Loading
فلا ئی دبئی کے عمانی معاون پائلٹ نے مبینہ طور پر اسرائیل کے بن گوریون ہوائی اڈے پر طیارہ گرانے کا منصوبہ پہلے ہی بنا رکھا تھا اور تحقیقات کے دوران اس نے بتایا کہ اس نے یہ منصوبہ ایئرلائن میں ملازمت حاصل کرنے سے قبل تیار کیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق گرفتار عمانی معاون پائلٹ نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ وہ جہاز اُڑانے والے پائلٹ کو زخمی کرنے کے بعد طیارے کو خود اُڑاتے ہوئے معمول کے مطابق تل ابیب پہنچانے کا ارادہ رکھتا تھا تاکہ کسی کو شک نہ ہو۔
اُس نے مزید بتایا کہ اسرائیل پہنچنے کے بعد وہ تل ابیب ہوائی اڈے پر کسی عمارت یا کسی دوسرے طیارے سے ٹکرانے کی کوشش کرنا چاہتا تھا۔ ناکامی کی صورت میں تل ابیب کی کسی بلند عمارت یا اردن میں موجود امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کا بھی پلان بی تھا۔
عمانی معاون پائلٹ نے بتایا کہ جون میں اسرائیل کے سفر کے دوران اس نے مبینہ طور پر حملے کی تیاری اور معلومات جمع کرنے پر توجہ مرکوز کی اور وہ اپنے منصوبے پر جولائی میں ہی عمل درآمد کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔
اُس نے مزید بتایا کہ تاہم آخری وقت میں منصوبہ مؤخر کردیا کیونکہ عملے کے ایک رکن سے اس کی دوستی تھی۔ پھر 30 ستمبر کی دبئی سے اسرائیل جانے والی فلائی دبئی کی پرواز میں موقع مل گیا۔
خیال رہے کہ عمانی معاون پائلٹ نے ہتھوڑے سے اپنے سینیئر پائلٹ پر حملہ کیا اور جہاز پر قابو پانے کی کوشش کی تاہم زخمی پائلٹ کسی طرح کاک پٹ کا دروازہ کھولنے میں کامیاب ہوگیا جس سے مسافر اندر داخل ہوگئے اور اسے پکڑ لیا۔
زخمی پائلٹ نے بعد میں اسرائیلی وزیراعظم کو بتایا کہ حملے سے چند منٹ قبل معاون پائلٹ نے نماز پڑھنے کی اجازت مانگی تھی اور پھر عقب سے آکر مجھ پر تیز دھار آلے سے حملہ کیا۔
یاد رہے کہ گرفتار 29 سالہ عمانی شہری کے بارے میں اب تک جو معلومات ملی ہیں ان کے مطابق اس کی والدی عمانی اور والدہ شامی ہیں جب کہ اس کی پیدائش متحدہ امارات میں ہوئی اور وہی پلا بڑھا جب کہ وہ القاعدہ سے متاثر اور انتہا پسند خیالات رکھتا ہے اور خواتین سے کتراتا ہے۔
فلائی دبےئی سے قبل اس نے عمانی ایئرلائن میں بھی کام کیا تھا جہاں اس کے متشدد خیالات کے باعث اسے پرواز اُڑانے سے روک دیا گیا تھا اور صرف انتظامی امور کی ذمہ داریاں دی تھیں۔
تاہم حیران کن طور پر وہ نہ صرف فلائی دبئی میں ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب رہا بلکہ اس نے اسرائیل جانے والی پرواز میں بھی بطور معاون پائلٹ جگہ بنالی۔ یہ واضح نہیں کہ وہ ایسا کرنے میں کیسے کامیاب ہوا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل