Loading
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمہ میں صحافی بلال غوری کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق صحافی بلال غوری کو جوڈیشل مجسٹریٹ ملک امان کی عدالت میں پیش کیا گیا، این سی سی آئی نے ملزم کے دس روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، تفتیشی افسر نے کہا کہ یوٹیوب اور ایکس اکاؤنٹ کی ریکوری درکار ہے۔
بلال غوری کے وکیل حنظلہ حبیب نے کہا کہ پانچ ستمبر کو وی لاگ اپ لوڈ ہوا، کوئی نوٹس نہیں دیا گیا ڈائریکٹ ہی گرفتار کرلیا گیا، ہماری عدالتوں کے حوالے سے جو رائے بن چکی ہے وہ ٹھیک نہیں ہے۔
وکیل نے کہا کہ یہ پورا پروگرام یوٹیوب پر موجود ہے، ایک لفظ بھی ایسا نہیں ہے کہ جو غلط ہو جھوٹ بولا گیا ہو۔
جوڈیشل مجسٹریٹ نے بلال غوری سے پوچھا کہ اس طرح کے الفاظ کیا آپ کو مناسب لگتے ہیں؟
صحافی بلال غوری نے کہا کہ ادارے کی کارکردگی کے بارے میں بات ہو رہی تھی، میں نے فیصل نصیر کے خلاف نہیں نیکٹا کے بارے میں بات کی۔
جوڈیشل مجسٹریٹ نے پوچھا کہ آخر میں کیا کہا ہے آپ نے؟ صحافی بلال غوری نے کہا کہ میں نے یہی کہا کہ جو فیلڈ مارشل کہیں گے وہ وہی کریں گے۔
اس پر جج نے کہا کہ کیا آپ کل میرے حوالے سے بھی یہ کہیں گے ؟ جو سیشن جج کہے گا وہ کریں گے؟ اس پر بلال غوری نے کہا کہ عدلیہ آزاد ہے لیکن وہاں تو چین آف کمانڈ ہے یہ لوگ کمانڈ کی ماتحت ہوتے ہیں۔
بعدازاں عدالت نے صحافی بلال غوری کا تین دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل