Loading
سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان نے امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر سے جدہ میں ملاقات کی ہے۔
سعودی سرکاری میڈیا کے مطابق ملاقات میں دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں تازہ علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا تاہم سعودی یا امریکی حکام نے مذاکرات کی تفصیلی تفصیلات جاری نہیں کیں۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب یمن میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی گروپ کی عسکری پیش قدمی اور سعودی عرب پر حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور انھوں نے کئی مرکزی اور اہم جزائر پر کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
حالیہ دنوں میں حوثی جنگجو یمن کے بحیرہ احمر سے متصل علاقوں میں تیزی سے آگے بڑھے ہیں۔ گروپ نے اہم ساحلی شہر موخا پر قبضہ کرنے کے بعد باب المندب کے قریب واقع اہم جزیروں تک بھی اپنی رسائی بڑھا لی ہے۔
رپورٹس کے مطابق حوثیوں نے مَیون (پیریم) جزیرے کے بعد گریٹر اور لیزر حنیش جزائر پر بھی قبضہ کرلیا ہے جس سے انہیں بحیرہ احمر کی اہم تجارتی گزرگاہ پر مزید اسٹریٹجک برتری حاصل ہوگئی۔
باب المندب آبنائے بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتی ہے اور عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ اس کے ذریعے بحری جہاز بحر ہند سے بحیرہ احمر اور پھر نہر سویز کی طرف جاتے ہیں۔
سعودی عرب کے لیے خطرہ کیوں بڑھ گیا؟
حوثیوں کی پیش قدمی سعودی عرب کے لیے خاص طور پر تشویش کا باعث ہے کیونکہ باب المندب سعودی تیل کی عالمی منڈیوں تک رسائی کے اہم راستوں میں شامل ہے۔ آبنائے ہرمز میں جاری بحران کے باعث بحیرہ احمر اور باب المندب کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
حالیہ پیش قدمی کے بعد سعودی عرب نے یمن میں حوثی اہداف کے خلاف فضائی حملے تیز کیے ہیں۔ سعودی حملوں میں موخا کے ہوائی اڈے سمیت حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں اگرچہ بعض حملوں کی تفصیلات کی آزادانہ تصدیق مشکل ہے۔
دوسری جانب حوثی گروپ نے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں حملے کیے ہیں اور سعودی حکام کے بقول ان حملوں میں توانائی کے شعبے سے متعلق تنصیبات بھی نشانہ بنیں جس کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہوئے۔
سعودی عرب نے امریکا سے فوجی مدد مانگی
رائٹرز کے مطابق موجودہ کشیدگی سے چند روز قبل ہی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی مدد کے لیے فوجی معاونت طلب کی تھی۔
اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی جانب سے کی گئی حوثیوں کے خلاف براہِ راست امریکی حملوں کی درکواست کی منظوری نہیں دی۔
تاہم صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کو انٹیلی جنس شیئرنگ اور اہداف کی نشاندہی میں مدد فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔
ایسے میں ایڈمرل بریڈ کوپر کی سعودی ولی عہد سے ملاقات کو دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی رابطوں کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ یمن میں 2014 سے حوثیوں اور سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی افواج کے درمیان جاری جھڑپیں 2022 میں جنگ بندی کے بعد نسبتاً کم شدت اختیار کرگیا تھا تاہم رواں سال خطے میں وسیع تر جنگ کے آغاز کے بعد یمن میں دوبارہ بڑے پیمانے پر لڑائی شروع ہوگئی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل