Tuesday, September 08, 2026
 

سندھ اسمبلی میں گرما گرمی

 



سندھ اسمبلی نے سندھ کی تقسیم کی مخالفت میں پانچویں بار قرارداد اکثریت رائے سے منظور کر لی ۔ قراد داد میں واضع کردیا گیا ہے یکہ سندھ کی جغرافیائی وحدت پر کوئی سمجھوتہ ہوگا اور نہ ہی سندھ تقسیم ہوگا۔ پی پی کی سندھ میں 18 سال سے قائم حکومت میں پانچویں بار جو قرارداد منظور کی گئی ہے اس میں اس بار انتظامی یونٹ کا اضافہ بھی کیا گیا ہے اور انتظامی یونٹوں کی تجویز بھی مسترد کی گئی ہے۔ اپوزیشن نے بائیکاٹ کیا،اس کا موقف تھا کہ اول تو قرارداد لانے کی پانچویں بار ضرورت ہی نہیں تھی کیونکہ ہم صوبے کی تقسیم کی بات نہیں کرتے اور نہ ہی ایم کیو ایم کی قیادت سندھ کی تقسیم کا مطالبہ کرتی ہے اور یہ ایوان بھی بار بار سندھ کی تقسیم کی بات مسترد کر چکا ہے اور اپوزیشن کی طرف سے سندھ کی تقسیم کی کوئی بات نہیں ہوئی ،صرف کرپشن اور بیڈ گورننس کے بعد ہم مجبوراً نئے انتظامی یونٹس کی بات کر رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے قومی اسمبلی کو بھی خبردار کیا کہ سندھ ناقابل تقسیم ہے، کوئی صوبے کی تقسیم کی بات نہ کرے، جغرافیائی وحدت ہر حال میں برقرار رہے گی۔ اس موقع پر پہلی بار وزیر اعلیٰ سمیت وزیروں اور ارکان اسمبلی نے صوبے کی تقسیم کے خلاف بینرز بھی اٹھائے ہوئے تھے۔ پیپلز پارٹی کے تمام ارکان اسمبلی نے سندھ کی وحدت برقرار رکھنے اور انتظامی یونٹس کے قیام کو بھی مسترد کرنے کا متفقہ فیصلہ دیا۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا کہ اس تاریخی موقع پر اپوزیشن والے ووٹنگ میں شامل ہونا ہی نہیں چاہتے تھے اور ایم کیو ایم کا ایوان سے واک آؤٹ پہلے سے طے شدہ منصوبہ تھا اور جماعت اسلامی کا موقف بھی سندھ کے عوام کے سامنے بے نقاب ہو گیا ہے جب کہ پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی ایک روز قبل ہی کہہ چکے تھے کہ وہ قرارداد کی حمایت نہیں کریں گے۔ ایوان میں قرارداد پیش ہونے سے قبل اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے پانچویں بار قرارداد پیش کرنے کو غیر ضروری قرار دیا اور اپوزیشن کی بات نہ مانے جانے پر جب ایوان سے بائیکاٹ کیا اور باہر جانے لگے تو اسپیکر نے انھیں روکنے کی کوشش کی جو نہیں مانی گئی اور چار روز جاری رہنے والے اجلاس کے آخری روز اپوزیشن بائیکاٹ کرکے ایوان سے چلی گئی جس کے بعد بھاری اکثریت سے یہ قرارداد بھی منظور کر لی گئی۔ سندھ اسمبلی پہلے ہی چار بار سندھ کی تقسیم کی مخالفت میں قرارداد منظور کر چکی ہے۔ سندھ اسمبلی کا تحریک التوا پر بحث کا یہ اجلاس چار روز جاری رہا مگر اپوزیشن کے کسی بھی رکن نے سندھ کی تقسیم کی کوئی بات نہیں کی اور صرف انتظامی یونٹس کے قیام کی تجویز دی جس پر نثار کھوڑو نے کہا کہ سندھ میں ڈویژنوں کی سطح پر انتظامی یونٹس پہلے سے ہی موجود ہیں، اس لیے سندھ میں انتظامی یونٹس کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے اور ہر کام قانون کے تحت سرانجام دیا جا رہا ہے۔ چار روزہ اسمبلی اجلاس میں ہر رکن کو اسپیکر اویس شاہ نے دس دس منٹ کے اظہار خیال کا موقعہ دیا جس کے دوران بعض حکومتی ارکان نے جذباتی تقاریر بھی کیں جس پر ایوان میں اعتراضات اور شور شرابا بھی ہوا اور حکومت اور اپوزیشن ارکان کے بعض قابل اعتراض ریمارکس اسپیکر نے حذف بھی کیے اور ایوان میں سیر حاصل بحث بھی ہوئی ۔ اجلاس میں حکومتی ارکان نے وفاقی وزیر داخلہ کا کوئی ذکر ہی نہیں کیا کہ جنھوں نے نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کی تجویز دی تھی ،ان پر پی پی ارکان نے کوئی تنقید نہیں کی ۔ صرف سندھ اسمبلی میں اپوزیشن کی پارلیمانی پارٹیوں پر سندھ کی وحدت کو نقصان پہنچانے کے الزامات عائد کیے، جس پر اپوزیشن نے کہا کہ یہ تجویز ہم نے نہیں دی ، جس نے دی ہے اس پر تنقید کی جرأت کسی حکومتی رکن نے نہیں کی۔ ایوان میں پی ٹی آئی ارکان نے تحریک التوا سے زیادہ اپنے بانی کی رہائی، انھیں جیل میں سہولتیں نہ ملنے پر زیادہ زور دیا۔ جماعت اسلامی کے واحد رکن نے بھی وہی باتیں کیں جو ایم کیو ایم نے کی تھیں۔ انھوں نے حکومت سندھ کی کارکردگی پر کڑی تنقید کی۔نثار کھوڑو کی تحریک التوا پر اکثر حکومتی ارکان پیچھے بیٹھ کر تقریریں سنتے اور ڈیسک بجاتے رہے باقی سب نے دلوں کی بھڑاس نکالی۔ بعض حکومتی ارکان نے سخت باتیں بھی کیں جس پر اپوزیشن نے اعتراض کیا ۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل