Loading
امریکی وزیر صحت رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا میں اس وقت ’دنیا کی تاریخ کے بیمار ترین بچے‘ موجود ہیں۔
دستیاب تاریخی اور طبی اعدادوشمار اس دعوے کی تائید نہیں کرتے۔
دعویٰ کیا ہے؟
10 ستمبر کو ڈیلاس میں ریپبلکن کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر نے کہا کہ امریکا صحت پر دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ رقم خرچ کرتا ہے، اس کے باوجود ملک میں ’دنیا کی تاریخ کے بیمار ترین بچے‘ ہیں۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکا میں دائمی بیماریوں کا بوجھ ریکارڈ سطح پر پہنچ چکا ہے۔
حقیقت کیا ہے؟
تاریخی اعدادوشمار کینیڈی کے پہلے دعوے سے مطابقت نہیں رکھتے۔ انسانی تاریخ کے بیشتر حصے میں تقریباً نصف بچے بلوغت تک پہنچنے سے پہلے ہی موت کا شکار ہو جاتے تھے اور متعدی بیماریاں اس کی بڑی وجوہات میں شامل تھیں۔
امریکا میں بھی صورتحال کہیں زیادہ خراب تھی۔ 1900 میں ہر 5 میں سے تقریباً ایک بچہ 5 سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے وفات پا جاتا تھا۔ بعد کی دہائیوں میں صفائی کے بہتر نظام، ویکسینز، اینٹی بائیوٹکس اور جدید طبی سہولیات کے باعث بچوں کی اموات میں نمایاں کمی آئی۔
آج امریکا میں 5 سال سے کم عمر بچوں کی شرح اموات عالمی اوسط سے تقریباً 80 فیصد کم ہے، جبکہ ملیریا اور اسہال جیسی بیماریاں، جو دنیا کے کئی حصوں میں بچوں کی اموات کی بڑی وجوہات ہیں، امریکا میں نسبتاً بہت کم بچوں کی جان لیتی ہیں۔
لیکن امریکی بچوں کی صحت سے متعلق خدشات حقیقی ہیں
اس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکا میں بچوں کی صحت کے مسائل موجود نہیں۔ حالیہ تحقیق کے مطابق امریکی بچے دیگر امیر ممالک کے بچوں کے مقابلے میں کئی پیمانوں پر پیچھے ہیں۔
2007 سے 2022 کے دوران امریکا میں ایک سے 19 سال کی عمر کے بچوں اور نوجوانوں کی شرح اموات دیگر زیادہ آمدنی والے ممالک کے مقابلے میں 80 فیصد زیادہ رہی، جبکہ آتشیں اسلحے سے ہونے والی اموات میں فرق خاص طور پر نمایاں تھا۔
اسی طرح موٹاپا، نیند کے مسائل اور ذہنی صحت سمیت بعض دائمی مسائل میں حالیہ برسوں کے دوران اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا ہے۔
نتیجہ
رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر کا یہ کہنا کہ امریکا میں آج ’دنیا کی تاریخ کے بیمار ترین بچے‘ موجود ہیں، غلط ہے۔ امریکی بچوں میں بعض دائمی بیماریوں اور دیگر صحت کے مسائل میں اضافہ تشویشناک ضرور ہے، لیکن تاریخی اعدادوشمار واضح کرتے ہیں کہ ماضی میں بچے بیماریوں اور اموات کے کہیں زیادہ خطرے سے دوچار تھے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل