Loading
سعودی عرب نے اہم آئل پائپ لائن پر ڈرون حملوں کے بعد یورپ کے لیے تیل کی کچھ سپلائی منسوخ کردی، جس کے باعث بڑے خریداروں نے متبادل ذرائع کی تلاش شروع کردی جبکہ یورپی مارکیٹ میں خام تیل کے کارگو کی قیمت 122 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق تجارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے یورپی صارفین کو آگاہ کیا ہے کہ ستمبر میں لوڈ ہونے والے خام تیل کے کچھ کارگو منسوخ کیے جائیں گے جبکہ بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع سے تیل کی لوڈنگ بھی معطل کردی گئی ہے۔
یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب ڈرون حملوں میں سعودی عرب کی اہم ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کو نقصان پہنچا۔ سعودی عرب نے ان حملوں کا الزام عراقی ملیشیا پر عائد کیا ہے۔
حملوں کے بعد سعودی حکام نے جمعہ کو مشرق سے مغرب تک صحرا میں قائم تیل کی پائپ لائن بند کردی جو گزشتہ 6 ماہ کے دوران آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات سے سعودی تیل کی برآمدات کو بڑی حد تک محفوظ رکھنے میں مدد دیتی رہی تھی۔
رائٹرز کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے بحیرہ احمر کے راستے تیل کی سپلائی میں کمی کے بعد یورپی صارفین، بالخصوص پولینڈ، متبادل تیل کی تلاش میں تیزی لانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔
تجارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اب آبنائے ہرمز کے راستے مزید تیل برآمد کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے نام نہاد ڈارک شپمنٹس کا سہارا لیا جاسکتا ہے، جیسا کہ متحدہ عرب امارات اور عراق پہلے ہی کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایسی خفیہ یا غیر روایتی شپمنٹس کے ذریعے خلیجی تیل پیدا کرنے والے ممالک جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں تقریباً 70 لاکھ سے 90 لاکھ بیرل یومیہ تیل برآمد کرنے میں کامیاب رہے ہیں، جو جنگ سے پہلے کے حجم کا تقریباً 30 سے 40 فیصد بنتا ہے۔
سپلائی میں رکاوٹ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو بھی سہارا ملا ہے۔ برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے تقریباً 108 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہے تھے جبکہ یورپ کی فزیکل مارکیٹ میں قیمتیں اس سے بھی زیادہ رہیں اور اہم بینچ مارک ڈیٹڈ برینٹ تقریباً 122 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔
دوسری جانب ورٹیکسا کے اعداد و شمار کے مطابق 7 سے 13 ستمبر کے ہفتے میں سعودی عرب نے رأس تنورہ اور الجعیمہ سے 12 بحری جہازوں کے ذریعے 2 کروڑ 20 لاکھ بیرل تیل لوڈ کیا، جبکہ اس سے قبل مسلسل تین ہفتوں کے دوران ہر ہفتے صرف 6 سے 7 بحری جہاز تیل لے کر روانہ ہوئے تھے۔
سعودی سرکاری آئل کمپنی آرامکو نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔
رائٹرز کے مطابق فی الحال یہ واضح نہیں ہوسکا کہ یورپ کے لیے کتنے تیل کے کارگو منسوخ کیے جائیں گے اور ینبع سے تیل کی لوڈنگ کتنے عرصے تک معطل رہے گی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل