Wednesday, September 30, 2026
 

قرضوں کے بوجھ تلے دبی قوم کے لیے حکومت نے مزید قرض لینے کا منصوبہ تیار کرلیا

 



بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے رواں مالی سال 7 ہزار 20 ارب روپے قرض لینے کا منصوبہ بنا لیا جب کہ وزارتِ خزانہ نے 2026ء سے 2028 تک کی 3 سالہ قرض حکمتِ عملی بھی جاری کردی۔ قرضوں کے بوجھ تلے دبی ملکی معیشت کے لیے حکومت نے مزید قرض لینے کا منصوبہ تیار کرلیا، وفاقی حکومت رواں مالی سال بجٹ خسارہ پورا کرنے کیلئے 7 ہزار 20 ارب روپے قرض لے گی۔ مقامی ذرائع سے 6 ہزار 46 ارب اور بیرونی ذرائع سے 813 ارب روپے حاصل کیےجائیں گے،  حکومت نے 2026سے 2028ء تک کی تین سالہ قرض حکمتِ عملی بھی فائنل کرلی۔ رپورٹ  کے مطابق وزارتِ خزانہ نے رواں مالی سال نجکاری سے 161 ارب روپے حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا ہے، مقامی قرضوں میں پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز سے 4 ہزار 580 ارب روپے جب کہ سکوک اور دیگر اسلامی  مالیاتی ذرائع سے 3 ہزار 785 ارب روپےخالص قرض لینے کا منصوبہ ہے، رپورٹ وزارتِ خزانہ  میں کہا گیا کہ حکومت کےمجموعی بیرونی قرضے 13 ارب 37 کروڑ 80 لاکھ ڈالر رہنے کا تخمینہ ہے، جبکہ 10 ارب 57 کروڑ 40 لاکھ  ڈالرکی ادائیگی متوقع ہے، بیرونی ذرائع سے خالص 2 ارب 80 کروڑ 40 لاکھ ڈالرحاصل ہونے کا اندازہ ہے، رواں مالی سال 2 ارب ڈالر کےبانڈز جاری کرنےکا ہدف مقررکیا گیا ہے۔ رپورٹ وزارتِ خزانہ  میں کہا گیا کہ جبکہ 3 ارب ڈالرکا یورو بانڈ پہلے ہی جاری کیا جاچکا ہے، وزارتِ خزانہ کی 3 سالہ حکمتِ عملی کےتحت طویل المدتی فکسڈ ریٹ اورزیرو کوپن بانڈز کے اجرا کو ترجیح دی جائے گی، جبکہ قلیل المدتی اور فلوٹنگ ریٹ والے قرضے محدود رکھے جائیں گے۔ وزارتِ خزانہ نے کہا کہ حکومت آسان شرائط پر طویل المدتی قرضوں، شرعی اصولوں کے مطابق بانڈز اور بینکوں کے علاوہ دیگر سرمایہ کاروں کی شمولیت کوترجیح دے گی، قرض حکمتِ عملی پرعمل درآمد عالمی معاشی حالات، جغرافیائی سیاسی صورتحال اور مالیاتی  نظم و ضبط سے مشروط ہوگا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل