Tuesday, September 01, 2026
 

ڈرائیور لیس کار کی موبائل سے ٹکر؛ پولیس کا نوجوان کیخلاف کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ

 



اسلام آباد پولیس نے بغیر ڈرائیور کے خودکار طریقے سے چلنے والی گاڑی کے واقعے میں نوجوان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرنے اور مزید موقع دینے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ نوجوان نے بھی اپنی ایجادات پر کام جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق ایک روز قبل نوجوان کی ٹیسٹ ڈرائیو کی ویڈیو وائرل ہوئی جس میں گاڑی بغیر ڈرائیور کے چل رہی تھی اور پھر ایک دم سے کنٹرول سے باہر ہوکر اسلام آباد پولیس کی موبائل سے جاکر ٹکرائی۔ اسلام آباد پولیس کے ایس پی سٹی ڈاکٹر ایاز حسین نے نوجوان طالب علم احسان عباسی کے ساتھ ویڈیو شیئر کی جس میں نوجوان کا تعارف کروایا اور بتایا کہ احسان کامسٹیس یونیورسٹی کے کمپیوٹر انجنیئرنگ کے تھرڈ سمیسٹر کے طالب علم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک گاڑی پولیس کی وین کے ساتھ جاکر ٹکرائی، جس کے بعد واقعے کی مکمل تحقیقات کی گئیں تو یہ بات سامنے آئی کہ معاملہ اتفاقی حادثہ تھا۔  ’’یقینی طور پر پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں‘‘، رپورٹر یہ بتاتے ہوئے بغیر ڈرائیور کے گاڑی چلانے کا تجربہ دکھا رہے تھے جو ناکام ہو گیا، گاڑی پولیس کی وین سے جا ٹکرائی، ڈز کی آواز آئی، رپورٹر نے ہینڈ بریک کھینچنے کی کوشش بھی کی۔۔!! pic.twitter.com/iGHHdY2TCS — Khurram Iqbal (@khurram143) August 31, 2026 ایس پی سٹی نے کہا کہ احسان عباسی جیسے نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں اور یہ حقیقتاً اپنی ایک دریافت کی آزمائش کررہے تھے جس کے دوران ایک انسانی غلطی ہوئی۔ نوجوان طالب علم انجینئر احسان ظفر عباسی نے کہا کہ میں نے 2018 سے گھر میں لیبارٹری بنائی ہوئی ہے جہاں پریکٹیکل کررہا تھا، میرا بغیر ڈرائیور انٹرنیٹ کی مدد سے گاڑی چلانے کا پروجیکٹ تھا۔ صحافی نے ویڈیو کے دوران مجھ سے گفتگو کی تو غلط بٹن دبا اور پھر گاڑی سیدھی طرف مڑنے کے بجائے الٹے ہاتھ پر مڑی اور پولیس وین سے ٹکرا گئی۔ سوشل میڈیا پر پولیس وین سے ٹکرانے والی گاڑی کی وائرل ویڈیو کا معاملہ۔ پولیس گاڑی سے ٹکرانے والی گاڑی کے معاملے پر ایس پی سٹی زون ڈاکٹر ایاز حسین کا نوجوان کے ہمراہ ویڈیو پیغام ملاحظہ کیجیے۔#WeRIslamabadPolice pic.twitter.com/wnbkNaP102 — Islamabad Police (@ICT_Police) September 1, 2026 انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد پولیس نے میرے ساتھ بہت تعاون کیا، سسٹم کو سمجھا اور سوال و جواب کی نشست بھی کی۔ احسان ظفر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اس طرح کی ایجادات پر کام کے سلسلے کو جاری رکھیں گے اور نوجوانوں کیلیے مثال بنتے ہوئے پاکستان کا نام روشن کریں گے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل