Loading
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں جب سیکریٹری خزانہ نے بتایا کہ سرکاری گاڑیوں کے لیے ایندھن کی فراہمی میں50 فی صد کمی سے صرف 70 کروڑ روپے اور ایک سال کے لیے غیر تنخواہی اخراجات میں صرف پانچ فی صد کمی سے سولہ ارب دس کروڑ کی بچت ہوگی ،اس بات پر پی پی کی رکن قومی اسمبلی حنا ربانی کھر نے سوال کیا کہ کیا حکومت کی کفایت شعاری مہم صرف دکھاوا ہے تو اس سوال کا جواب نہ مل سکا اور دوسری جانب خاموشی رہی۔ یوں لگتا ہے کہ یہ خاموشی بہت کچھ کہہ رہی ہے کہ وفاقی حکومت کی کفایت شعاری مہم واقعی دکھاوا ہے اگر دکھاوا نہ ہوتی تو قائمہ کمیٹی کے ارکان کو ضرور مطمئن کیا جاتا۔
قائمہ کمیٹی خزانہ کا یہ اجلاس سید خورشید قمر کی صدارت میں آئی ایم ایف پروگرام کے دو سال مکمل ہونے پر تفصیلی بریفنگ دینے کے لیے تھا جس میں وزیر خزانہ کو اس اہم اجلاس میں تفصیلی بریفنگ دینی چاہیے تھی مگر وہ اجلاس میں خود نہیں آئے اور سیکریٹری خزانہ کو بھیج دیا ۔ قائمہ کمیٹی کے سیاسی ممبران انتہائی تجربہ کار ہیں وہ جلد معاملات کی تہہ تک پہنچ جاتے ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں اسحاق ڈار کو وزیر خزانہ بنایا گیا تھا شاید اس خیال سے کہ وہ آئی ایم ایف سے نمٹنا جانتے ہیں اس لیے انھیں پی ڈی ایم کی حکومت کے قیام کے بعد لندن سے بلا کر پھر وزیر خزانہ بنایا گیا تھا۔مگر کہا جاتا ہے کہ اس دور میں وزارت خزانہ کے فیصلوں سے آئی ایم ایف ناراض ہوا تھا جس پر وزیر اعظم کو پیرس جا کر آئی ایم ایف کو مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا پڑا تھا۔
فروری 2024 میں جب مسلم لیگ (ن) نے پی پی کی مدد سے حکومت بنائی تو حکومت کی مرضی کے برعکس وزارت خزانہ کے لیے نیا تجربہ کرنا پڑا تھا اور ایک غیر سیاسی شخص کو وزیر خزانہ بنایا گیا تھا۔ حکومت کی جانب سے تیسرے پیش کردہ بجٹ میں دعوے تو بلند و بانگ کیے گئے، مگر ایف بی آر سے ٹیکس وصولی کے مقررہ اہداف پورے نہ ہو سکے۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ کا تقرر نیا تجربہ تھا اورپھر ایف بی آر میں نئے نئے تجربے کیے گئے۔ اہداف وصولی پوری نہ ہوسکی۔ اب ایف بی آر نے تاجر آسان کیو آر گرین پلیٹ کے اجرا کا آغاز کیا ہے جس کے ذریعے ثابت کیا جائے گا کہ گرین پلیٹ اس امر کی علامت ہوگی کہ متعلقہ دکاندار ایف بی آر کے تحت ٹیکس فائلر ہے۔
ایف بی آر میں نئے نئے تجربے ہو رہے ہیں مگر اس سے تاجر مطمئن ہیں نہ ملکی معاشی حالات میں بہتری آئی ہے جس کا ایک تازہ ثبوت یہ ہے کہ ایف بی آر نے جو فکسڈ ٹیکس اسکیم شروع کی تھی۔ معاشی تجزیہ کار کے مطابق ایف بی آر کی یہ اسکیم بھی ناکام ثابت ہوئی اور صرف دو نئے دکاندار اسکیم میں شامل ہوئے۔ 317 تاجروں نے یہ اسکیم اپنائی جب کہ ان میں 315 پہلے ہی ٹیکس فائلر ہیں اور پچاس ارب روپے سالانہ وصولی کا ہدف بھی ناکام رہا اور اب تک صرف 26 ملین روپے ہی جمع ہو سکے ہیں۔
پاکستان میں تینوں بڑی پارٹیوں کی حکومتوں میں عوام کے منتخب نمایندوں کی بجائے سینیٹروں کو زیادہ قابل سمجھ کر وزیر خزانہ بنایا گیا اور بمشکل ہی کوئی رکن قومی اسمبلی وزیر خزانہ بنایا گیا ہو۔ کئی بار نئے تجربے کیے گئے، ایف بی آر میں من مانیاں اور نئے نئے تجربے کیے گئے اور تجربہ کار افسروں کی بجائے من پسندوں کو آگے لایا گیا مگر ملک کی معاشی حالت مزید بگڑتی اور ملک آئی ایم ایف کا محتاج ہوتا گیا بلکہ آئی ایم ایف حکمرانوں سے من مانے عوام دشمن غیر مقبول فیصلے کرا رہا ہے اور اب آئین میں ترامیم بھی آئی ایم ایف کے حکم پر کرائی جاتی ہیں اور ملک کو قرضوں میں ڈبو کر عوام کی زندگی عذاب کر دی گئی ہے۔
ملک میں عشروں سے کئی حکومتوں نے توانائی کی بچت اور دکھاوے کی کفایت شعاری مہمیں چلائیں جن میں دکھاوا زیادہ اور عمل نہ ہونے کے برابر تھا۔ کبھی وقت آگے بڑھایا گیا کبھی سرکاری مراعات بڑھائی گئیں اور موجودہ حکومت میں دکھاوے کی کفایت شعاری مذاق بنا دی گئی جس پر وفاقی وزیر بھی عمل کرنے کی بجائے اپنے دوروں میں پروٹوکول دکھانے کے لیے لاتعداد گاڑیوں میں اندرون ملک دورے کر رہے ہیں ۔
جب حکمران اور وفاقی وزیر ہی کفایت شعاری مہم کا مذاق اڑوائیں گے تو صوبے کیوں پیچھے رہیں گے۔ اگر حکمران یا وزیر خود سادگی اختیار کرنے کی بجائے دوسروں کو سادگی اختیار کرنے کی مثال دیتا ہے تو دوسرا کہتا ہے کہ پہلے وہ خود تو سادگی اپنائیں۔ سب وفاقی وزیروں اور صوبوں میں تمام وزرا ہی نہیں اے سی گریڈ تک کے افسران نے اپنے پروٹوکول بڑھا دیے ہیں اور ان کی فیملیز ہی نہیں بیٹے بھی گارڈز کے ساتھ سرکاری گاڑیوں میں تفریح کر رہے ہیں اور سوٹڈ کلچر نے فروغ پایا ہے اور مہنگے سوٹ ان کی شناخت بن گئے ہوں تو ایسے ملک میں کفایت شعاری ممکن نہیں صرف دکھاوا ہے جس کی وجہ سے ملک مزید مقروض اور عوام کی پریشانیاں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل