Loading
غزہ جنگ پر بنائی گئی اسرائیلی دستاویزی فلم ’نازا‘ کو وینس فلم فیسٹیول میں ایوارڈ ملنے کے بعد اسرائیل میں شدید تنازع کھڑا ہو گیا۔
فلم کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے وینس فلم فیسٹیول میں اسے اعزاز ملنے کو ’حیران کن‘ قرار دیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ فلمسازوں نے عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کرنے کیلئے اپنے ہی ملک کو نقصان پہنچایا اور ان کے اقدام کو ریاست سے ’غداری‘ قرار دیا۔
הזכייה של הסרט הנבזי נז״א בפסטיבל ונציה מזעזעת. השנאה העצמית היוקדת של היוצרים שמוכנים לפגוע במולדתם כדי לקבל מחיאות כפיים מהאנטישמים בעולם בלתי נתפסת ומהווה בגידה במדינה.
זו בדיוק הסיבה שהובלתי את הרפורמה החשובה בקולנוע כדי שאזרחי ישראל לא ישלמו יותר מכיסם על הפגיעה בחיילי צה״ל…
— Miki Zohar מיקי זוהר (@zoharm7) September 13, 2026
وزیر ثقافت کا کہنا تھا کہ وہ بطور وزیر دونوں فلمسازوں کی شہریت منسوخ کرنے کیلئے فوری طور پر کارروائی کریں گے۔
BREAKING: Israel's Minister of Culture and Sports has threatened to revoke citizenship of two film directors who produced a documentary about Israel's genocidal war on Gaza
???? LIVE updates: https://t.co/1x5OCju7PA pic.twitter.com/SR9vOONoR2
— Al Jazeera Breaking News (@AJENews) September 13, 2026
تاہم فراہم کردہ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ شہریت حقیقتاً منسوخ کر دی گئی ہے؛ فی الحال یہ وزیر کی جانب سے کارروائی کرنے کا اعلان ہے۔
واضح رہے کہ فلم اسرائیلی فوج کی کارروائیوں اور شہری ہلاکتوں سے متعلق سنگین الزامات پر مبنی ہے۔ فلم میں اسرائیلی فوج سے وابستہ افراد کے انٹرویوز شامل کیے گئے ہیں اور یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ فوجی کارروائیوں کے دوران شہریوں کے ممکنہ جانی نقصان کو کس طرح قابل قبول قرار دیا جاتا تھا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل