Loading
جولئیس رابرٹ اوپن ہائمر کو ایٹم بم کا باپ کہا جاتا ہے۔انھی کی قیادت میں امریکی اور جرمن ماہرین کی ایک ٹیم نے صدر ہیری ٹرومین کو پہلا ایٹمی ہتھیار تھمایا۔ پھر جو جوہری دوڑ شروع ہوئی وہ آج تک جاری ہے۔اگست انیس سو پینتالیس میں جاپان پر ایٹم بم گرنے کے بعد سے انیس سو سڑسٹھ میں اپنی موت تک باسٹھ سالہ اوپن ہائمر احساسِ جرم میں مبتلا رہے۔مگر انسانیت کی خوش قسمتی یہ رہی کہ ایٹم بم نہ تو خود سوچ سکتا ہے اور نہ ہی اپنے طور پر کہیں گرنے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔یعنی برا بھلا ہی صحیح کنٹرول انسان کے ہی ہاتھ میں ہے۔
شروع میں دو ایٹم بم پھٹنے کا کم ازکم اتنا فائدہ تو ہو رہا ہے کہ گذشتہ آٹھ دہائیوں میں بہت سوں نے جوہری ہتھیار بنائے مگر کسی نے کسی کے سر پے پھر نہیں پھوڑا۔
لیکن اب ایک ایسی بلا انسان کے ہاتھ لگ گئی ہے جو اپنے خالق کی زندگی اور موت کا فیصلہ آزادانہ کر سکتی ہے ۔اس بلا کا نام ہے مصنوعی ذہانت ( اے آئی )۔فی الحال یہ جن امریکا اور چین کے کنٹرول میں ہے اور اس کنٹرول کو برقرار رکھنے کے لیے صدر شی جن پنگ اور ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اپنی حالیہ ملاقات میں دوطرفہ خواہش بھی ظاہر کی ہے۔لیکن سرد جنگ کے دور کی طرح آج بھی دو طرفہ بد اعتمادی اس قدر ہے کہ اے آئی پر انسانی کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے کسی عالمی کنونشن پر فوری اتفاق کے امکانات پچاس فیصد سے بھی کم ہیں۔
اسرائیل پہلا ملک ہے جو اے آئی کو بطور ہتھیار استعمال کرکے غزہ میں ہزاروں فلسطینیوں کو مار چکا ہے ۔کسے مرنا ہے اور کسے زندہ رہنا ہے اس کا فیصلہ پہلے کوئی فوجی کمانڈر کرتا تھا۔ اب اس کمانڈر کو اے آئی کمانڈ کر رہا ہے۔اگرچہ جوہری قوت سمیت ہر نئی دریافت و ایجاد کے مثبت پہلو بھی ہوتے ہیں مگر طاقتور بننے کی دوڑ اکثر ان مثبت پہلوؤں کو دھندلا دیتی ہے۔
سات ستمبر کو انسانی حقوق سے متعلق اقوامِ متحدہ کے کمشنر والکر ٹرک نے جنیوا میں اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جلد قواعد و ضوابط نہ بنے تو اے آئی کو ترقی دینے کی تیز رفتار دوڑ چند برسوں میں ہی انسانیت کے لیے سب سے بڑا بقائی خطرہ بن سکتی ہے۔انھوں نے کہا کہ اے آئی کو ترقی دینے والے چند لوگوں اور ٹیک کمپنیوں کا دعوی ہے کہ اے آئی سے انسانی ترقی کی رفتار کو پر لگ جائیں گے تاہم اب تک تو ہم یہی دیکھ رہے ہیں کہ ہر طرح کے ڈیٹا تک ان کمپنیوں کی پہنچ بنیادی انسانی آزادیوں کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔
جب ہم ایسی خبریں سنتے ہیں کہ اے آئی کا کوئی ماڈل ٹیسٹنگ کے دوران فرار ہو گیا یا پھر اس نے خود کو سوئچ آف کرنے کی اطلاع پر بلیک میلنگ کی دھمکی دی یا پھر دیگر اے آئی ایجنٹس کے ساتھ مل کر کسی سسٹم پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ اگر اے آئی کی طاقت کا اس وقت یہ حال ہے تو چند برس بعد وہ کہاں تک پہنچے گی۔
والکر ٹرک کا اشارہ جولائی میں آنے والی اس خبر کی جانب تھا کہ اوپن اے آئی کے سات سو ایجنٹوں نے آزمائشی مرحلے میں ہی خود بخود اے آئی سافٹ ویر شیئر کرنے والے پلیٹ فارم ’’ ہگنگ فیس ‘‘ کے سرور میں داخل ہو کے اسے تہہ و بالا کر دیا۔جب کہ اینتھروپک ماڈل کے اے آئی ایجنٹوں نے بھی آزمائش کے دوران تین کمپنیوں کا ڈیٹا ازخود ہائی جیک کر لیا۔اس کا مطلب ہے کہ اے آئی اب انسانوں کی طرح ازخود سوچ کر منصوبہ سازی کے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔
اے آئی کی صلاحیت ٹیسٹ کرنے والی اینتھروپک اور میٹا سمیت متعدد کمپنیوں نے ایسے دیگر ’’ حادثات ‘‘ کا بھی اعتراف کیا ہے۔یہ کمپنیاں اے آئی کے وسیع عمومی استعمال والے عام ماڈیولز سے ہٹ کر اب سپر ماڈیول ٹیسٹ کر رہی ہیں جن کی صلاحیت کے مقابلے میں انسانی ذہن چیونٹی کے دماغ کے برابر ہو گا۔یعنی سپر اے آئی ماڈیول انسانی بقا کے لیے خطرہ بننے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔
والکر ٹرک نے اپنے خطاب میں اے آئی ریسرچ اور آزمائش کے شعبوں میں سیکیورٹی کے معیارات طے کرنے کے لیے حکومتوں اور کمپنیوں سے ہنگامی تعاون کی درخواست کرتے ہوئے یہ سوال بھی کیا کہ اے آئی پر وسیع انحصار والی دنیا میں انسانی حقوق ، روزگار اور جمہوری اقدار کی کیا شکل ہو گی۔
والکر ٹرک کے خطاب کے صرف دو روز بعد اینتھروپک سپر ماڈیول کو ٹرینڈ کرنے والے ایک سرکردہ ڈیٹا ایکسپرٹ جیکب کاکسن نے اس منصوبے سے یہ کہہ کر علیحدگی اختیار کر لی کہ اے آئی کے ایڈوانس ورژن پر کام کرنے والی تجربہ گاہوں میں دراصل ہماری زندگیوں پر جوا کھیلا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں تین برس تک اوپن اے آئی اور اینتھروپک موڈیول ٹرینڈ کرتا رہا ہوں مگر دونوں کمپنیاں ذمے دارانہ رویہ برتنے کے بجائے سپر انٹیلی جینس ماڈل بنانے میں سبقت کی اندھی دوڑ میں مبتلا ہیں۔
جیکب کاکسن نے لکھا کہ ہمیں اے آئی ٹیکنالوجی کو ہلکے میں نہیں لینا چاہیے۔جلد ہی اس کی مدد سے ایسا سپر ہیومن سسٹم وجود میں آنے والا ہے جو ہر سسٹم ہیک کرنے کی صلاحیت کا حامل ہو گا ، کسی بھی شعبے کو راتوں رات اپنی مرضی سے بدل دے گا اور پھر خود اپنی قوت کے بل بوتے پر پھلے پھولے گا۔یعنی انسانی دسترس سے بے نیاز ہو جائے گا۔
کاکسن کا کہنا ہے کہ اس میدان کے جغادری مجمع کے سامنے کتنی ہی لچھے دار گفتگو کر لیں مگر یہی جغادری آپس کی گفتگو میں یکساں فکر مند اور پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ان لوگوں کو مستقبل ِ قریب میں پیش آنے والے خطرات کا بھی پورا ادراک ہے۔وہ چاہیں تو اے آئی کی ترقی کے عمل کو سست کر سکتے ہیں مگر ان میں سے ہر ایک اس دوڑ میں شامل دیگر کمپنیوں اور ممالک کے جیتنے کے خوف سے اپنی رفتار اور تیز کرتا جا رہا ہے۔بالکل سرد جنگ کے زمانے کی طرح جب ہتھیاروں کی دوڑ میں ہر کوئی دوسرے کو نیچا دکھانا چاہتا تھا۔
جیکب کاکسن نے کہا کہ میں نے اس لیے استعفی دیا کہ میں ایسے اے آئی سسٹم کی تشکیل میں حصہ دار نہیں بننا چاہتا جو خود کو خود ہی بہتر یا بد تر بنانے کی صلاحیت کے سبب ایک دن انسان کے ہاتھ سے نکل جائے۔کاکسن سمیت اے آئی کی ترقی سے منسلک ایک ہزار ماہرین نے ایک مشترکہ اپیل میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ جب تک ہم اس ٹیکنالوجی سے جڑے خطروں کو پوری طرح نہ سمجھ لیں اور ان سے نمٹنے کے لیے کوئی متبادل حکمتِ عملی نہ بنا لیں تب تک ہمیں آگے کی پیش رفت کی رفتار انتہائی کم رکھنی ہو گی۔اسی میں سب کی بقا ہے۔
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائدار ہو گا
( اقبال )
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل