Loading
پٹنہ: بھارت کی ریاست بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں سرکاری ملازمتوں اور بھرتی کے امتحانات میں شفافیت کے مطالبے پر احتجاج کرنے والے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کی پولیس سے جھڑپ ہوگئی۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا، جبکہ بعض مظاہرین نے سکیورٹی رکاوٹیں توڑنے کی کوشش کی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق منگل کے روز چند ہزار طلبہ اور بے روزگار نوجوان بہار کے وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ کی جانب مارچ کررہے تھے۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ نوجوانوں کے لیے سرکاری ملازمتوں کے مواقع بڑھائے جائیں اور بھرتی کے امتحانات کے انعقاد میں شفافیت یقینی بنائی جائے۔
مقامی میڈیا کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیوز میں مظاہرین کو نعرے لگاتے اور پولیس کی جانب سے لگائی گئی رکاوٹوں کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا گیا۔ پولیس نے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا۔
مظاہرین کے مطالبات میں ایک اہم بھرتی کے امتحان کو منسوخ کرنا اور امتحانات کے طریقہ کار میں تبدیلی بھی شامل ہے۔ احتجاج کرنے والے نوجوانوں کا مؤقف ہے کہ سرکاری ملازمتوں کے حصول کے لیے ہونے والے امتحانات کے نظام کو زیادہ شفاف اور قابل اعتماد بنایا جائے۔
پٹنہ پولیس کے سپرنٹنڈنٹ کارتیکیا کے شرما نے صحافیوں کو بتایا کہ پولیس ان افراد کی شناخت کرے گی جنہوں نے اہلکاروں پر پتھراؤ کیا اور ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ پولیس نے بعض مظاہرین پر سکیورٹی اہلکاروں پر حملہ کرنے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔
یہ احتجاج گزشتہ ہفتے بے روزگار نوجوانوں کی جانب سے ملازمتوں کے مطالبے کے ساتھ شروع ہوا تھا، تاہم بعد میں اس میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں تبدیلی کے مطالبات بھی شامل ہوگئے۔
بہار کے وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری نے احتجاج کرنے والے طلبہ کے مطالبات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حکومت ہر طالب علم کی آواز سن رہی ہے۔ انہوں نے طلبہ کے مسائل، شکایات اور تجاویز کے فوری حل کے لیے ’’اسٹوڈنٹ سپورٹ کیمپ‘‘ شروع کرنے کا اعلان بھی کیا۔
وزیراعلیٰ کے مطابق طلبہ اس نظام کے ذریعے اپنی شکایات آن لائن درج کراسکیں گے اور ان کی شکایت پر ہونے والی پیش رفت کو بھی ٹریک کرسکیں گے۔
بھارت میں سرکاری ملازمتیں نوجوانوں کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہیں کیونکہ یہ نسبتاً مستقل ملازمت، باقاعدہ آمدنی اور طویل مدتی ملازمت کا تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ ملک میں روزگار کے سخت مقابلے کے باعث سرکاری نوکریوں کے لیے لاکھوں نوجوان مختلف امتحانات میں حصہ لیتے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل