Tuesday, August 25, 2026
 

ریٹائرڈ افسران کی بیرونِ ملک منتقل، پنشن بھی غیر ملکی کرنسی میں لینے کا انکشاف

 



ریٹائرڈ افسران کی بیرون ملک منتقلی کے بعد اپنی پنشن بھی غیر ملکی کرنسی میں وصول کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزارت خارجہ نے پارلیمنٹ میں انکشاف کیا ہے کہ مختلف سرکاری محکموں سے ریٹائر ہونے والے 33 اعلیٰ افسران بیرون ملک منتقل ہو چکے ہیں اور غیر ملکی کرنسی میں خطیر رقم بطور پنشن وصول کر رہے ہیں۔ دستاویزات کے مطابق حکومت پاکستان ان ریٹائرڈ افسران کو سالانہ 34 کروڑ 21 لاکھ روپے کی ادائیگی کرتی ہے، جو کہ براہ راست متعلقہ غیر ملکی کرنسی میں منتقل کی جاتی ہے۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق یہ انکشاف ملک میں افسر شاہی کے مالی معاملات اور مراعات کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔ مزید برآں کئی ممالک میں رہائش پذیر دیگر ریٹائرڈ افسران کو ملکی کرنسی میں بھی پنشن کی ادائیگی کا سلسلہ جاری ہے، تاہم وزارت خارجہ کے پاس ان تمام افسران کی مکمل تفصیلات موجود نہیں ہیں جو ملکی کرنسی میں پنشن وصول کر رہے ہیں، جس سے ڈیٹا کی فراہمی میں ابہام پیدا ہوا ہے۔ ملک کو درپیش معاشی بحران کے دوران سرکاری خزانے سے بیرون ملک مقیم ریٹائرڈ افسران کو خطیر رقوم کی ادائیگی خصوصاً غیر ملکی کرنسی میں ادائیگی پر عوامی سطح پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومتی اداروں کو پنشن اصلاحات پر نظر ثانی کرنی چاہیے تاکہ ملکی زرمبادلہ پر بوجھ کو کم کیا جا سکے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل