Loading
ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مردوں کے وزن کم کرنے میں مشکلات کی بڑی وجہ ان کا ڈائٹنگ کو خواتین سے منسوب ایک عمل سمجھنا ہوتی ہے۔
محققین نے 30 سال یا اس سے زائد عمر کے 24 مردوں سے وزن کم کرنے کے پروگرامز میں ان کے تجربات کے بارے میں انٹرویوز کیے۔
تحقیق میں معلوم ہوا کہ مرد اکثر ڈائٹنگ کو خواتین سے منسوب ایک عمل سمجھتے ہیں اور اس لفظ کو پابندی، قربانی اور بہت زیادہ قوتِ ارادی جیسے منفی تصورات سے جوڑتے ہیں۔ مرد ڈائٹنگ کلچر کی جانب بھی کم راغب ہوتے ہیں۔
مطالعے میں شریک ایک محقق نے کہا کہ جب ہم پب جاتے ہیں تو ضروری نہیں کہ ہم اپنے وزن یا ظاہری شکل و صورت کے بارے میں بات کریں۔
محققین کے مطابق وزن کم کرنے کے پروگرامز میں ڈائٹ کا لفظ استعمال نہ کرنا مردوں کو ان میں شرکت پر آمادہ کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے جبکہ ایسے پروگرامز کو مقابلے یا چیلنج کی شکل دینا بھی مؤثر ہو سکتا ہے۔
انگلیا رسکن یونیورسٹی کے ماہرین نے جریدے پی ایل او ایس ون میں لکھا کہ مردوں میں ڈائٹ اور ڈائٹنگ عموماً منفی انداز میں دیکھی جاتی ہے کیونکہ ان کے تجربات میں یہ عمل سخت محنت اور بالآخر ناکامی کے خدشے سے جڑا ہوتا ہے۔
ان کے مطابق مرد ڈائٹنگ کو ایک زنانہ عمل سمجھتے ہیں اور زیادہ تر پروگرامز انہیں حد سے زیادہ عمومی اور پابندیوں پر مبنی محسوس ہوتے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل