Loading
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم نے پہلی بار اس سوال پر وضاحت پیش کی ہے کہ ان کی اہلیہ شنیرا اکرم ان کے ساتھ حج کی ادائیگی کے لیے کیوں نہیں گئیں۔
ایک حالیہ پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے وسیم اکرم نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر انہیں بارہا اس حوالے سے سوالات کا سامنا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں شنیرا کے لیے پہلا قدم عمرہ ہونا چاہیے تاکہ وہ اس روحانی سفر کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں، اس کے بعد وہ دونوں مل کر حج ادا کریں گے۔
اس موقع پر شنیرا اکرم نے بھی اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتی تھیں کہ وسیم اکرم یہ روحانی سفر پہلے اکیلے مکمل کریں۔ ان کے مطابق اگر وہ ساتھ ہوتیں تو ممکن تھا کہ وسیم اکرم کی توجہ عبادت سے ہٹ کر ان کی دیکھ بھال پر مرکوز ہو جاتی۔
شنیرا نے واضح کیا کہ وہ مستقبل میں ضرور اپنے شوہر کے ساتھ حج پر جائیں گی، تاہم ان کی خواہش تھی کہ وسیم اکرم اس اہم عبادت کے دوران مکمل یکسوئی کے ساتھ وقت گزاریں۔
وسیم اکرم نے حج کے تجربے کو اپنی زندگی کا ایک یادگار اور روحانی طور پر بدل دینے والا لمحہ قرار دیا اور کہا کہ یہ سفر انہوں نے اپنے لیے ایک خاص تحفے کے طور پر کیا تھا۔
یاد رہے کہ وسیم اکرم اور شنیرا اکرم کی شادی اگست 2013 میں ہوئی تھی اور ان کی ایک بیٹی عائلہ بھی ہے۔ شنیرا اکرم پاکستان سے اپنی محبت اور سماجی مسائل پر آواز اٹھانے کے باعث مداحوں میں خاصی مقبول ہیں اور اکثر انہیں محبت سے “قومی بھابھی” بھی کہا جاتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل