Loading
عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ ججز انصاف دینے کی کوشش کرتے ہیں، حکومت احکامات نہیں مانتی۔ پوری حکومت سپریم کورٹ میں توہین عدالت میں ہے۔ ججز کو پتا ہے آج انصاف نہیں دیں گے تو منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
علیمہ خان نے کہا کہ بلاجواز سزائیں دینا جرم ہوگا، میں عدالت نہ آتی تو فوری وارنٹ گرفتاری جاری ہوتے، میرے 11 بار وارنٹ نکلے، شناختی کارڈ بلاک اور بینک اکاؤنٹس منجمد ہوئے۔ ایک ماہ سے میرے کیس میں کوئی کارروائی نہیں ہورہی، میرے کیس کا فیصلہ کریں، سزا دیں یا کیس ختم کریں۔
انہوں نے کہا کہ ایک ماہ سے پراسیکیوشن میرے کیس سے بھاگ رہی ہے، لاہور ہائیکورٹ کے جج نے استعفیٰ دیا، کہا واٹس ایپ پیغامات پر فیصلے نہیں کرسکتا۔ جو جج آئین و قانون کے مطابق چلتا ہے اسے دھمکیاں دینے لگتے ہیں۔
علیمہ خان نے کہا کہ حکمرانوں نے ملک کو لوٹ مار کی چراگاہ بنا رکھا ہے، مشکل وقت شروع ہوتے ہی حکمران بیرون ممالک بھاگ جاتے ہیں۔
وکیل صفائی فیصل محمود ملک نے میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا کہ آج علیمہ خان کیس تھا، 22 ستمبر کی لمبی تاریخ دے دی گئی، کل میں اور پراسیکیوٹر بیٹھیں گے، مشاورت سے یہ تاریخ چھوٹی کرائیں گے۔
فیصل محمود ملک نے کہا کہ علیمہ خان کے خلاف اس مقدمے میں کوئی شواہد نہیں، مکمل بوگس کیس ہے۔ پراسیکیوشن کیس سے بھاگ رہی ہے، عدالت باعزت بری کرے۔ پنجاب حکومت صوبے میں قوانین مسخ کر رہی ہے۔
وکیل صفائی نے کہا کہ علیمہ خان کو صرف بانی پی ٹی آئی کی بہن ہونے کی سزا دی جارہی ہے، یہ کیس مکمل اڑ چکا ہے، ہم فوری فیصلہ چاہتے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل