Loading
یمن کے حوثی باغیوں نے جنوبی بحیرۂ احمر میں واقع مزید اہم جزائر حنیش پر قبضے کے بعد ایک اور جزیرے پر فتح کے جھنڈے لہرا دیئے۔
عالمی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق دو سرکاری اور ایک حوثی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حکومت کے اتحادی افواج کے سیکڑوں اہلکار نے پسپائی اختیار کرلی۔
حکومتی اتحادی افواج کے اہلکار حوثیوں کے ساتھ جھڑپ کے بعد اپنی جان بچاتے ہوئے حنیش کی طرح اس سے قریب واقع جزیرے کو چھوڑ کر واپس چلے گئے جس کے بعد یہاں بھی حوثیوں نے کنٹرول سنبھال لیا۔
خیال رہے کہ حنیش جزائر کے قریب واقع یہ جزیرہ باب المندب سے تقریباً 200 کلومیٹر شمال میں واقع ہیں اور بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کے حوالے سے انتہائی اہم جغرافیائی مقام رکھتے ہیں۔
اس جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنے سے حوثیوں کو جنوبی بحیرۂ احمر اور باب المندب کے قریب اپنی فوجی اور بحری موجودگی مزید بڑھانے کا موقع مل سکتا ہے۔
سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز حوثیوں کی مغربی ساحلی علاقوں میں تیزی سے پیش قدمی کے بعد اپنی صفوں کو دوبارہ منظم کرکے مزاحمت کی کوشش کر رہی ہیں۔
حوثی باغیوں نے حالیہ دنوں یمن کے مغربی ساحلی علاقوں میں تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے متعدد اہم مقامات پر اپنا کنٹرول بڑھایا ہے۔ وہ بحیرۂ احمر میں واقع جزیرہ زُقَر پر پہلے ہی قبضہ کرچکے ہیں۔
بحیرۂ احمر اور باب المندب کے اطراف حوثیوں کا بڑھتا ہوا کنٹرول عالمی تیل کی رسد اور قیمتوں پر مزید دباؤ ڈال سکتا ہے۔
اس صورتحال سے ایران کو امریکا کے ساتھ جاری جنگ اور علاقائی کشیدگی کے دوران ایک اضافی اسٹریٹجک برتری حاصل ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز جسے ایران نے بند کررکھا ہے، اس کے بعد دنیا کی دوسری اہم ترین بحری گزرگاہ باب المندب پر حوثیوں کا کنٹرول ہوگیا ہے جو بحیرۂ احمر کو خلیجِ عدن اور بحرِ ہند سے ملاتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل