Wednesday, August 26, 2026
 

پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز بھی کمی، خام تیل 86 ڈالر فی بیرل ہوگیا

 



عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایران اور عمان کی جانب سے آبنائے ہرمز کے ذریعے عارضی بحری راستہ قائم کرنے کے لیے ایک فریم ورک پر بات چیت کے بعد عالمی سطح پر تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات میں کسی حد تک کمی آئی ہے۔  ایران اور عمان کے آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات کی وجہ سے تیل کی قیمتیں مسلسل نیچے آ رہی ہیں۔ ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے لیے ایک عارضی راستہ قائم کرنے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا ہے۔  عالمی منڈی میں آج دن کے اختتام پر خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت 86.28 ڈالر فی بیرل جب کہ امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی کے سودے 80.29 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے جہاں سے روزانہ بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر توانائی کی مصنوعات گزرتی ہیں۔ اس پیش رفت کے بعد سرمایہ کاروں میں یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ خطے میں کشیدگی کے باوجود تیل کی عالمی سپلائی برقرار رکھنے کے لیے کوئی عملی راستہ نکالا جا سکتا ہے جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں پر دباؤ آیا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے محفوظ اور باقاعدہ بحری آمدورفت بحال کرنا آسان نہیں ہوگا۔ خطے کی موجودہ صورتحال، سکیورٹی خدشات اور سیاسی پیچیدگیاں کسی بھی عارضی انتظام پر عمل درآمد میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ مارکیٹ ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتوں کا رخ خطے کی صورتحال، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بحالی اور ایران و دیگر فریقوں کے درمیان ہونے والی سفارتی پیش رفت سے نمایاں طور پر متاثر ہو سکتا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل