Loading
ایک سینئر تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ اس ملک کی اشرافیہ سمجھتی ہے کہ اس ملک کا خزانہ ان کی ذاتی جاگیر ہے، اگر ملک میں گورننس ٹھیک نہیں ہے تو اس کی بنیادی وجہ اشرافیہ کا راج ہے۔ ادھر خلیج فارس جنگ کے تناظر میں عوام پھر بھی قربانی دے رہے ہیں مگر اشرافیہ اپنے پیٹ پر پتھر باندھنے کو تیار نہیں، جہاں غربت کی شرح 44 فیصد ہے، لگتا ہے حکومت غربت کی شرح 90 فیصد تک لے جانا چاہتی ہے۔
یہ باتیں سو فیصد درست ہیںکہ دیکھنے میں آیا ہے جو بھی اقتدار میں آ تا ہے ، وہ ملک کو ذاتی جاگیر سمجھتا ہے۔ ادھر سرکاری افسر قومی خزانے کو اپنے شہنشاہی اخراجات کے لیے اپنی مرضی سے خرچ کرتے ہیں جنھیں روکنے والا کوئی نہیں۔ اکثرلوگوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ حکمران طبقہ اپنے پیٹ پر پتھر باندھے گا جس سے عوام کی حالت بہتر ہوگی مگر حقیقت بہت مختلف ہوتی ہے۔
یہاں تو غریبوں کو ایک وقت کی روٹی میسر نہیں ہے۔ دوسری طرف جو لوگ حکمرانی کے لیے الیکشن لڑتے ہیں، وہ اپنی انتخابی مہم پرکروڑوں روپے خرچ کردیتیہیں۔ سیاسی پارٹیوں کے سربراہ پارٹیوں کے مالک ہیں اور سربراہی صرف جماعت اسلامی کے امیر کی اپنی جماعت پر مستقل نہیں، مقررہ مدت کے لیے ہوتی ہے۔ باقی بڑی پارٹیوں کے سربراہوں کا الیکشن محض کاغذی کارروائی ہوتی ہے۔
انھیں جنرل الیکشن میں بھی اپنی جیب سے کچھ بھی خرچ نہیں کرنا پڑتا بلکہ الیکشن ان کی پارٹیوں کے لیے بڑی آمدنی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ الیکشن سے قبل ہی ہر بڑی پارٹی کا سربراہ اپنی پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کے خواہش مندوں سے درخواستیں طلب کرتا ہے اور ہر درخواست کے لیے پارٹی کی طرف سے مقررہ فیس کا پے آرڈر بھی منسلک کرنا پڑتا ہے جس کے بغیر امیدواروں کی درخواست زیرغور ہی نہیں لائی جاتی۔ یہ پہلے دیکھا جاتا ہے کہ جس نے الیکشن پر ذاتی اخراجات کرنے ہیں، اس نے پارٹی کو الیکشن فنڈ دینے کے علاوہ اگر اپنے حلقوں میں پارٹی سربراہوں کو بلانا چاہتے ہیں تو انھیں سربراہوں اور مرکزی رہنماؤں کی آمد اور جلسوں کے اخراجات بھی برداشت کرنے کے لیے مالی طور پر مستحکم ہونا چاہیے۔
پارٹی سربراہوں کے ذاتی انتخابی اخراجات جو ان کے حلقوں میں ہونا ہوتے ہیں، وہ بھی پارٹی سربراہ نہیں بلکہ ان کی پارٹی خرچ کرتی ہے اور نیچے والی نشست پر بھی اگر پارٹی کے مالک الیکشن نہ لڑ رہے ہوں تو نیچے کے امیدواروں کو وہ بھی اخراجات جیب سے ادا کرنا پڑتے ہیں، اس طرح پارٹی سربراہوں کو الیکشن پر ذاتی ایک روپیہ بھی خرچ کرنا نہیں پڑتا اور وہ مفت میں الیکشن لڑ لیتے ہیں۔
بڑی پارٹیوں کے سربراہ جو حکمرانی کے لیے الیکشن لڑ رہے ہوتے ہیں، ان کی پارٹیوں کو وفاق میں مطلوبہ نشستیں نہ بھی ملیں تب بھی انھیں اپنے اکثریتی صوبوں کا اقتدار مل ہی جاتا ہے جہاں ان کی پارٹی کی حکومت بننے کے بعد من مانی کا مکمل اختیار ہوتا ہے اور وہاں کی وزارت اعلیٰ اور وزارتوں پر وہ من پسندوں کا تقرر کرتے ہیں۔
2008 میں مسلم لیگ (ن) کے پاس وفاق نہیں پنجاب کا اقتدار تھا ، 2013 میں پی ٹی کے پاس خیبر پختونخوا کا اقتدار تھا۔ 2018 میں پیپلز پارٹی کے پاس سندھ کا تیسری بار اقتدار تھا۔ 18ویں ترمیم کے بعد تو ہر پارٹی کی خواہش ہوتی ہے کہ اگر وہ وفاق میں نہیں تو اپنے اپنے صوبے کا اقتدار ضرور حاصل کر لے کیونکہ اب اختیارات اور سرکاری خزانہ صوبوں کے پاس وفاق سے زیادہ ہے۔ آج سندھ میں پیپلز پارٹی کی چوتھی حکومت ہے اور 18ویں ترمیم کے ثمرات کے نتیجے میں کے پی میں پی ٹی آئی کی تیسری حکومت ہے۔ یہی صورتحال پنجاب میں بھی ہے۔
مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی عشروں سے اقتدار میں ہیں مگر دونوں نے اپنے صوبوں میں کوئی ایسا جدید اور وی آئی پی اسپتال نہیں بنوایا جہاں دونوں پارٹیوں کے سربراہان اور وی وی آئی پی رہنما جا کر اپنا طبی معائنہ اور علاج کرا سکیں۔ سابق وزیر اعظم عمران خان نے تو ایک کینسر اسپتال بنوایا تھا جہاں جا کر وہ اپنا طبی معائنہ کرا لیتے تھے۔ اسٹیج سے گرنے اور گولی لگنے کے بعد بھی انھوں نے اپنے ہی اسپتال میں علاج کو ترجیح دی تھی۔
حکمرانوں کے علاج ومعالجے کے لیے ملک میں اسپتال نہیں ہے، اس لیے حکمران طبقات کے سب لوگ بیرون ملک اپنا علاج کراتے ہیں۔ اس کا قصوروار کون ہے؟ اقتدار میں آ کر ہر حکمران منہ زور ہوتا ہے، اپنی مرضی کے فیصلے کرتا ہے، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپنی مرضی کے قوانین بناتا ہے، مرضی کی تقرریاں اور تعیناتیاں کرتا ہے لیکن جیسے ہی اقتدار سے باہر ہوتا ہے اور اس سے کوئی پوچھ گچھ شروع ہوتی ہے تو کہہ دیا جاتا ہے کہ ہمیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ماضی سے اب تک یہی ہوتا آ رہا ہے ۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل