Saturday, August 29, 2026
 

اسپین کے وزیراعظم کی اہلیہ پر کرپشن کیس، ملک سے باہر جانے پر پابندی

 



اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز کی اہلیہ بیگونا گومیز کے خلاف مبینہ بدعنوانی کے مقدمے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق عدالت نے انہیں مقدمے کا سامنا کرنے کا حکم دیتے ہوئے پاسپورٹ جمع کرانے اور ملک سے باہر جانے پر پابندی عائد کر دی۔ جج خوان کارلوس پینادو کے حکم کے مطابق بیگونا گومیز کو ہر ماہ دو مرتبہ عدالت میں حاضری دینا ہوگی۔ ان پر اختیارات کے ناجائز استعمال، اثر و رسوخ سے فائدہ اٹھانے، کاروباری معاملات میں بدعنوانی اور فنڈز کے مبینہ غلط استعمال سمیت متعدد الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ تحقیقات میں الزام لگایا گیا ہے کہ بیگونا گومیز نے اپنے شوہر کے وزیراعظم ہونے کی حیثیت سے حاصل ہونے والے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے میڈرڈ کی ایک یونیورسٹی میں اپنے پیشہ ورانہ معاملات کو آگے بڑھایا۔ بیگونا گومیز اور وزیراعظم پیڈرو سانچیز دونوں نے الزامات کی تردید کی ہے۔ سانچیز متعدد مرتبہ اس مقدمے کو سیاسی محرکات پر مبنی قرار دے چکے ہیں۔ یہ تحقیقات 2024 میں اس وقت شروع ہوئی تھیں جب انسدادِ بدعنوانی کی تنظیم "مانوس لیمپیاس" نے بیگونا گومیز کے خلاف اثر و رسوخ کے مبینہ استعمال کی شکایت درج کرائی۔ اس وقت وزیراعظم سانچیز نے تقریباً ایک ہفتے کے لیے اپنی عوامی سرگرمیاں محدود کرتے ہوئے اس بات پر غور کیا تھا کہ آیا انہیں عہدے پر برقرار رہنا چاہیے۔ وزیراعظم کے قریبی حلقے پر بھی مقدمات بیگونا گومیز کے خلاف مقدمہ وزیراعظم سانچیز کے قریبی حلقے سے متعلق جاری تحقیقات میں تازہ ترین معاملہ ہے۔ اسپین کی حکمران سوشلسٹ پارٹی کے مرکزی دفتر پر بھی پولیس نے حال ہی میں چھاپہ مارا، جہاں پارٹی کے فنڈز کے مبینہ غلط استعمال سے متعلق دستاویزات طلب کی گئیں۔ وزیراعظم کے سابق قریبی ساتھی اور سابق وزیر جوس لوئس آبالوس بھی ایک مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان پر کورونا وبا کے دوران تقریباً 60 ملین ڈالر مالیت کے فیس ماسک کی خریداری میں مبینہ طور پر کک بیکس لینے کا الزام ہے، جس کی وہ تردید کرتے ہیں۔ سابق سوشلسٹ وزیراعظم خوسے لوئس روڈریگیز زاپاتیرو بھی ایک الگ کیس میں زیرِ تفتیش ہیں، جس میں منظم جرائم، اثر و رسوخ کے مبینہ استعمال اور دستاویزات میں جعل سازی کے الزامات شامل ہیں۔ وزیراعظم سانچیز کے بھائی ڈیوڈ بھی ایک مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں جس میں ان کی تقریباً نو برس قبل ایک عہدے پر تعیناتی میں مبینہ اثر و رسوخ استعمال کرنے کا الزام ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ وزیراعظم پیڈرو سانچیز خود ان مقدمات میں نامزد نہیں ہیں تاہم ان کے قریبی ساتھیوں اور خاندان کے افراد کے خلاف تحقیقات نے ان کی پہلے ہی کمزور اتحادی حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھا دیا ہے۔ اپوزیشن کا استعفے کا مطالبہ اسپین کی مرکزی قدامت پسند اپوزیشن جماعت کے رہنما البرٹو نونیز فے خو نے وزیراعظم سانچیز سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکومت اپنے آخری مراحل میں پہنچ چکی ہے۔ اسپین میں اگلے عام انتخابات اگست 2027 تک ہونے ہیں تاہم سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ کمزور اتحادی حکومت اس سے پہلے بھی ختم ہو سکتی ہے۔ حکومت میں شامل بعض علاقائی اور بائیں بازو کی جماعتوں نے بھی کرپشن اور پارٹی فنڈز کے مبینہ غلط استعمال پر تشویش ظاہر کی ہے۔ دوسری جانب سانچیز نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی آئینی مدت مکمل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ حالیہ رائے عامہ کے جائزوں میں اپوزیشن کی پیپلز پارٹی کو برتری حاصل دکھائی گئی ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ انتہائی دائیں بازو کی جماعت ووکس کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ سکتی ہے۔ تاہم اسپین کے پیچیدہ پارلیمانی نظام کے باعث فوری طور پر حکومت کی تبدیلی آسان نہیں۔ وزیراعظم کو عہدے سے ہٹانے کے لیے پارلیمنٹ میں کسی متبادل امیدوار کی حمایت ضروری ہے۔ یوں پیڈرو سانچیز کے لیے سیاسی صورتحال پہلے سے کہیں زیادہ مشکل دکھائی دے رہی ہے لیکن ان کی فوری سیاسی بقا کا انحصار اتحادی جماعتوں کی حمایت اور ان کے قریبی حلقے سے متعلق جاری مقدمات کے ممکنہ فیصلوں پر ہے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل