Loading
آج ایک خبر نظر سے گزری اور دیر تک میں اس کے بارے میں سوچتی رہی۔ خبر ایک عدد کی تھی مگر اس ایک عدد کے پیچھے ہماری پوری سماجی زندگی چھپی ہوئی ہے۔ہم اس سماج سے تعلق رکھتے ہیں جہاں ماں کے قدموں کے نیچے جنت بتائی گئی ہے۔ ماں کو وہ مقام دیا گیا ہے جس کے سامنے دنیا کی بڑی سے بڑی دولت بھی ہیچ دکھائی دیتی ہے۔ ہم اپنی ماؤں کے ہاتھ چومتے ہیں ،ان کی خدمت کو سعادت سمجھتے ہیں ،ان کے لیے دعائیں کرتے ہیں اور فخر سے کہتے ہیں کہ ماں کا مقام سب سے بلند ہے۔
مگر پھر ایک لمحے کے لیے رک کر یہ بھی دیکھ لیجیے کہ جس ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہے ،اس ماں کے نام پہ زمین کتنی ہے۔ یہ سوال مجھے اس خبر تک لے گیا کہ پاکستان میں عورتوں کی زمین کی ملکیت تقریباً دو فیصد ہے اور سندھ میں یہ شرح ایک فیصد سے بھی کم یعنی صفر اعشاریہ نو فیصد ہے۔یہ اعداد محض اعداد نہیں، یہ ہمارے اس رویے کا آئینہ ہیں جس میں عورت کو زبانی کلامی بے پناہ عزت دی جاتی ہے مگر جب عزت کو حق میں تبدیل کرنے کا وقت آتا ہے تو ہمارے ہاتھ رک جاتے ہیں۔
ہم عورت کو ماں کہتے ہیں تو اس کے قدموں میں جنت رکھ دیتے ہیں لیکن بیٹی ہوتی ہے تو اسے باپ کی جائیداد میں حصہ دینے کے وقت ہماری پیشانی پر شکن آ جاتی ہے۔ بہن ہوتی ہے تو اس کا حق بھائی کی خوشی اور خاندان کی مصلحت کے سامنے چھوٹا ہو جاتا ہے۔ بیوی ہوتی ہے تو اسے گھر کی ملکہ کہا جاتا ہے مگر اس گھر کی ملکیت کے کاغذ پر اس کا نام تلاش کیا جائے تو اکثر وہ غائب ہوتا ہے۔ یہ کیسا احترام ہے جو عورت کو نام تو بہت دیتا ہے مگر ملکیت نہیں دیتا۔
ہماری عورت ماں بنتی ہے تو مقدس ہو جاتی ہے۔ بیٹی بنتی ہے تو رحمت قرار پاتی ہے۔ بہن بنتی ہے تو عزت کا نشان بن جاتی ہے۔ بیوی بنتی ہے تو گھر کی بنیاد کہلاتی ہے، مگر جب یہی عورت ایک شہری اور ایک سماجی فرد کی حیثیت سے اپنے حق کی بات کرتی ہے تو اچانک اسے بتایا جاتا ہے کہ خاندان کی خوشی اسی میں ہے کہ وہ خاموش رہے۔اسے کہا جاتا ہے تمہیں جائیداد کی کیا ضرورت ہے تم تو اپنے شوہر کے گھر میں ہو، زمین جائیداد بھائیوں کے پاس رہنے دو، زمین کو تقسیم کرنے کی بات نہ کرو، رشتے خراب ہو جائیں گے، لوگ کیا کہیں گے؟ یوں ایک عورت سے اس کا حق چھیننے کے لیے محبت ،خاندان، عزت اور مصلحت سب کو اس کے سامنے لا کھڑا کیا جاتا ہے۔
سب سے عجیب بات یہ ہے کہ جو چیز مرد کے لیے حق ہے، عورت کے لیے اسے اکثر احسان بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ بیٹے کو وراثت ملے تو یہ معمول ہے۔ بیٹی اپنا حصہ مانگے تو سوال اٹھتا ہے کہ آخر اس ضرورت کیوں پڑ گئی۔ یہاں ہمیں اپنے آپ سے ایک بنیادی سوال کرنا چاہیے اگر کسی عورت کا اپنا حق مانگنا خاندان کے لیے خطرہ بن جائے تو خطرہ عورت کے مطالبے میں ہے یا اس خاندانی نظام میں جو انصاف برداشت نہیں کر سکتا۔ہم نے عورت کے حق وراثت کو شاید اسی لیے پیچیدہ بنا دیا ہے کہ ہمیں اس حق کو تسلیم کرنے کے بجائے عورت کی قربانی زیادہ آسان محسوس ہوتی ہے۔
ہماری عورت سے ہر مرحلے پر قربانی مانگی گئی ہے بچپن میں بھائی کے لیے جوانی میں شوہر کے لیے، ماں بن کر بچوں کے لیے جب باپ کی جائیداد تقسیم ہو تو خاندان کے لیے۔ آخر عورت کی اپنی باری کب آئے گی۔ ہماری سماجی تربیت میں عورت کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ وہ رشتہ بچائے، گھر بچائے، بھائی بچائے ،شوہر بچائے ،اولاد بچائے۔ مگر بہت کم اسے یہ سکھایا جاتا ہے کہ اپنا حق بھی بچانا ہے یہاں مسئلہ صرف زمین کا نہیں۔ ملکیت دراصل طاقت کا دوسرا نام ہے۔جس کے پاس اپنے نام کا گھر ہو، زمین ہو، دکان ہو یا کوئی دوسرا اثاثہ ہو اس کے پاس زندگی کے فیصلے کرنے کی ایک اضافی قوت ہوتی ہے۔ وہ مشکل وقت میں کسی حد تک اپنے قدموں پر کھڑا ہو سکتا ہے۔ لیکن جس عورت کے پاس اپنی زندگی بھر کی محنت کے باوجود اپنے نام کچھ نہ ہو، اس کی معاشی آزادی ہمیشہ کمزور رہتی ہے۔ اسی لیے عورت کی ملکیت کا سوال عورت کی آزادی کا سوال ہے۔
ہم عورت کو تعلیم دینے کی بات کرتے ہیں۔ اسے ملازمت دینے کی بات کرتے ہیں۔ اسے سیاست میں لانے کی بات کرتے ہیں۔ یہ سب ضروری ہے لیکن اگر ایک تعلیم یافتہ عورت بھی اپنے والد کی جائیداد میں اپنا حصہ لینے سے خوفزدہ ہو، اگر ایک برسوں ملازمت کرنے والی عورت کے نام کوئی اثاثہ نہ ہو، اگر ایک ماں جس نے اپنی پوری زندگی گھر بنانے میں گزار دی ہو خود اس گھر کی قانونی مالک نہ ہو تو ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری آزادی کی تعریف ابھی بہت محدود ہے۔
آزادی صرف یہ نہیں کہ عورت اسکول جا سکے۔ آزادی یہ بھی ہے کہ وہ اپنے نام زمین رکھ سکے۔ آزادی صرف یہ نہیں کہ عورت ملازمت کر سکے۔ آزادی یہ بھی ہے کہ اپنی کمائی سے اپنے نام گھر خرید سکے۔ آزادی صرف یہ نہیں کہ عورت ووٹ دے سکے۔ آزادی یہ بھی ہے کہ وہ اپنے معاشی معاملات کا فیصلہ خود کر سکے۔ سب سے اہم بات یہ کہ وراثت میں اپنا حصہ لینے کے لیے اسے اپنے ہی خاندان سے جنگ نہ کرنا پڑے۔
سندھ کا معاملہ اس لیے بھی زیادہ تکلیف دہ محسوس ہوتا ہے کہ سندھ کی تہذیبی روایت میں عورت کے کردار کو بہت بلند مقام حاصل رہا ہے۔ شاہ عبداللطیف بھٹائی کی سسی، ماروی اور مومل ہماری اجتماعی یادداشت کا حصہ ہیں۔ یہ کردار کمزور اور بے زبان عورت کے نہیں اپنے فیصلوں، اپنی محبت، اپنی مزاحمت اور اپنی شخصیت رکھنے والی عورتوں کے کردار ہیں،مگر آج زمین کے ریکارڈ میں عورت کا نام تلاش کریں تو تصویر بالکل مختلف نظر آتی ہے۔
ہماری شاعری میں عورت بلند ہے، ہمارے قصوں میں عورت باوقار ہے، ہماری زبان میں عورت محترم ہے مگر جب ملکیت کی بات آتی ہے تو عورت کہاں ہے ؟یہ سوال صرف سندھ سے نہیں، پورے پاکستان سے ہے اور اس سوال کا جواب صرف حکومتوں سے نہیں مانگا جانا چاہیے۔ یہ سوال ہر گھر میں ہونا چاہیے اور اس سوال کا جواب ملنا چاہیے۔
ہر باپ کو یہ سوچنا ہوگا کہ بیٹی کو وراثت دینا اس پر احسان نہیں اس کا حق ہے۔ ہر بھائی کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بہن کا حصہ دینے سے اس کا حق کم نہیں ہوتا بلکہ اس کا کردار بڑا ہوتا ہے۔ ہر ماں کو اپنی بیٹی کو یہ سکھانا ہوگا کہ اپنے حق کی بات کرنا بدتمیزی یا خود غرضی نہیں۔ ہر بیٹی کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ اپنے باپ کی جائیداد میں حصہ مانگتے ہوئے اسے شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ غریب عورت کے لیے ملکیت کا حق شاید ایک امیر عورت سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ ایک چھوٹی سی زمین، ایک گھر کا حصہ یا کوئی اثاثہ اس عورت اور اس کے بچوں کے لیے زندگی بھر کا تحفظ بن سکتا ہے۔ اس کے برعکس جب عورت کے پاس کوئی معاشی بنیاد نہیں ہوتی تو غربت، تشدد، بے بسی اور دوسروں پر انحصار کا دائرہ نسل در نسل منتقل ہوتا رہتا ہے۔اس لیے عورت کی وراثت کا مسئلہ صرف عورت کا مسئلہ نہیں۔ یہ غربت کا مسئلہ ہے ،معاشی انصاف کا مسئلہ ہے، خاندان کے اندر طاقت کے توازن کا مسئلہ ہے اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کا مسئلہ ہے۔ ہمیں اپنے الفاظ اور اپنے عمل کے درمیان موجود اس فاصلے کو ختم کرنا ہوگا۔
ہم ماں کے قدموں کے نیچے جنت رکھنے کی بات کرتے ہیں بہت خوب ،مگر اب وقت آگیا ہے کہ ہم اس جملے کے اخلاقی مطلب کو اپنی روزمرہ زندگی میں بھی شامل کریں۔ماں کی خدمت صرف اس کے بڑھاپے میں دوا لانے کا نام نہیں۔ ماں کے حق کا احترام یہ بھی ہے کہ اگر وہ اپنے باپ کی وارث ہے تو اسے اس کا حصہ ملے۔ اگر وہ شوہر کی وارث ہے تو اسے اس کا حق ملے، اگر وہ اپنی محنت سے کچھ بناتی ہے تو اس کی ملکیت تسلیم کی جائے۔ بیٹی کو محبت دینا بہت خوب ہے مگر محبت کے ساتھ انصاف بھی چاہیے۔بہن کو عید پر کپڑے دینا بہت خوب ہے مگر اس کے وراثتی حصے کا کاغذ بھی اس کے ہاتھ میں ہونا چاہیے۔
بیوی کو گھر کی ملکہ کہنا بہت خوب ہے مگر اگر وہ واقعی شریکِ حیات ہے تو اس کی معاشی حیثیت بھی تسلیم ہونی چاہیے۔ ہمیں عورت کو صرف عزت دینے سے آگے بڑھ کر اسے حق دینے والا سماج بننا ہوگا،کیونکہ عزت دینے والے الفاظ بہت خوبصورت ہوتے ہیں مگر حق دستاویز میں لکھا جاتا ہے۔
آج جب یہ خبر ہمارے سامنے آئی ہے کہ اس ملک میں عورت کے نام زمین کی ملکیت اتنی کم ہے کہ سندھ میں یہ شرح ایک فیصد تک بھی نہیں پہنچتی تو ہمیں کسی اور سے سوال کرنے سے پہلے اپنے آپ سے سوال کرنا چاہیے۔جس عورت کے قدموں کے نیچے ہم جنت تلاش کرتے ہیں کیا ہم نے اس کے قدموں کے نیچے اپنی زمین بھی رکھی ہے،اگر جواب نفی میں ہے تو پھر مسئلہ صرف عورت کی محرومی کا نہیں مسئلہ ہماری اس سوچ کا ہے جو عورت کو عزت کے اونچے ترین مقام پر تو بٹھاتی ہے مگر حق دیتے ہوئے اسے اپنے برابر کھڑا کرنے سے گھبراتی ہے۔ شاید یہی ہمارے سماج کا سب سے بڑا تضاد ہے۔ ہم عورت کو بہت بلند مقام دیتے ہیں مگر اس کے قدموں کے نیچے سے زمین چھین لیتے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل