Tuesday, September 01, 2026
 

امریکا عبوری معاہدے پر عمل کرے تو تہران بھی شرائط پر عمل در آمد کیلئے تیار ہے، ایرانی صدر پزشکیان

 



بشکیک: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اگر امریکا جون میں ہونے والے عبوری معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں اور وعدوں پر واپس آتا ہے تو ایران بھی فوری طور پر اسی کے مطابق جواب دے گا۔ رائٹرز کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ بیان کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کے موقع پر دیا۔ ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر پزشکیان نے امریکا کے ساتھ جاری تنازع اور معاہدے سے متعلق ایران کا مؤقف واضح کیا۔ مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ ہونے والے عبوری معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے لیے واشنگٹن کو بھی اپنی ذمہ داریوں کی طرف واپس آنا ہوگا۔ ایرانی صدر کے مطابق اگر امریکا جون میں طے پانے والے عبوری معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتا ہے تو تہران بھی فوری طور پر اس کا جواب دے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ حالیہ فوجی کارروائیوں اور ایک دوسرے کے خلاف حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات اور کسی ممکنہ سیاسی حل کے امکانات پر عالمی سطح پر توجہ مرکوز ہے۔ ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ کسی بھی مذاکراتی عمل کے لیے باہمی اعتماد اور دونوں جانب سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری ضروری ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ یک طرفہ اقدامات کے بجائے امریکا کو بھی اپنے وعدوں پر عمل کرنا ہوگا۔ دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان عبوری معاہدے سے متعلق اختلافات پہلے ہی دونوں ممالک کے تعلقات کو پیچیدہ بنا چکے ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ اگر واشنگٹن اپنے سابقہ وعدوں پر عمل درآمد کرتا ہے تو تہران بھی مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہوسکتا ہے۔ صدر پزشکیان کا تازہ بیان اس لحاظ سے اہم قرار دیا جارہا ہے کہ ایران نے ایک بار پھر مکمل طور پر مذاکرات کا دروازہ بند کرنے کے بجائے امریکی اقدامات سے مشروط طور پر جواب دینے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل