Loading
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ مسلط ذہنیت ہم سے کے پی میں ایک اور آپریشن کرانا چاہتی ہے مگر جب تک وزیراعلیٰ ہوں خیبرپختونخوا میں فوجی آپریشن نہیں ہونے دوں گا۔
ضلع خیبر میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں دوبارہ کوئی فوجی آپریشن نہیں ہونے دوں گا، جب تک وزیراعلیٰ ہوں عوام مخالف ہر پالیسی کی مزاحمت کروں گا، گزشتہ روز کے مذاکرات سیاسی نوعیت کے تھے، مسلط ذہنیت ہم سے ایک اور فوجی آپریشن پر دستخط کرانا چاہتی تھی، میں کبھی اس پالیسی کا حصہ نہیں بنوں گا۔
انہوں نے کہا کہ وادی تیراہ کے عوام کو شدید سردی میں بے گھر کیا گیا، ان لوگوں کو عوام کی مشکلات کا کیا احساس؟ فوجی آپریشنز سے پہلے قبائلی عوام خوشحال تھے، 2004ء میں عمران خان نے فوجی آپریشنز کی مخالفت کی تھی، قبائلی خاندانوں کی آبادکاری کے لیے وفاق کی جانب سے فی گھرانہ 4 لاکھ روپے مختص کرنا ناقابل فہم ہے، جن کی بیویوں کے پرس کی قیمت 4 لاکھ سے زیادہ ہے وہ قبائلی خاندانوں کی آبادکاری کے لیے صرف 4 لاکھ دیتے ہیں، کیا ہم کیڑے مکوڑے ہیں؟ قبائلی عوام کے ساتھ یہ سلوک اب مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے فوجی آپریشنز سے متاثرہ بے گھر افراد کے لیے 21 ارب روپے دیے، یہ کہتے ہیں کہ خیبر پختونخوا حکومت تعاون نہیں کر رہی، بلوچستان حکومت تعاون کر رہی ہے تو وہاں امن کیوں نہیں؟ یہ بات واضح ہے کہ ان کی یہ پالیسی امن کے لیے نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے قبائلی عوام کو شناخت اور عزت دی، 78 سال بعد وزیراعلیٰ کا منصب قبائلی عوام کو ملا ہے، عمران خان کی دی ہوئی عزت کی حفاظت کرنا جانتے ہیں، 2018 میں قبائلی اضلاع کو خیبرپختونخوا میں ضم کیا گیا مگر مالی انضمام سے انکار کیا جا رہا ہے، انضمام کے بعد وفاقی حکومت کے ذمے قبائلی اضلاع کے ہر سال 100 ارب روپے واجب الادا ہیں۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ لانگ مارچ میں عوام کی غیر معمولی شرکت بے مثال ہے، لانگ مارچ صوابی تک جائے گا، وہاں آئندہ کا لائحہ عمل دوں گا، صوابی پہنچنے پر پوری قوم وہاں موجود ہوگی، عمران خان پاکستانی عوام کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں، ہم ہر قیمت پر اپنا حصہ ڈالیں گے، میں نے اپنا مقدمہ عوام کے سامنے رکھ دیا، اب فیصلہ عوام نے کرنا ہے کہ وہ میرے ساتھ ہیں یا ان کے ساتھ جنہوں نے ان کے گھر، حجرے اور مساجد تباہ کیے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل