Tuesday, September 15, 2026
 

خواندگی کا عالمی دن اور پاکستان

 



ہر سال 8 ستمبر کو دنیا بھر میں عالمی یومِ خواندگی منایا جاتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیت محض ایک بنیادی تعلیمی ضرورت نہیں بلکہ انسانی ترقی، معاشی خوش حالی، سماجی شعور اور ایک بہتر سماج کی بنیاد ہے۔ خواندگی انسان کو اپنے حقوق سمجھنے، اپنے فرائض ادا کرنے اور اپنے مستقبل کے فیصلے خود کرنے کے قابل بناتی ہے لیکن پاکستان جیسے ملک میں جہاں آبادی کا ایک بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، عالمی یومِ خواندگی محض ایک دن کی تقریبات اور تقاریر تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ یہ دن ہمیں اپنے تعلیمی نظام، اپنی ترجیحات اور مستقبل کی سمت پر سنجیدگی سے غور کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ پاکستان نے آزادی کے بعد تعلیم کے میدان میں کئی پالیسیاں اور منصوبے بنائے مگر اس کے باوجود ملک آج بھی خواندگی اور معیاری تعلیم کے حوالے سے سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ہمارے ہاں ایک طرف ایسے بچے موجود ہیں جو جدید ٹیکنالوجی اور عالمی معیار کی تعلیم تک رسائی رکھتے ہیں جب کہ دوسری طرف لاکھوں بچے ایسے بھی ہیں جو اسکول جانے سے محروم ہیں۔ یہ تعلیمی عدم مساوات صرف فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے سماج کے مستقبل کا سوال ہے۔ پاکستان میں خواندگی کے مسئلے کو صرف اس سوال تک محدود کرنا بھی درست نہیں کہ کتنے لوگ اپنا نام لکھ اور پڑھ سکتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کتنے افراد ایسی تعلیم حاصل کر رہے ہیں جو انھیں عملی زندگی میں بہتر فیصلے کرنے، روزگار حاصل کرنے، معلومات کو سمجھنے اور سماج میں مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے، اگر ایک شخص کئی سال اسکول میں گزارنے کے باوجود ایک سادہ عبارت کا مفہوم نہ سمجھ سکے تو ہمیں اپنے تعلیمی نظام کی کامیابی پر دوبارہ غور کرنا ہوگا۔ پاکستان کے تعلیمی مسائل کی ایک بڑی وجہ غربت ہے۔ بہت سے گھرانوں کے لیے بچوں کو اسکول بھیجنے کے بجائے انھیں کام پر لگانا معاشی مجبوری بن جاتا ہے۔ خصوصاً کم آمدنی والے خاندانوں میں بچوں کی تعلیم، کتابوں، یونیفارم، سفری اخراجات اور دیگر ضروریات کا بوجھ برداشت کرنا آسان نہیں۔ یوں ایک بچہ تعلیم سے محروم ہو کر کم عمری میں محنت مزدوری کی طرف چلا جاتا ہے اور غربت کا وہی دائرہ اگلی نسل تک منتقل ہو جاتا ہے۔ دوسرا اہم مسئلہ اسکولوں کی کمی اور بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ ملک کے کئی علاقوں میں ایسے اسکول موجود ہیں جہاں مناسب عمارت، پینے کا صاف پانی، بجلی، بیت الخلا، فرنیچر یا دیگر بنیادی سہولیات دستیاب نہیں۔ دیہی اور دوردراز علاقوں میں صورتحال مزید مشکل ہو جاتی ہے، بعض جگہ اسکول تو موجود ہے لیکن اساتذہ کی کمی ہے، کہیں اساتذہ موجود ہیں مگر طلبہ کے لیے مناسب تعلیمی ماحول نہیں۔ لڑکیوں کی تعلیم بھی پاکستان میں خواندگی کے سفر کا ایک اہم مسئلہ ہے، اگر کسی سماج کی نصف آبادی کو معیاری تعلیم سے محروم رکھا جائے تو اس سماج کی ترقی ادھوری رہتی ہے۔ بعض علاقوں میں غربت، سماجی روایات ،کم عمری کی شادی، اسکولوں کا گھر سے دور ہونا اور والدین کے تحفظات لڑکیوں کی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ حالانکہ ایک تعلیم یافتہ ماں صرف ایک فرد نہیں بلکہ پوری نسل کی تربیت کرتی ہے۔ اس لیے بچیوں کی تعلیم میں سرمایہ کاری دراصل ملک کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔ پاکستان کے تعلیمی نظام کا ایک اور بڑا مسئلہ معیارِ تعلیم ہے۔ ہمارے ہاں سرکاری، نجی اور مختلف اقسام کے تعلیمی اداروں کے درمیان معیار کا نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ ایک طبقہ مہنگے اسکولوں میں جدید سہولیات اور بہتر تعلیمی مواقع حاصل کرتا ہے جب کہ غریب طبقے کے بچے محدود وسائل والے اداروں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اس فرق نے سماج میں تعلیمی عدم مساوات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ رٹہ فیکیشن بھی ہمارے تعلیمی نظام کی ایک بڑی کمزوری ہے۔ امتحان میں زیادہ نمبر حاصل کرنا، اکثر تعلیم کا بنیادی مقصد بن جاتا ہے جب کہ تنقیدی سوچ، سوال کرنے کی صلاحیت، تخلیقی صلاحیت اور عملی زندگی کی مہارتیں پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ ایک ایسا نظام جو بچے کو صرف نصابی کتاب یاد کرنے کا عادی بنا دے، اسے بدلتی ہوئی دنیا کے تقاضوں کے لیے تیار نہیں کر سکتا۔ آج دنیا ڈیجیٹل خواندگی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ موبائل فون، انٹرنیٹ، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ذرائع نے معلومات تک رسائی کے طریقے تبدیل کر دیئے ہیں۔ ایسے میں صرف روایتی خواندگی کافی نہیں۔ ضروری ہے کہ ہمارے بچے اور نوجوان یہ بھی جانیں کہ انٹرنیٹ پر موجود معلومات میں سے درست اور غلط کو کیسے پہچانا جائے، ڈیجیٹل ذرائع کو تعلیم اور روزگار کے لیے کیسے استعمال کیا جائے اور آن لائن دنیا میں ذمے دار شہری کی حیثیت سے کیسے کردار ادا کیا جائے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے بہت سے علاقوں میں اب بھی انٹرنیٹ اور جدید تعلیمی وسائل تک مساوی رسائی موجود نہیں۔ ایک اور اہم مسئلہ تعلیمی پالیسیوں کا تسلسل نہ ہونا ہے۔ حکومتیں تبدیل ہوتی ہیں تو ترجیحات بھی بدل جاتی ہیں۔ نئی پالیسیاں بنتی ہیں، منصوبے شروع ہوتے ہیں مگر ان کے طویل مدتی نتائج کے لیے مسلسل نگرانی اور عمل درآمد کی کمی نظر آتی ہے۔ تعلیم ایسا شعبہ ہے جس میں نتائج چند ماہ یا چند سال میں نہیں بلکہ نسلوں میں سامنے آتے ہیں۔ اس لیے ہمیں سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک طویل المدتی قومی تعلیمی منصوبے کی ضرورت ہے۔ اساتذہ بھی اس پورے نظام کا بنیادی ستون ہیں۔ اگر استاد کو مناسب تربیت، وسائل، عزت اور پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع نہ ملیں تو بہترین نصاب بھی مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتا۔ ہمیں اساتذہ کو محض ملازم نہیں سمجھنا ہوگا، انھیں جدید تدریسی طریقوں سے روشناس کرانا ناگزیر ہے۔ خواندگی میں بہتری کے لیے صرف حکومت کی کوششیں کافی نہیں۔ والدین، اساتذہ، میڈیا، مذہبی و سماجی ادارے، نجی شعبہ اور سول سوسائٹی سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ سماج میں کتاب پڑھنے کا کلچر فروغ دینا ہوگا، لائبریریاں قائم کرنا ہوں گی، بالغ افراد کے لیے خواندگی کے مراکز فعال کرنا ہوں گے اور ایسے پروگرام شروع کرنا ہوں گے جو ان لوگوں کو بھی بنیادی تعلیم فراہم کریں جو بچپن میں اسکول نہیں جا سکے۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ تعلیم پر خرچ دراصل خرچ نہیں بلکہ سرمایہ کاری ہے۔ ایک تعلیم یافتہ اور ہنرمند نوجوان روزگار پیدا کر سکتا ہے، معیشت میں حصہ ڈال سکتا ہے اور سماج میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔ اس کے برعکس تعلیم سے محروم نوجوان کے لیے مواقع محدود ہوتے جاتے ہیں اور سماج اپنی انسانی صلاحیت کا بڑا حصہ ضایع کر دیتا ہے۔ عالمی یومِ خواندگی ہمیں ایک بنیادی سوال دیتا ہے، کیا ہم صرف شرحِ خواندگی کے اعداد و شمار بہتر کرنا چاہتے ہیں یا واقعی ایک ایسا سماج بنانا چاہتے ہیں جہاں ہر بچہ معیاری تعلیم حاصل کر سکے۔ اگر جواب دوسرا ہے تو ہمیں اسکولوں کی تعداد سے آگے بڑھ کر تعلیم کے معیار، مساوی مواقع، اساتذہ کی تربیت، بچیوں کی تعلیم اور ڈیجیٹل خواندگی پر یکساں توجہ دینا ہوگی۔ 8 ستمبر کا دن کیلنڈر پر درج ایک تاریخ سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جس قوم کے ہاتھ میں کتاب نہیں، اس کے ہاتھ میں اپنے مستقبل کا اختیار بھی کمزور ہو جاتا ہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی نوجوان آبادی ہے لیکن یہ آبادی اسی وقت قومی قوت بن سکتی ہے، جب اسے علم، ہنر اور شعور سے آراستہ کیا جائے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ خواندگی کو محض سرکاری مہم نہیں بلکہ قومی تحریک بنایا جائے۔ ہر بچے کے لیے اسکول، ہر نوجوان کے لیے ہنر، ہر بالغ کے لیے بنیادی تعلیم اور ہر شہری کے لیے معیاری معلومات تک رسائی ہمارا مقصد ہونا چاہیے۔ اگر ہم نے آج تعلیم کو اپنی اولین ترجیح بنا لیا تو آنے والی نسلیں ایک زیادہ باشعور، باصلاحیت اور خوش حال پاکستان دیکھ سکتی ہیں۔ خواندگی کا اصل جشن اسی دن ہوگا، جب پاکستان کا کوئی بچہ غربت، جنس، علاقے یا وسائل کی کمی کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہیں ہوگا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل