Tuesday, September 08, 2026
 

دھرنے اور عوام کا رویہ

 



دائیں بازو کی مذہبی سیاسی جماعت اسلامی پیٹرول اور ڈیزل وغیرہ کی قیمتوں میں کمی کے لیے گزشتہ کئی مہینوں سے احتجاج کررہی ہے۔ جماعت اسلامی نے کراچی، لاہور اور پشاور میں گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنے دینے کا فیصلہ کیا۔ اگرچہ کراچی میں ریڈ زون میں سیاسی اجتماع کرنا جرم ہے مگر سندھ حکومت نے جماعت اسلامی کو کراچی کے گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنا دینے کی اجازت دیدی۔ اب گورنر ہاؤس سے کراچی پریس کلب تک جماعت اسلامی کے کارکنوں کے نعروں اور تقاریر کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ جب کوئی فرد اس دھرنے کے قریب سے گزرتا ہے تو روشنیوں اور نعرے سنتا ہے تو اس کو کسی میلہ کا تاثر ملتا ہے۔ جماعت اسلامی نے مہنگائی جیسے اہم ترین مسئلے پر ملک بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی اپیل کی تھی مگر کراچی اور لاہور میں جزوی ہڑتال اور کورنگی کراچی میں سڑک بند کرنے کے علاوہ کوئی اور بڑا واقعہ نہیں سامنے آیا۔ کراچی ضلع جنوبی کی پولیس نے چند کارکنوں کو گرفتار کیا ۔ اب جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان بات چیت شروع ہوئی ہے۔ وفاقی حکومت نے اپنے تین رہنماؤں کو جماعت اسلامی کی قیادت سے مذاکرات کے لیے نامزد کیا ہے ، ان میں سے دو وہ ہیں جو کبھی جماعت اسلامی کی طلبہ ونگ اسلامی جمعیت طلبہ کے رکن تھے۔ جماعت اسلامی کے اس دھرنے کے دوران پیٹرولیم کی وزارت نے پیٹرول کی قیمتوں میں کم از کم 12 روپے فی لیٹر اضافہ کیا۔ اب جماعت اسلامی کے قائد انجینئر حافظ نعیم الرحمن اور لیاقت بلوچ کی حکومتی نمائندوں سے مذاکرات کے کیا نتائج برآمد ہوںگے، اس کا نتیجہ جلد سامنے آجائے گا۔ سیاسی دھرنوں کی اپنی تاریخ ہے۔ پارلیمانی جمہوریت کی پہلی مثال برطانیہ کی سیاسی جماعتوں، مزدوروں، دانشوروں اور خواتین وغیرہ نے دھرنے دیے۔ برطانیہ میں 19ویں صدی کے آخری اور 20ویں صدی کے پہلے عشرے میں برطانیہ میں خواتین نے پارلیمنٹ ہاؤس اور وزیر اعظم کی قیام گاہ 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ پر دھرنے دے کر ووٹ دینے کا حق حاصل کیا تھا۔ لندن کے Trafalgar Squareپر کبھی امریکا کی ویتنام میں حکومت کے خلاف احتجاجی دھرنے ہوتے تھے۔  اس صدی کے پہلے عشرے میں عراق پر امریکا اور برطانیہ کے حملوں کے خلاف لاکھوں لوگوں نے احتجاجی جلوس نکالے اور دھرنے دیے تھے مگر یہ دھرنے اسی دن ختم ہوجاتے تھے۔ بھارت میں معروف سماجی کارکن انا ہزارے نے 2025 میں کرپشن کے خاتمے کے لیے دہلی میں تاریخی دھرنا دیا تھا۔ اس دھرنے کے نتیجے میں بھارت میں اطلاعات کے حصول کا قانون (Right to Information Act RTI) منظور ہوا تھا۔ انا ہزارے 1937ء میں مہاراشترا کے گاؤں بھنگر میں پیدا ہوئے، پھر وہ ممبئی منتقل ہوئے۔ انا ہزارے نے غربت کی زندگی گزاری۔ انھوں نے پہلے اپنے گاؤں Relegan Sippi میں ترقی کی کوشش کی تھی۔ انا ہزارے نے 2011ء میں نئی دہلی کے علاقہ جنتر منتر اور رمیلا میلان میں کرپشن کے ناسور کے خاتمہ کے لیے طویل بھوک ہڑتال کی تھی۔ ان کے ساتھ ہزاروں افراد دھرنے میں شریک تھے۔ انا ہزارے کی بھوک ہڑتال نے بھارت میں متوسط طبقہ کو کرپشن کے خاتمہ کے لیے متحد کردیا تھا۔ 72سالہ انا ہزارے کی بھوک ہڑتال کے خاتمے کے لیے کرپشن کے خاتمے کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کو سخت قوانین نافذ کرنے پڑے تھے۔ مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے انا ہزارے کے کرپشن کے خاتمہ کے ایجنڈا کو اپنالیا۔ گزشتہ ماہ بھارت میں اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں داخلوں میں بدعنوانی کے خاتمے اور وزیر تعلیم کے استعفیٰ کے لیے بھارت کی مختلف کمیونسٹ پارٹیوں کے طلبہ ونگ کے کارکنوں اور کاکروچ جنتا پارٹی کے رہنماؤں نے 20 دن سے زیادہ تک بھوک ہڑتال کی۔ جنتر منتر پر سیکڑوں نوجوان اپنے ساتھیوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے دھرنا دیے ہوئے تھے تو جس پر پہلی دفعہ مودی حکومت کو اپنے وزیر تعلیم سے استعفیٰ لینا پڑ گیا۔ 1979 میں جب جنرل ضیاء الحق نے کچھ  قوانین نافذ کیے تو ایک مسلکی جماعت نے پہلے کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر کئی دنوں تک دھرنا دیا ، اسلام آباد میں بھی مظاہرہ ہوا ۔ جنرل ضیاء الحق کو ا س دھرنا کے خاتمہ کے لیے مظاہرین کی قیادت کے کچھ مطالبات ماننے پڑے۔ پیپلز پارٹی کی چوتھی حکومت میں سب سے پہلے طاہر القادری نے اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے قانون میں تبدیلی کے لیے دھرنا دیا تھا مگر وہ ناکام ہوا اور وہ واپس چلے گئے۔ پھر میاں نواز شریف تیسری دفعہ وزیر اعظم بنے تو تحریک انصاف اور علامہ طاہر القادری نے اپنے حامیوں کے ساتھ اسلام آباد کے ریڈ زون میں کئی ماہ تک دھرنے دئیے۔ طاہر القادری پہلے دھرنا ختم کرکے اپنے کارکنوں کے ساتھ لاہور واپس چلے گئے۔ تحریک انصاف کا دھرنا کئی ماہ تک جاری رہا مگر 16 دسمبر 2014ء کو سانحہ اے پی ایس کے نتیجہ میں یہ دھرنا ختم کردیا۔پاکستان میں سیاسی دھرنوں کی ناکامی کی کئی وجوہات بیان کی جاتی ہیں۔ معروف صحافی سہیل سانگی کا کہنا ہے کہ اگرچہ جماعت اسلامی نے پیٹرول جیسی بنیادی اہمیت کی حامل شہ کے لیے دھرنا دیا مگر انھوں نے حزب اختلاف کی جماعتوں کے علاوہ مزدور تنظیموں، سول سوسائٹی کے ساتھ ایک متحدہ محاذ بنا کر جدوجہد نہیںکی۔ ایک انتہائی سینئر صحافی اس صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ بہت سی وجوہات کی بناء پر معاشرے سے اجتماعی جدوجہد کا شعور ختم ہوچکا ہے۔ اگرچہ پیٹرولیم کی قیمتوں میں زبردست اضافے سے متوسط طبقہ بری طرح متاثر ہوا ہے مگر 80ء کی دہائی کے بعد پروان چڑھنے والی نئی نسل سیاسی مشترکہ جدوجہد کی اخلاقیات کی اہمیت کو سمجھنے سے قاصر ہے، اس بناء پر وہ اپنے ہی مسئلے کے حل کے لیے جدوجہد کے راستہ پر توجہ دینے کو تیار نہیں۔ ایک اور خیال یہ ہے کہ 1988 میں پیپلز پارٹی کی قیادت اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان اور جنرل اسلم بیگ کے ساتھ سمجھوتہ کرکے اقتدار میں آئی۔ پیپلز پارٹی کے اس سمجھوتے کی بناء پر جنرل ضیاء الحق کی آمرانہ حکومت نے معاشرے میں تباہی کے اقدامات کے نقصانات کو اجاگر نہیں کیا اور نئی نسل کو ضیاء الحق کے 10سالہ آمرانہ دور کے بارے میں حقائق کا پتہ نہیں چل سکا۔ اس کے ساتھ ہی بالادست طبقوں نے پیپلز پارٹی کی قیادت کے کرپٹ ہونے کا پروپیگنڈا شروع کردیا ۔ سیاسی جماعتوں نے اسٹیبلشمنٹ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دیگر سیاسی جماعتوں کی قیادت پر کرپشن کے الزامات لگائے جس کے نتیجے میں عوام میں سیاسی جماعتوں کی ساکھ ختم ہوگئی۔ ایک اور جہاں دیدہ صحافی کا کہنا ہے کہ ضیاء الحق کے دورِ اقتدار میں طلبہ یونین پر پابندی اور مزدور یونینوں پر مختلف پابندیوںسے نوجوان جمہوری کلچر سے دور ہوگیا جس کا فوری نتیجہ غیر سیاسی کلچر کے مضبوط ہونے کی صورت میں سامنے آیا۔ پھر معاشی جبر، بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور حکمران طبقہ کی عیاشیوں نے عام آدمی کی مایوسی میں بہت اضافہ کیا۔ جماعت اسلامی کی موجودہ قیادت سڑکوں پر احتجاج کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتی۔ جماعت اسلامی کے امور کے ماہر ڈاکٹر سعید عثمانی کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتیں اسٹیبلشمنٹ سے ٹکرانے کے لیے تیار نہیں۔ جماعت اسلامی کی ہڑتال میں کراچی اور لاہور کے تاجروں اور وکلاء نے ان کا ساتھ دیا اور دونوں شہروں میں بڑی تعداد میں دکانیں اور کاروباری ادارے بند رہے لیکن عوام کی اکثریت نے اس ہڑتال میں شمولیت اختیار نہیں کی۔ برطانیہ اور بھارت میں اب بھی سیاسی کلچر بہت مضبوط ہے اور نوجوان اجتماعی جدوجہد کرنے کی اہمیت کو سمجھتے ہیں ، پاکستان میں سیاسی کلچر ختم ہونے سے عوام کا نقصان ہورہا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل