا ہوگی، زیتون کی کاشت اور اس کے ثمرات معجزہ ہے اگر وفاق اور صوبائی حکومتیں اپنا حصہ ڈالتیں تو صورت حال بہت اچھی ہوتی، اب وفاق اور صوبائی حکومتیں زیتون کی کاشت کرنے والے کسانوں کو سہولیات فراہم کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم بیرون ملک سے 4 ارب ڈالر کا تیل برآمد کرتے ہیں، اگر ہم زیتون کی خود کاشت کریں تو 400 ملین ڈالر تک بچت ہوسکتی ہے، یہ ملک کی بڑی خدمت ہوگی۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں نے پی ڈی ایم حکومت اور آج بھی کہا ہے کہ زیتون اور سورج مکھی کی کاشت کیلیے اقدامات کریں گے۔ شہباز شریف نے اٹلی کے وزیراعظم اور سفیر کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہر سال 100 گریجویٹ اٹلی بھیجے جائیں گے تاکہ وہ زیتون سمیت مختلف شعبوں میں تربیت حاصل کر کے پاکستان کی خدمت کریں۔ اٹلی کے سفیر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زیتیون کی ویلی چین سے وابستہ 700 افراد کو ترجیح دی جبکہ وزیر زراعت نے بتایا کہ چین سے نوجوان تربیت لے کر آئے جن کے تجربے سے زیتون کی کاشت میں فائدہ ہوا ہے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل