Thursday, August 27, 2026
 

سپریم کورٹ نے گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتیں مل کر طے کرنا غیر قانونی قرار دیدیا

 



سپریم کورٹ نے گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتیں مل کر طے کرنا غیر قانونی قرار دے دیا۔ گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں کے تعین سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ نےقیمتوں کے اجتماعی تعین پر سی سی پی کا فیصلہ برقرار رکھا اور پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کو 3 کروڑ روپے جرمانہ جمع کرانے کی ہدایت کی۔ عدالت عظمیٰ نے پی وی ایم اے کے خلاف سی سی پی کی پرائس فکسنگ فائنڈنگ برقرار رکھی۔ جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس صلاح الدین پنہور پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے سی سی پی اور کمپٹیشن اپیلیٹ ٹربیونل کے مؤقف کی توثیق کی اور گھی و کوکنگ آئل کی قیمتوں کا اجتماعی تعین کمپٹیشن ایکٹ کے سیکشن 4 کی خلاف ورزی قرار دیا۔ سپریم کورٹ نے فیصلے  میں کہا کہ مسابقتی کاروباری اداروں کو اپنی قیمتیں آزادانہ طور پر طے کرنا ہوں گی۔ تجارتی ایسوسی ایشن کے ذریعے اجتماعی قیمتوں کا تعین بھی کمپٹیشن کو محدود کرتا ہے۔ قیمت کم ہو تب بھی مسابقتی کاروباری اداروں کا مل کر قیمت طے کرنا جائز نہیں۔ کم قیمت صارفین کے لیے فائدہ مند، مگر قیمت کا اجتماعی تعین کمپٹیشن کی خلاف ورزی ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ عوامی مفاد کا مقصد بھی اجتماعی پرائس فکسنگ کو جائز نہیں بناتا۔ سپریم کورٹ نے سی سی پی اور کمپٹیشن اپیلیٹ ٹربیونل کے بنیادی نتائج کی توثیق کر دی اور فیصلہ دیا کہ  ہر کاروباری ادارہ اپنی تجارتی ضروریات کے مطابق قیمت کا آزادانہ تعین کرے۔ عدالت نے قرار دیا کہ مشترکہ قیمت کا تعین آزادانہ مسابقتی قیمتوں کی جگہ نہیں لے سکتا۔ وفاقی حکومت کو بائی پاس کرکے نہیں، قیمتوں کے معاملے پر سی سی پی سے رجوع کرنا چاہیے تھا۔ سی سی پی کو بائی پاس کرکے پی وی ایم اے سے قیمتوں پر مشاورت کمپٹیشن ایکٹ کی خلاف ورزی کا باعث بنی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل