Loading
سندھ کے ممتاز دانشور، مصنف، محقق اور ترقیاتی امور کے ماہر نصیر میمن کمال کی عملی اور فکری شخصیت ہیں۔ وہ صرف سندھ کی سطح تک ہی اپنی شہرت نہیں رکھتے بلکہ پورے ملک میں ان کی پیشہ وارانہ دسترس ہر طبقہ فکر میں تسلیم کی جاتی ہے۔ پانی، ڈیم اور قدرتی آفات سمیت محروم طبقہ کی بنیاد پر وہ نہ صرف مسلسل لکھتے اور بولتے ہیں بلکہ رائے عامہ اور پالیسی سازی کی سطح پر ان کے نقطہ نظر کو اہمیت بھی دی جاتی ہے۔ نصیر میمن کی خوبی یہ ہے کہ وہ منطق اور دلیل کے ساتھ بات کرنے کے عادی ہیں۔ وہ کچھ ماہ سے مسلسل سندھ کے شہر تھر پارکر، مٹھی کوٹ اور اسلام کوٹ کے دورے کی دعوت دے رہے تھے۔
وہ سندھ کی ایک معروف این جی او ’’تھر فاؤنڈیشن‘‘ کے مختلف سماجی و ترقیاتی پروگراموں سے آگاہی دینا چاہتے تھے۔ تھر کے بارے میں ہمارا ایک عمومی تصور بہت زیادہ پسماندگی اور غربت ہے اور اس ضلع کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ سندھ کا سب سے پسماندہ علاقہ ہے۔ ہمارے ساتھ راقم سمیت اس دورے میں معروف صحافی اور تجزیہ کار تنویر شہزاد،آیڈیا تھنک ٹینک کی منیجنگ ڈرایکٹر مہوش خان، معروف صحافی سجاد انور، عبداللہ ملک، امیر عبداللہ ملک شامل تھے۔ ہماری میزبانی میں نصیر میمن، زبیدہ صاحبہ، فرحان انصاری، عمران اسلم، امام علی، بابر خان، فوٹو گرافر سنیل کو شامل تھے۔
یہ دورہ اگرچہ تھکا دینے والا تھا اور بہت کم وقت میں ہمیں بہت کچھ دکھانے کی کوشش کی گئی اور جو کچھ ترقیاتی پروگراموں کے بارے میں ہم نے نصیر میمن سے زبانی سن رکھا تھا لیکن اس دورے میں براہ راست تھر پارکر، نگر پارکر، مٹھی او ر اسلام کوٹ کو براہ راست دیکھا اور مقامی سطح پر لوگوں کے تجربات سنے یا ان سے بات چیت کرنے کا موقع ملا، وہ مشاہدات کافی اہم تھے اور ان سے بہت کچھ ہمیں سیکھنے کا ملا۔ سب سے اچھی بات یہ لگی کہ وہاں کی نئی نسل ماضی کی نئی نسل سے بالکل مختلف ہے۔ ان میں ترقی کی خواہش بھی ہے اور آگے بڑھنے کی امنگ بھی، خاص طور پر تعلیم حاصل کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ جس طرح سے مقامی لڑکے اور لڑکیوں کا رسمی اور ٹیکنیل تعلیم سمیت ہائرایجوکیشن کی طرف رجحان بڑھ رہا ہے وہ واقعی مجھے ایک نئی امید کے پہلو کی بنیاد پر دیکھنے کو ملا۔ نوجوان پڑھے لکھے لڑکوں اور لڑکیوں کی گفتگو اور ان میں سیکھنے کی صلاحیت بھی کمال کی تھی۔
تھر فاؤنڈیشن کے اسکول کمال کے تھے اور ان کو بنیادی سہولتیں میسر تھیں۔ اسی طرح صاف پانی کی فراہمی یا گاؤں کی سطح پر سولر انرجی کے منصوبے، انڈس اسپتال تھر فاؤنڈیشن کی معاونت سے بہتر سہولیات کے ساتھ ان کے کامیاب تجربہ کو بھی دیکھا اور اگر اس طرز کے اسپتال بنیاد ی سہولیات کے ساتھ موجود ہوں تو لوگوں کو بڑے شہروں کا رخ نہ کرنا پڑے۔ ہم نے اسپتال میں مقامی سطح پر موجود لوگوں سے پوچھا تو ان کی آنکھوں میں آنسو تھے کیونکہ ان کے بقول یہاں کے سرکاری اسکول اور اسپتال میں بنیادی نوعیت کی عملاً سہولیات کمزور ہیں۔ سندھ کی سطح پر بھی مقامی حکومتوں کا نظام دیگر صوبوں کی طرح کمزور ہے اور اس نظام کی کمزوری سے پورے ملک میں گورننس کے نظام میں بنیادی نوعیت کی خرابیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔
یہ جو چھوٹے اور پسماندہ علاقوں میں کمزور طبقات اور بچیوں کی سطح پر کمزور اشاریے موجود ہیں وہ ترقی کی تفریق کے پہلووں کو نمایاں کرتا ہے لیکن ایک بات شدت سے محسوس کی کہ اگر ان مقامی لوگوں یعنی لڑکوں اور لڑکیوں کی حکومتی اور نجی شعبے کی سطح پر تعلیم، روزگار اور ترقی کی بنیاد پر سرپرستی یا حوصلہ افزائی کی جائے تو یہ تھر کے بچے اور بچیاں بھی اپنی زندگی کو بدل سکتی ہیں۔ اہم بات یہ دیکھنے کو ملی کہ تھر فاؤنڈیشن کی مدد سے کئی بچوں اور بچیوں کو ٹیکنیکل تعلیم کے لیے چین بھی جانے کا بھی موقع مل رہا ہے جو ان کے لیے ناممکن تھا۔ ایک اور اہم پہلو یہ تھا کہ تھر فاؤنڈیشن نے مقامی لوگوں کو جو پڑھ لکھ چکے تھے اور ان کے پاس اعلی سطح کی ڈگریاں بھی تھیں، ان کو اسی مقامی سطح پر روزگار کے مواقع بھی فراہم کیے۔
ایک اور اچھی بات لگی کہ تھر پارکر میں مذہبی، سیاسی اور سماجی ہم آہنگی بھی خوب دیکھنے کو ملی ۔اس علاقے میں زیادہ تر ہندو کمیونٹی ہے لیکن ان ہندو اور مسلم اتحاد اور ایک دوسرے کی تقریبات میں شرکت اور ایک دوسرے کی عزت، احترام اور مددکاری سمیت ایک دوسرے کی مذہبی تقریبات میں بلاتفریق شرکت کا مشاہدہ بھی دیکھنے کو ملا۔ نصیر میمن نے مجھے بتایا کہ کچھ لوگوں نے مسلم اور ہندو کمیونٹی کو ان کے مذہبی مقامات کے لیے جگہ بھی فراہم کی۔ اسی طرح مقامی جانوروں کی دیکھ بھال اور ان کی بیماریوں سے نمٹنے کے لیے تھر فاؤنڈیش کی سطح پر ان کے لیے باقاعدہ اسپتال بھی بنایا گیا ہے تاکہ جانوروں کی مناسب دیکھ بھال کی جاسکے کیونکہ مقامی لوگوں کا ایک بڑا روزگار ان جانوروں سے بھی جڑا ہوا ہے۔
اس دورے میں میگھے جو تھر، اسلام کوٹ، سانت نیوروآسرم،جین ماٹا ٹیمپل، ماروی وال، بوجھیشیر اور انصاری پارک سمیت کول مائننگ سائٹس شامل تھیں۔ خاص طور ہم نے یہاں بیٹھ کر مٹھی کے بارے میں جو کچھ منفی طور سنا تھا وہ بالکل مختلف ہے اور مقامی لوگ بہت زیادہ آرٹ،کلچر، میوزک اور ثقافت سے پیار کرتے ہیں اور باقاعدگی سے وہاں یہ تقریبات ہوتی ہیں۔ ہم نے عملاً وہاں کے مقامی گیت بھی سنے اور مقامی عورتوں کے پورے ہاتھوں میں چوڑیاں مختلف رنگ کی تھیں لیکن یہ بہادر عورتیں تھیں۔ بڑی محنت سے یہ عورتیں کم وسائل کے باوجود بہت کام کرتی ہیں۔ ہمیں وہاں مقامی کھانوں کا بھی اتفاق ہوا اور کمال کے کھانے تھے۔ مٹھی میں کڑی کھائی تو خوب ذائقہ تھا مگر اس میں پکوڑے نہیں تھے، پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہاں کڑی بغیر پکوڑوں ہی کے بنتی ہے۔ مکھنی دال اور سبزی بھی کمال کی تھیں۔
اگرچہ تھر فاؤنڈیشن کے کام کا دائرہ کار پورے ضلع تک محدود نہیں، یہ صرف 33گاؤں کی سطح پر کام کررہی ہے لیکن اگر ان کو مواقع اور وسائل ملیں یا ان کے ساتھ سندھ حکومت مقامی ترقی میں مکمل تعاون کرے تو یہ تنظیم بہت کچھ بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ میں ہمیشہ مقامی ترقی کی سطح پر اس نقطہ پر زور دیتا ہوں کہ اول ہماری ترجیح ایک مضبوط اور خودمختار مقامی حکومتوں کا نظام ہونا چاہیے اور دوئم حکومت اور این جی او یا پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے معاملات کو آگے بڑھایا جائے۔
حکومت اپنے منصوبوں کی تکمیل میں نگرانی، شفافیت، جوابدہی اور کمیونٹی کی عملی شراکت میں مقامی سماجی تنظیموں کی سرپرستی کرے اور ان کو خود بھی مالی منصوبے دے۔ جنرل مشرف کے دور میں مقامی حکومتوں کے نظام کی سطح پر سٹیزن کمیونٹی بورڈ کا منصوبہ تھا جس میں کمیونٹی مقامی ترقی کا منصوبہ بنائے گی اور اس کا حصہ بیس فیصد ہوگا جب کہ حکومت اس منصوبے کو 89فیصد مالی مدد دے گی۔ ایک تجویز یہ بھی ہے کہ مقامی سطح پر چھوٹے بچوں اور بچیوں کی ایجوکیشن، صاف ستھرائی کی سماجی بیداری مہم، کھیلوں کے مقابلے یا غیرنصابی سرگرمیوں کو فروغ دے۔ مجھے اچھا لگا کہ تھر فاؤنڈیشن نے دس لاکھ پودے عملاً لگانے کا منصوبہ بھی شروع کر رکھا ہے اور مقامی لوگوں کے لیے zoo بھی بنایا ہوا ہے۔ تھر میں ہم نے بہت زیادہ مور دیکھے اور بہت اچھا لگا کہ وہ آزادانہ بنیادوں پر گھوم رہے تھے۔ ایک بات مجھے شدت سے محسوس ہوئی کہ پنجاب اور سندھ کے لوگوں کے درمیان بہت زیادہ خلیج ہے اور بالخصوص پنجاب میں سندھ کے بارے میں بلاوجہ منفی تصویر دیکھی جاتی ہے۔ اس خلیج کو کم کرنا ہوگا اور دونوں اطراف کی سطح پر لوگوں کو ایک دوسرے سے ملنا ہوگا تاکہ منفی سوچ کا خاتمہ ہوسکے۔
کراچی سے تھرپارکر کی سڑک بہت اچھی تھی اور محسوس ہوا کہ سندھ میں بڑی روڈز کی سطح پر بہتر کام ہوا ہے اور یہ سڑکیں محفوظ بھی ہیں اور ہم نے بلاوجہ پولیس ناکے بھی نہیں دیکھے۔ سب سے اچھا یہ ہوا کہ موسم کمال کا تھا حالانکہ ہم سوچ رہے تھے کہ گرمی ہوگی لیکن دن سے لے کر رات تک اچھی ہوائیں چلتی تھیں۔ ہمیں یہ لگا ہی نہیں کہ تھرپارکر میں ہیں بلکہ وہاں کے موسم نے مری کا موسم یاد کرا دیا۔ سفر میں ساتھیوں کی باہمی نوک جھونک اور لطیفے سمیت رات کی ہواؤں میں ہونے والی بیٹھک خوب تھی۔ خواہش تھی کہ ان علاقوں میں مزید گھومتے اور مقامی لوگوں کے ساتھ مختلف موضوعات پر کھلی کہچریاں سجاتے اور ان کے نقطہ نظر کی کہانی ان کی مکمل زبانی سنتے کیونکہ محسوس ہوا کہ وہ بہت کچھ بولنا چاہتے ہیں مگر ہماری وقت کی کمی نے ان کو یہ موقع نہیں دیا۔ اسی طرح جب ہم نے اسکولوں اور ٹیکنیکل ایجوکیشن اسکولوں کے دورے کیے تو وہاں کی ٹیچرز اور طالبات بہت کچھ کہنا چاہتی تھیں۔ تھر فاؤنڈیشن سے پہلی ملاقات تھی مگر یہ احساس انھوں نے ہونے ہی نہیں دیا بلکہ ایسے لگا کہ ہم ایک خاندان کی طرح موجود رہے اورمختصر وقت میں ہمیں ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھنے اور ایک نئے شہر کو کھوجنے کا موقع ملا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل