Loading
ترکیہ میں ہم جنس پرست تنظیموں کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن کے دوران گرفتار 162 افراد کو حراست میں لیا گیا جن میں سے 16 کو عدالت نے جیل بھیج دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سب سے بڑی کارروائی ترکیہ کے شہر ازمیر میں کی گئی جہاں 18 میں سے 16 ہم جنس پرستوں کو جیل جب کہ دو کو عدالتی نگرانی میں رکھنے کا حکم دیا گیا۔
چیف پراسیکیوٹر کے دفتر نے بتایا کہ ہم جنس پرستوں کی یہ گرفتاریاں ’’میرا خاندان محفوظ ہے‘‘ نامی آپریشن کے تحت کی گئیں۔ جس کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں ہم جنس پرستوں کے خلاف کارروائی کی گئی۔
ترک وزیر انصاف آکن گورلیک نے کہا کہ ملک کے 15 صوبوں کے 162 مشتبہ افراد، 9 تنظیموں اور 13 کاروباری اداروں کے خلاف کارروائی کی گئی جب کہ استنبول میں 26 اور انقرہ میں 21 افراد کو بھی گرفتار کیا گیا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ کارروائی کا مقصد بچوں کا تحفظ اور خاندانی اقدار کا دفاع ہے، جبکہ استغاثہ نے بعض افراد پر جسم فروشی، فحاشی اور بچوں کو جنسی رجحان و صنفی شناخت سے متعلق نامناسب طور پر متاثر کرنے جیسے الزامات کی تحقیقات شروع کی ہیں۔
ادھر شہر ازمیر میں ان گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کرنے والے افراد نے شہر کے وسط میں مارچ کیا اور ہم جنس پرستوں کے حق میں نعرے لگائے۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے مرچوں کا اسپرے بھی کیا۔
ترکیہ میں حقوقِ انسانی کی تنظیموں نے حکومتی کارروائی کو ریاستی امتیاز اور خوف کی سیاست قرار دیا جبکہ یورپی پارلیمنٹ کے ترکیہ کے لیے نمائندے نے گرفتاریوں پر احتجاج کیا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل