Loading
برطانیہ میں سوشل میڈیا پر ایک خط تیزی سے وائرل ہوا جس میں مبینہ طور پر جنوب مشرقی لندن کی بیکسلے بورو کونسل کی جانب سے شہریوں کو پناہ گزینوں کے باعث اپنی بیٹیوں کو گھروں کے اندر رکھنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ حکام نے اس خط کو جعلی قرار دے دیا ہے۔
اگست کے آخر میں ایک ویڈیو بڑے پیمانے پر شیئر کی گئی جس میں ایک خاتون بیکسلے بورو کونسل کے لوگو والا خط دکھاتے ہوئے اسے پڑھ رہی تھیں۔ خاتون نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے کونسل سے رابطہ کر کے بھی تصدیق کی تھی کہ خط وہیں سے جاری ہوا ہے۔
بیکسلے بورو کونسل نے واضح کیا کہ بعض گھروں تک پہنچایا جانے والا یہ خط ان کی جانب سے جاری نہیں کیا گیا اور جعلی ہے۔ کونسل نے معاملہ لندن کی میٹروپولیٹن پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔
میٹروپولیٹن پولیس نے بھی تصدیق کی کہ بعض رہائشیوں کو بھیجے گئے اس مشتبہ خط کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
پولیس کے مطابق خط میں غلط طور پر اسے مقامی کونسل کی جانب سے جاری کردہ ظاہر کیا گیا جبکہ حکام غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے مقامی افراد کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔
بعدازاں وائرل ویڈیو میں خط دکھانے والی خاتون نے بھی سوشل میڈیا پر تسلیم کیا کہ کونسل نے اسے جعلی قرار دیا ہے اور ویڈیو کے باعث ہونے والی پریشانی پر معذرت کی۔
خلاصہ: دعویٰ غلط ہے۔ بیکسلے بورو کونسل اور میٹروپولیٹن پولیس دونوں کے مطابق والدین کو اپنی بیٹیوں کو گھر میں رکھنے کی ہدایت دینے والا خط جعلی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل