Loading
ایران کے پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز کے مشرقی حصے میں امریکا کا MQ-9 ڈرون کو جدید فضائی دفاعی نظام کے ذریعے مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔
یہ دعویٰ ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی پر جاری پاسداران انقلاب کے ایک بیان میں کیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی فضائی دفاع نے آبنائے ہرمز کے مشرقی حصے میں ایک امریکی MQ-9 ڈرون کو ایک نئے اور جدید فضائی دفاعی نظام کا استعمال کرتے ہوئے نشانہ بنایا۔
خیال رہے کہ MQ-9 ریپر امریکی فوج کا ایک جدید مسلح ڈرون ہے جسے نگرانی، انٹیلی جنس اور بعض صورتوں میں حملہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
ایرانی دعوے کے مطابق ڈرون کو ایسے وقت میں نشانہ بنایا گیا جب خطے میں امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ تاہم امریکی حکام کی جانب سے فوری طور پر اس دعوے کی تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔
اس سے قبل اتوار کی رات ایران نے اردن میں موجود دو فضائی اڈوں اور متحدہ عرب امارات میں ایک ایسے اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا جہاں امریکی فوجی موجود ہیں۔
ایران کا کہنا ہے کہ اردن پر یہ حملے آبنائے ہرمز میں لارک جزیرے پر امریکی حملوں کے جواب میں کیے گئے۔
ایرانی مؤقف ہے کہ امریکا کی عسکری کارروائی کے ردعمل میں اس نے خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو اردن میں امریکی اہلکاروں پر ہونے والے ایرانی حملوں کے جواب میں کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اس کا جواب دے گا۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا بھر میں تیل و گیس کی بڑی مقدار ترسیل کی جاتی ہے اور اس آبی گزرگاہ کی بندش سے توانائی کا بحران پیدا ہوگیا ہے اور قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل