Loading
’’خانہ انوری‘‘ کا پتہ تو صرف آسمانی بلائیں پوچھتی تھیں لیکن مملکت ناپرسان عالی شان میں آسمانی کے ساتھ زمینی ، انسانی سیاسی جمہوری اورسرکاری بلائیں بھی تواتر سے آیا کرتی تھی یعنی ناپرسان میں
مزمہرتابہ ذرہ دل و دل ہے آئینہ
طوطی کوشش جہت سے مقابل ہے آئینہ
جس طرح ملک کو لوٹنے کے لیے سیاسی گینگوں میں باریاں چل رہی تھیں اسی طرح سانحات میں باریاں چل رہی تھیں گویا سانحات کا ویسا ہی معمول ہوگیا تھا جیسا کہ ہفتے کے سات دن باری باری اپنے وقت پر آتے ہیں۔
برروئے شش جہت درآئینہ بازہے
یاں امتیاز ناقل و کامل نہیں رہا
اورمملکت ناپرسان عالی شان کے ’’سرکاریوں‘‘ نے ان حادثات وسانحات سے نمٹنا بھی سیکھ لیا ہے ، جیسے ہی سانحہ رونما ہوتا ہے سرکاری اپنے مخصوص ہتھیار لے کر اس پر حملہ آور ہوجاتے ہیں۔ یہ ہتھیار تین تھے۔ ہم متاثرین کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں ۔ ذمے داروں کو کیفر کردار تک پہنچا کر دم لیں گے ۔حادثات وسانحات بدلتے رہتے تھے لیکن یہ تین ہتھیار کبھی بدلتے نہیں تھے ۔لیکن اب کے جو ’’سانحہ ‘‘ ہوا تھا معمول سے ہٹ کر۔جو نہ کسی اسکول میں ہوا تھا نہ اسپتال میں نہ مدرسہ مکتب میں ۔ نہ کسی دفتر میں نہ مسجد میں ۔
ایک نہایت محنتی ہونہار اورفرض شناس نوجوان چور اپنے معمول کے کام پر نکلاتھا ۔ کہ کسی ظالم بدمعاش بدقماش سنگ دل قاتل نے اسے گولی ماردی تھی اور بیچارا وہیں پر ’’شہید‘‘ ہوگیا تھا ۔ لواحقین نے اس کی لاش کے ساتھ تھانوںکے آگے دھرنے دیے، جلوس نکالے، روڈ بلاک کیے ، لیکن حکومت ٹس سے مس نہ ہوئی ، مقتول چور کے لواحقین کاکہنا تھا کہ نوجوان بہت لائق فائق ہونہار اوراپنے کام میں ہوشیار تجربہ کار اورآزمودہ کارتھا ، اگر وہ زندہ رہ کر اپنا کام جاری رکھتا تو یقین تھا کہ ایک دن سماجی کارکن پھرسیاسی لیڈر بن جاتا ، ایم این اے ، ایم پی اے ہوجاتا ، مشیر و وزیر بن جاتا بلکہ اس میں ملک کے سربراہ بننے کے بھی ’’گن‘‘ تھے ۔لیکن افسوس کہ حکومتی اداروں نے اس قتل کا نوٹس تک نہیں لیا ۔
معمولی سی ایف آئی آر نامعلوم قاتلوں کے خلاف درج ہوئی یہاں تک کہ سرکاریوں نے اپنے مخصوص تین ہتھیار بھی نہیں لہرائے ۔ دراصل وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ ایسے اندھے کیس قانون نافذ کرنے والوں کے لیے نعمت عظمیٰ اوردودھیل بھینس کی طرح ہوتے ہیں ۔ کہ جب چاہیں جہاںجہاں چاہیں جس کو چاہیں جس طرح چاہیں کسی کو پکڑ کر دوھ لیتے ہیں ۔ لیکن مقتول چور کے لواحقین بھی نچلے بیٹھنے والے نہیں تھے۔ آخر کار وہ مقتول چور کے ہم پیشہ ، پیشہ وروں کی تنظیم میں پہنچ گئے ۔
پیشہ وروں کی یہ تنظیم کوئی معمولی تنظیم نہیں تھی ، بڑی فعال تنظیم تھی اورساری پارٹیوں یا سیاسی گینگز سے اس کے مراسم تھے چنانچہ تنظیم کا چیئرمین بھی بہت بڑی توپ تھا ۔ اس نے جب مقتول چور کے لواحقین کی فریاد سنی تو بھڑک اٹھا، اچھا… تو میرے پیشہ وروں کے ساتھ یہ ظلم۔ اس نے فوراً حکمران وقت کو فون کیا کہ یہ میں کیا سن رہا ہوں، میرے ہم پیشہ لوگوں کے ساتھ اتنا بڑا ظلم اور اتیاچار؟ معصوم چور کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے کیفرکردار تک پہنچایا جائے اور مقتول کے لواحقین کے لیے خطیر رقم کا اعلان کیاجائے ۔ حکمران وقت نے بہت کہا کہ نامعلوم قاتلوں کے خلاف کیسے کچھ کیا جائے ،جس پر تنظیم کا چیئرمین اوربھی بھڑک کردھاڑا۔ میں کچھ نہیں جانتا صرف تم کو جانتا ہوں اور پہچانتا بھی ہوں ابھی کل تک تم ہماری تنظیم کے رکن تھے ۔
اگردو دن میں ہمارے مطالبے پورے نہیں ہوئے تو پھر میں اپنی تنظیم کو کام چھوڑ ہڑتال کی کال دے دوں گا اورہماری تنظیم کام چھوڑ دے گی تو تمہارے محکمے صرف تنخواہ پر رہ جائیں گے جو ان کی بیگمات کی ایک شاپنگ کے برابر بھی نہیں۔ دوسری طرف خاموشی رہی کچھ کھسر پھسر کی آوازیں بھی آتی رہیں پھر حکمران وقت کی لرزیدہ آواز آئی ، نہیں نہیں تم ہڑتال کی کال مت دو جو تم چاہتے ہو میں ویسا ہی کروں گا ابھی سارے قانون نافذ کرنے والوں کوحکم دیتا ہوں کہ معصوم اور مقتول نوجوان کے قاتلوں کو ڈھونڈ نکالیں ۔
اورپھر دو روزمیں قانون نافذ کرنے والوں نے اپنی کارکردگی یوں دکھائی کہ ہرتھانے میں مقتول چور کے چارچار قاتل پکڑے جا چکے تھے ۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل