Wednesday, October 07, 2026
 

چیف الیکشن کمشنر سمیت آئینی تقرریوں میں اپوزیشن لیڈر رکاوٹ ہیں، وفاقی وزیر

 



وفاقی وزیرپارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر سمیت آئینی تقرریوں میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی رکاوٹ ہیں جبکہ وزیراعظم نے دو مرتبہ رابطہ کیا مگر ملاقات سے انکار کر دیا گیا۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرریاں آئینی معاملہ ہیں، تاہم اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اس عمل میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے دو مرتبہ ان سے رابطہ کیا لیکن انہوں نے ملاقات سے انکار کر دیا، اپوزیشن لیڈر اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا نہیں کر رہے اور اس معاملے پر بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرانے پر بضد ہیں، پاکستان میں آئینی عہدوں پر تقرریوں کا اختیار کسی سزا یافتہ شخص کے پاس نہیں ہو سکتا۔ وفاقی وزیرپارلیمانی امور نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی وفاق کے ساتھ تعاون نہ کرنے کا برملا اعلان کر رہے ہیں، ان کا طرز عمل صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کی راہ ہموار کر رہا ہے، آئین کے تحت وزیراعلیٰ کو حاصل اختیارات سہیل آفریدی کو بھی حاصل ہیں، تاہم اگر ان کے رویے میں تبدیلی نہیں آئی تو پیدا ہونے والی صورت حال کے ذمہ دار وہ خود ہوں گے۔ وزیرپارلیمانی امور نے واضح کیا کہ اسلام آباد پر کسی بھی صورت چڑھائی نہیں کرنے دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں صوبائی حکومت کی عمل داری نہیں ہے اور وزیراعلیٰ کو قومی سلامتی سے متعلق معاملات سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے صوبائی حکومت کو خود اقدامات کرنے چاہئیں لیکن صورتحال یہ ہے کہ وفاق اقدامات کرنا چاہتا ہے جبکہ صوبائی حکومت تعاون سے انکار کر رہی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت اور دیکھ بھال کے لیے بہترین ممکنہ اقدامات کر رہی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل