Monday, August 31, 2026
 

بھارت میں 16 سالہ لڑکی سے چلتی بس میں اجتماعی زیادتی؛ نیم مردہ حالت میں پھینک دیا

 



بھارتی شہر گریٹر نوئیڈا میں 16 سالہ لڑکی کو چلتی بس میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد دہلی میں سڑک کنارے پھینک دیا گیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ 4 اگست کو پیش آیا جب اتر پردیش کے ضلع مین پوری سے تعلق رکھنے والی نوعمر لڑکی اپنے کزن کے گھر نوئیڈا جانے کے لیے نکلی تھی۔ پولیس نے بتایا کہ لڑکی نے نوئیڈا کے پری چوک پر بس سے اترنے کے بعد محسوس کیا کہ وہ اپنی منزل تک نہیں پہنچی اور مزید تقریباً 25 کلومیٹر سفر باقی تھا۔ اس دوران رات کے وقت شدید بارش اور اندھیرے میں ایک بس اس کے قریب آکر رکی۔ بس میں کوئی مسافر موجود نہیں تھا جبکہ یہ ایک طویل فاصلے کی سلیپر بس تھی جس کی نشستوں اور برتھوں کے درمیان پردے لگے ہوئے تھے۔ بس کے کنڈیکٹر نے لڑکی کو بتایا کہ یہ بس بھی نوئیڈا سیکٹر 63 کی جانب جارہی ہے جس پر وہ اس میں سوار ہوگئی۔ تاہم تفتیش میں معلوم ہوا کہ بس دراصل گریٹر نوئیڈا کے سورج پور میں واقع ورکشاپ سے واپس آرہی تھی۔ لڑکی نے پولیس کو دی گئی شکایت میں الزام عائد کیا کہ بس چلنے کے کچھ ہی دیر بعد کنڈیکٹر نے اس کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا اور اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ متاثرہ لڑکی نے مزید بتایا کہ بعد میں ڈرائیور نے بھی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور ان دونوں نے تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیں۔ جنسی زیادتی کے بعد ملزمان نے لڑکی کو دہلی کے کشمیری گیٹ کے قریب رنگ روڈ پر شدید زخمی حالت میں پھینک کر فرار ہوگئے۔ پولیس بس کی نقل و حرکت کے راستے پر موجود سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیجز کی مدد سے ملزمان تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئی۔ بس ڈرائیور 39 سالہ کلدیپ اور کنڈیکٹر 26 سالہ سندیپ کو گرفتار کرلیا گیا۔ پولیس نے جرم میں استعمال ہونے والی سلیپر بس بھی قبضے میں کرلی۔ فرانزک ماہرین نے بس کا معائنہ کیا اور اندر سے لڑکی کے بالوں کے کچھ ریشے بھی ملنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ تحقیقاتی ٹیم نے بس کے پورے روٹ کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کرلی ہے جس کی مدد سے واقعے سے پہلے اور بعد میں بس کی نقل و حرکت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ 2012 کے نربھیا کیس کی یاد تازہ اس واقعے نے بھارت میں دسمبر 2012 کے نربھیا کیس کی یاد تازہ کردی ہے۔ جس میں نوجوان لڑکی کو چلتی بس میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا اور ہولناک واقعے پر فلم بھی بنی تھی۔ اس واقعے کے بعد پورے بھارت میں خواتین کے تحفظ اور جنسی جرائم کے قوانین پر شدید بحث شروع ہوئی تھی لیکن اس کے باوجود بھارت میں ایسے واقعات کی روک تھام نہیں ہوسکی ہے۔ مودی سرکار میں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے کیسز میں ہوشربا اضافے کے بعد سے ہندوستان کو ریپستان کہا جانے لگا ہے جہاں گائے ماتا تو محفوظ ہے لیکن خواتین کی عزت تار تار ہے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل