Tuesday, September 01, 2026
 

امریکا؛ 13 سالہ طالبعلم کے جنسی استحصال اور ویڈیوز بنانے پر خاتون ٹیچر کو 15 سال قید

 



امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک ٹیچر کو 13 سالہ طالب علم کو جنسی استحصال کا نشانہ بنانے اور ان لمحات کی ویڈیوز اور تصاویر ریکارڈ کرنے کے جرم میں 15 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس پورے کیس میں ملزمہ کے وکیل کی جانب سے عدالت میں پیش کیا گیا مضحکہ خیزعذر انتہائی حیران کن تھا۔ وکیلِ صفائی نے جرم کی شدت کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے  دلیل دی تھی کہ ان کی مؤکلہ نے اس تعلق کو اس لیے جاری رکھا کیونکہ وہ نوعمر لڑکے کا دل نہیں توڑنا چاہتی تھیں اور وہ جذباتی طور پر اس سے وابستہ ہوچکی تھی۔ وارڈن سے تعلق رکھنے والی اسکول ٹیچر 26 سالہ اینڈریا لی کیمپوس ہرنینڈز نے چائلڈ پورنوگرافی تیار کرنے کے الزامات کا اعتراف کیا تھا۔ انھوں نے فروری 2021 سے جولائی 2022 کے دوران اس گھناؤنے فعل کا ارتکاب کیا اور متاثرہ بچے کو اپنی نازیبا تصاویر بھی بھیجتی رہیں۔ ملزمہ نے نہ صرف استاد کے پیشے کا غلط فائدہ اٹھایا بلکہ بچے کے خاندان کے ساتھ اپنے قریبی دوستی کا بھی ناجائز استعمال کیا۔ سماعت کے دوران متاثرہ لڑکے نے ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملزمہ کو مخاطب کرکے کہا کہ آج میں اس لیے بول رہا ہوں کیونکہ اب میرا بولنا تمہارے اختیار میں نہیں ہے۔ تم نے مجھ سے میرے بچپن کا وہ حصہ چھین لیا جو مجھے کبھی واپس نہیں مل سکے گا۔ متاثرہ بچے کی ماں نے روتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ان کی زندگی کی سب سے تکلیف دہ یاد وہ راتیں ہیں جب ان کا بیٹا آدھی رات کو اپنے کمرے میں اکیلا روتا تھا اور وہ اس کے کرب سے ناواقف تھیں کیونکہ وہ اس بارے میں بات کرنے کی ہمت نہیں پا رہا تھا۔ عدالت نے ملزمہ کو 15 سال قید کی سزا سنائی ہے جس کے بعد بھی انھیں 10 سال تک کڑی نگرانی میں رہنا ہو گا اور متاثرہ بچے کو 15 ہزار ڈالرز معاوضہ ادا کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔ علاوہ ازیں ملزمہ کا نام مستقل طور پر جنسی جرائم کے مرتکب افراد کے ریکارڈ میں شامل رہے گا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل