Tuesday, September 01, 2026
 

آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر پر نامعلوم پروجیکٹائلز کے 3 حملے، بحری آمدورفت پر تشویش بڑھ گئی

 



لندن: امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے دوران آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر کو تین نامعلوم پروجیکٹائلز کا نشانہ بنائے جانے کی اطلاع سامنے آئی ہے، جس کے بعد اہم سمندری گزرگاہ کی سکیورٹی صورتحال پر ایک بار پھر تشویش بڑھ گئی ہے۔ برطانوی میری ٹائم ایجنسی کے مطابق یہ واقعہ رات کے وقت پیش آیا، جب تین نامعلوم پروجیکٹائلز نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک ٹینکر کو نشانہ بنایا۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ یہ پروجیکٹائلز کہاں سے فائر کیے گئے اور حملے کے پیچھے کون ذمہ دار ہے۔ حکام کی جانب سے ٹینکر کے نام، اس کے عملے اور ممکنہ نقصان سے متعلق فوری طور پر مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ واقعے کے بعد آبنائے ہرمز میں موجود دیگر تجارتی جہازوں کی سلامتی کے حوالے سے بھی خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ آبنائے ہرمز خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان واقع دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ خلیج فارس سے عالمی منڈیوں کی جانب جانے والے تیل اور دیگر توانائی کی مصنوعات کی بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے، اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی فوجی کشیدگی عالمی توانائی کی سپلائی کو متاثر کرسکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے فروری کے آخر میں ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے کے بعد تہران نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پر مؤثر طور پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔ ایران کا مؤقف ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرنا چاہتا ہے۔ ایرانی حکام نے ان بحری جہازوں کے خلاف کارروائیوں کا بھی دعویٰ کیا ہے جن پر الزام ہے کہ وہ ایران کی جانب سے مقرر کردہ یا ترجیحی راستے کو نظر انداز کرتے ہوئے آبنائے سے گزرنے کی کوشش کررہے تھے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل