Loading
فرانس میں اسکولوں کے خراب حالات کے خلاف جاری طلبہ احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے داغا گیا دستی بم اٹھانے والے 15 سالہ طالب علم کا ہاتھ دھماکے سے اڑ گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق واقعہ پیر کو شمالی شہر لینس میں پیش آیا جہاں طالب علم نے مبینہ طور پر ہنگامہ آرائی پر قابو پانے کے لیے پولیس کی جانب سے پھینکا گیا دستی بم اٹھایا تھا۔
پولیس یونین کے ایک ذریعے نے بتایا کہ یہ ایسا دستی بم تھا جس کا مقصد ہجوم کو منتشر کرنا تھا تاہم وہ سڑک پر گرنے کے بعد پھٹ نہیں سکا تھا اور جیسے اُسے ایک طالبعلم نے اُٹھایا بم اس کے ہاتھ میں پھٹ گیا۔
یاد رہے کہ فرانس بھر میں طلبا ستمبر کے آخر سے احتجاج کر رہے ہیں۔ مظاہرین اساتذہ کی کمی، ضرورت سے زیادہ تعلیمی اوقات، خستہ حال کلاس رومز اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے لیے ناموزوں اسکول عمارتوں کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔
وزارت تعلیم کے مطابق پیر کی صبح ملک کے 3 ہزار 700 ہائی اسکولوں میں سے 400 سے زائد جزوی یا مکمل طور پر بند رہے۔ دارالحکومت پیرس کے اطراف میں 468 اسکولوں میں سے تقریباً ایک تہائی کے بند رہنے کی توقع تھی۔
شمالی شہر میں نقاب پوش مظاہرین نے بس اسٹاپ تباہ کیے اور کچرے کے ڈبوں کو آگ لگا دی جس پر پولیس نے آنسو گیس استعمال کی۔ دیگر شہروں میں بھی پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔
پولیس حکام نے بتایا کہ احتجاج کے دوران اب تک 24 اسکولوں کو نقصان پہنچا یا انھیں نذرآتش کیا جاچکا ہے جبکہ 5 ہزار سے زائد افراد گرفتار ہوئے جن میں 85 فیصد کی عمریں 14 سال سے کم ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل